جگت بازی تمام مسائل کا حل ہے

جگت بازی تمام مسائل کا حل ہے

اب یہی دیکھیے کہ دنیا کے دوسرے بڑے شپ بریکر سنٹر گڈانی کے ساحل پر لائے جانے والی آئل ٹینکر میں لگی آگ سے دو درجن مزدوروں کی ہلاکت کے اسباب جاننے اور ان جیسے سینکڑوں مزدوروں کو بنیادی حفاظتی اور پیشہ ورانہ سہولتوں کی عدم فراہمی پر کڑے اقدامات اور ازالے سے نہ حکومت کو دلچسپی ہے اور نہ ہی میڈیا کے ایک بڑے حصے کو۔

بلکہ نااہلیت کی بنیادی خرابی کے تدارک سے توجہ ہٹانے کے لیے جو درفنتنیاں چھوڑی جا رہی ہیں ان میں کثیرالاشاعت اردو اخبارات میں شائع ہونے والی یہ خبر بھی ہے کہ اس جہاز کو 19 رکنی بھارتی عملہ 22 اکتوبر کو گڈانی کے ساحل پر چھوڑ کر اسی دن روانہ ہوگیا (یعنی آگ لگنے کا سبب یہ ہے)۔

بھارتی اور پاکستانی پنجاب میں سردیوں میں دھند چھانا ایک معمول کی بات ہے۔ گذشتہ چند برس سے ماحولیاتی تبدیلیوں کے سبب اس دھند کا دورانیہ سال بہ سال بڑھ رہا ہے۔

دلی سے امرتسر اور لاہور تا گجرات کی زرعی و صنعتی بیلٹ میں ہزاروں کارخانے ہر سال لاکھوں ٹن آلودگی فضا میں بکھیرتے ہیں۔

سرحد کے دونوں جانب لاکھوں کسان فصل کی کٹائی کے بعد زمین کو جھاڑ جھنکاڑ سے صاف کرنے کے لیے آگ لگانے کا سستا طریقہ استعمال کرتے ہیں چنانچہ دھند میں آلودہ ذرات کی آمیزش کے سبب اب سموک اور فوگ کے ملاپ سے سموگ نامی خچر پیدا ہوگیا ہے جس کی دولتیوں سے کروڑوں لوگوں کی صحت زخمی ہو رہی ہے۔

پاکستانی سوشل میڈیا پر امریکی خلائی ادارے ناسا کی ایک سیٹلائٹ تصویر چھائی ہوئی ہے جس کے مطابق بھارتی پنجاب میں زرعی زمین کو ڈنٹھلوں اور گھاس پھونس سے صاف کرنے کی خاطر آگ لگانے کے نتیجے میں فضا میں سموگ کی مقدار بڑھ گئی ہے۔

اس تصویر کی بنیاد پر ثابت کیا جارہا ہے کہ سموگ بھی ایک سوچی سمجھی بھارتی سازش ہے مگر یہ عجب سازش ہے جس کے نتیجے میں صرف پاکستانی پنجاب ہی نہیں دلی، ہریانہ اور بھارتی پنجاب بھی سموگ کی لپیٹ میں ہیں

پاکستان