پاک بھارت ٹوٹتا ہوا سیز فائر

پاک بھارت ٹوٹتا ہوا سیز فائر

2003ء میں ایک طرف پاکستان اور بھارت کی بین الاقوامی سرحد پر ملٹری بلڈ اپ عروج پر تھا وہیں کنٹرول لائن اور ورکنگ بائونڈری پر گولہ باری اور فائرنگ کا سلسلہ زوروں پر تھا جس کے نتیجے میں روزانہ بے گناہ اور معصوم شہری شہید اور زخمی ہو رہے تھے ۔اس دوران پاکستان کے وزیر اعظم میرظفر اللہ جمالی نے اچانک ٹی وی پر نمودار ہو کر یک طرفہ سیز فائر کا اعلان کر دیا تھا۔بظاہر تو یہ اعلان یک طرفہ تھا مگر اس کے پیچھے امریکہ اور عالمی طاقتوں کا دبائو اور ٹریک ٹو ڈپلومیسی کے کئی ادوار تھے۔پاکستان کے اعلان کے ساتھ ہی بھارت نے بھی اپنی فوجیں سرحدوں سے ہٹانا شروع کی تھیں اور سول آبادی پر فائرنگ کا سلسلہ رک گیا تھا۔قریباََ تیرہ برس بعد بھارتی فوج نے ایک بار پھر کنٹرول لائن اور ورکنگ بائونڈری کے قریب سول آبادی کو وحشیانہ گولہ باری کا نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع کردیا ہے جو دونوں ملکوں کے درمیان خوفناک کشیدگی کا پتا دے رہا ہے۔بھارتی فائرنگ سے کئی سیاح اور مقامی افراد بھی زخمی ہوئے ہیں ۔ حالات معمول پر آنے تک سیاحوں کو وادی کا رخ نہ کرنے کی ہدایات جا ری کر دی گئی ہیں ۔عوام نے محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی شروع کر دی ہے ۔تعلیمی ادارے اور بازار بند ہیں اور ماحول پر خوف وہراس کا راج ہے۔بڑی مدت اور جاں جوکھوں کے بعد حاصل ہونے والی موبائل سروس بندہو گئی ہے ۔بھارت نے وادی نیلم میں پاک فوج کی چوکی کو اُڑانے کا دعویٰ کیا تھا جسے پاک فوج نے مسترد کر دیا ہے۔ بھارتی فوج کی طرف سے جنگلات میں آگ لگانے والے گولے پھینک کر جنگل کو خاکستر کیا جارہا ہے ۔ حکومت پاکستان بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنرکو دفتر خارجہ طلب کرکے شدید احتجاج کرچکی ہے۔پاکستان بھارتی توپوں کو ٹھنڈا کرنے کے لئے جوابی کارروائی کر رہا ہے مگر ایک بڑی مشکل مقبوضہ کشمیر کی سویلین آبادی ہے ۔پاکستان کے لئے اس سویلین آبادی کا نقصان ایک تکلیف دہ معاملہ ہے ۔مقبوضہ کشمیر اسمبلی کے رکن انجینئررشید نے بھی کہا ہے کہ پاکستان ہمیشہ کشمیریوں کا ہمدرد رہا ہے اور پاکستانی فوج کو گولہ باری کرتے ہوئے احتیاط سے کام لینا ہوگا۔انجینئر رشید کی بات بڑی حد تک درست ہے مگر جنگ کی کیفیت میں ایک حد تک ہی معاملات پر کنٹرول رکھا جا سکتا ہے ۔بھارتی فوج تو جان بوجھ کر مقبوضہ علاقے کی آبادی کو ہیومن شیلڈ کے طور پر استعمال کر رہی ہے ۔ان کے لئے مقبوضہ کشمیر کے ایک عام شہری کی شہادت ایک باغی کی ہی موت ہے کیونکہ اس وقت پوری کشمیری قوم بھارت کے خلاف اُٹھ کھڑی ہوئی ہے۔اس طرح تیرہ برس بعد عملی طور پاکستان اور بھارت کی افواج کے مابین ہونے والی جنگ بندی ٹوٹ چکی ہے۔