Daily Mashriq

تعلیمی زبوںحالی کے اسباب

تعلیمی زبوںحالی کے اسباب

تعلیم اور سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کسی بھی ملک کی ترقی اور عام لوگوں کی سماجی اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہا ہوتا ہے۔ آج وہی قومیں کامیابیوں اور کا مرانیوں کے جھنڈے گاڑ رہی ہیں جو تعلیم اور سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں آگے ہیں۔اس ضمن میں ہم امریکہ، بر طانیہ، فرانس اور دیگر کئی ترقی یافتہ ممالک کی مثالیں دے سکتے ہیں اور کہہ سکتے ہیں کہ ان ممالک نے دور جدیدکی تعلیم میں نمایاں مقام حا صل کیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ آجکل وہ دنیا میں قوموں کی برادری میں سرفراز ہیں۔میں سکالروں کی اس رائے سے سو فی صد متفق ہوں کہ اگر ملک کو ترقی کے راستے پر چڑھانا ہو تو اُس ملک میں تعلیم کو عام کرنا اور اس پر خرچ کرنا ہوگا۔پاکستان میں تعلیم کی ترویج اور فروغ پر بُہت کم خرچ کیا جا رہا ہے مگر پھر بھی ما ضی کے مقابلے میں پاکستان کی حالت قدر بہتر ہے ْ جہاں تک میرا تجزیہ ہے تعلیمی معیار گر گیا ہے اور بتد ریج گرر ہا ہے۔ میںاس بات کوسمجھنے سے قاصر ہوں کہ موجودہ دور میں میٹرک، ایف اے، ایف ایس سی، انجینئر نگ اور دوسرے پیشہ ورانہ کالجوں کے طالب علم بے تحا شا نمبر لیتے ہیںمگر یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ اُن میں نمبروں کے لحا ظ سے وہ اہلیت اور قابلیت نہیں ہوتی جو اُن میں ہونی چاہئے۔اب سوال یہ ہے ۔کیا طالب علم دل لگا کے نہیں پڑھتے ؟ کیا اس نظام میں اُستاد کوجو رول ادا کرنا چاہئے وہ ادا نہیں کرتا؟ اور یا ملک میں تعلیم زبوں حالی کا شکار ہے؟۔فیڈرل پبلک سر وس کمیشن کے 2016 کے نتائج میرے سامنے ہیں ۔ سی ایس ایس یعنی ملکی سطح پر مختلف خالی آسامیوں کے امتحان میں کل 12176 اُمیدوار شریک ہوئے اور ان میں صرف 238 مختلف اداروں میں تقرری کے لئے منتخب ہوئے اوراس طرح انکی کامیابی کی شرح 1.95فی صد رہی۔سال 2014 میں سی ایس ایس میں کل 13170 اُمیدواروں نے امتحان دیا تھا اور ان میں439 تقرری کے لئے منتخب ہوئے اور نتیجہ 3.3فی صد رہا۔سال 2012 میں سی ایس ایس میں کل14336امیدوار شریک ہوئے اور ان میں تقرری کے لئے صرف 788منتخب ہوئے اور اس طرح کامیابی کی شرح 7.8فی صد رہی۔کے پی کے سے غالباً صرف ٢٢ اُمیدوارمنتخب ہوئے ہیں۔اگر ہم مندرجہ بالا نتائج پر نظر ڈالیں تو اس سے یہ با ت ظاہر ہوتی ہے کہ ملک میں کالجوں ، سکول اور یونیور سٹیوں کے باوجود بھی تعلیمی نظام انحطاط پذیر ہے۔یا تو بات یہ ہے کہ ملک میں مختلف اداروں میں خالی اسامیاں نہ ہونے کی وجہ سے زیادہ تعداد میں اُمیدواروں کو پاس نہیں کیا جاتا اور یا طالب علم اُس لیول کے نہیں جو سی ایس ایس کی ڈیمانڈ ہے۔ بہرحال بات جو بھی ہے طالب علم اُس انہماک اور جانفشانی سے سٹڈی نہیں کرتے جو وہ ماضی میں کرتے رہے۔گزشتہ دنوں طالب علموں کی استعداد کار کے بارے میں ایک رپورٹ پڑھ رہا تھا اس سروے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں طالب علموں کی استعداد کار میں روزانہ 3 گھنٹے کمی واقع ہوئی اور طالب علم وہ وقت جو ماضی میں نفع بخش کاموں میں صرف کرتے رہے وہ ابھی غیر نفع بخش کاموں میں صرف کرتے ہیں۔چونکہ میرا تعلق بھی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی تعلیم و تربیت کے میدان سے ہے اور میرے ذمے بھی انجینئر نگ، ایم ایس سی، ایم ایس اور پی ایچ ڈی لیول کے طالبعلموں کی رہنمائی کی ذمہ داری ہے اور اس وقت میں تقریباً26یونیور سٹوں کے طالب علموں کو ڈیل کر رہا ہوں مگر بد قسمتی سے ان میں زیادہ تر طالب علموں کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ سیکھنے کے بجائے سرٹیفیکیٹ لینے یا ڈگری حا صل کر نے کی کوشش کی جائے۔اگر مزید تجزیہ کیا جائے تو موبائل فون ، انٹر نیٹ اور کیبل کے بے تحاشا استعمال نے ہمارے بچوں بچیوں کو تعلیم اور لائبریریوں سے دور کیا اور اب بچے تعلیم حا صل کرنے کے بجائے ڈگری لینے کے چکر میں ہوتے ہیں۔اور یہی وجہ ہے کہ بچے اور بچیاں ڈگری تو لے لیتے ہیں مگر اُن میں وہ تخلیقی صلاحیتیں نہیں ہوتی جو کسی اچھے پڑھے لکھے کی شان ہوتی ہے۔ آجکل ہمارے طالب علم ساری ساری رات موبائل فونز پر پیکج لگا کر فضول باتوں اور انٹر نیٹ کے ساتھ فیس بک اور دوسرے لغویات میںمصروف ہوتے ہیںلہذا اُنکو یہ بات سمجھ جانی چاہئے کہ اُنکی زندگی کا مقصد اس قسم کی فضول سر گر میوں میں وقت ضائع کرنا نہیں بلکہ دل سے پڑھائی کرکے اچھا انجینئر ڈاکٹر استاد اور انسان بننا ہے ۔ انسان کامقصد تخلیق دنیا میں نیک کاموں اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے ہے لہذاء اس کالم کی وساطت سے میری طالب علموں سے گزارش ہے کہ وہ اپنے قیمتی وقت کو مُثبت سر گر میوں پر صرف کریں۔حکومت کو بھی چاہئے کہ وہ تعلیم یافتہ نوجوانوںکو ملک کے مختلف اداروں ،میں ایڈجسٹ کرنے کے لئے اقدامات کرے۔ کیونکہ یہی نوجوان اُس وقت تک اپنے علم اور تجربے سے ملک اور قوم کی خدمت نہیں کر سکتے جب تک اُنکے پاس بھر پور مواقع نہ ہوں۔

اداریہ