اسلام آباد میں یورپی یونین کے سفیر جین فرانکوئس نے میڈیا کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاک بھارت تنائو کم کرنے کے لئے کوششیں کر رہے ہیں۔کشمیر کا مسئلہ بھی سٹیک ہولڈرز کے ساتھ اُٹھا رہے ہیںلیکن ہمارا کام نظر نہیں آتا۔دونوں ملک تنازعہ کے حل کے لئے مذاکرات کریں۔یورپی یونین کے ان خیالات سے جنوبی ایشیا کی کشیدہ صورت حال کے بارے میں عالمی طاقتوں ،تنظیموں اور اداروں کی عدم دلچسپی عیاں ہے۔یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ یورپی ممالک اس وقت امریکہ کے زیر اثر ہیں اور امریکہ پاک بھارت معاملات میں اب ماضی کی طرح غیر جانبدار نہیں رہا بلکہ بیشتر امور پر ایک واضح لائن اختیار کرچکا ہے ۔یہ لائن'' اگر مگر ''کے ساتھ بھارت کی حمایت کی طرف ہی جا نکلتی ہے۔امریکہ بھارت کو اپنا سٹریٹجک پارٹنر بنا چکا ہے اور اس کے تمام سیاہ کرتوتوں کی پردہ پوشی کو اپنا فرض جان رہا ہے۔اس سے امریکہ کی پوزیشن بہت خراب ہو چکی ہے ۔پاکستان میں امریکہ کی کوششوں کو شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے ۔اقوام متحدہ پر بھی مجموعی طور امریکہ کی ہی چھاپ اور اثرو رسوخ ہے۔اس کا عکس اقوام متحدہ کی پالیسیوں میں جھلکتا ہے۔حالات یہ ہیں جنوبی ایشیا ایک خوفناک کشیدگی کا شکار ہے ۔خطے کی دوایٹمی طاقت کی حامل افواج آمنے سامنے ہیں ۔ورکنگ بائونڈری اور کنٹرول لائن پر دو طرفہ تصادم کا سلسلہ جاری ہے ۔آئے روز جانی ومالی نقصان ہو رہا ہے ۔بھارتی فائرنگ سے سول آبادی بھی نشانہ بن رہی ہے۔دونوں ملکوں کے سفارت کار شدید دبائو میں ہیں ۔دہلی میں پاکستانی سفارت کاروں کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔پاکستان دہلی میں اپنے ہائی کمیشن کے عملے کو واپس بلانے کی سوچ وبچار کر رہا ہے ۔اب یہ انکشاف ہوا کہ اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن میں سفارت کاروں کے روپ میں بلبیر سنگھ اور راجیش کمارسمیت کئی ایسے افراد براجمان ہیں جو پاکستان میں دہشت گردی کا نیٹ ورک چلا رہے ہیں۔ ان لوگوں کے کئی دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ باضابطہ روابط قائم ہیں۔ان افراد کی نشاندہی کے بعد پاکستان ان افراد کو ناپسندیدہ قرار دے کر واپس بھیج سکتا ہے۔سفارتی کور کی وجہ سے ان افراد کو گرفتار کرنا ممکن نہیں۔دوسری طرف مقبوضہ کشمیر میں بھارت کا ظلم وستم جاری ہے ۔چار ماہ ہونے کو ہیں مگر بھارتی فوج کی ظالمانہ پالیسیاں جا ری ہیں ۔گزشتہ ماہ میں سترہ افراد شہید کئے جا چکے ہیں۔اس وقت تین سو افراد بینائی سے محروم ہو کر رہ گئے ہیں۔پیلٹ گن کا استعمال بدستور جا ری ہے۔دوایٹمی طاقتوں کے درمیان جاری یہ کشیدگی عالمی طاقتوں اور اداروں کے نرم اور ٹھنڈے ردعمل کی بجائے فوری کوششوں کی متقاضی ہے ۔

متعلقہ خبریں