Daily Mashriq

یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے!

یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے!

نانی اماں کہا کرتی تھیں کہ حشرات اور چھپکلیاں، دیوالی کے دیے چاٹ کر غائب ہو جاتے ہیں اور ہولی پھنکتے ہی باہر نکل آتے ہیں۔ وہ چھپکلیاں بھی غالباً گنگا جمنی تہذیب کی پروردہ تھیں، بندھے ٹکے اصولوں پہ چلا کرتی تھیں۔

پھر جب سیاست کی چھری نے تہذیب کی کھال اتارنا شروع کی تو چھپکلیاں بھی چکرا گئیں اور انہیں سرمائی نیند کی ادا بھول گئی۔ اب تو دسمبر کے کڑکڑاتے جاڑوں میں بھی اکا دکا چھپکلی نظر آجاتی ہے۔

٭ 'خشک موسم میں زہریلے ذرات تحلیل نہیں ہو سکے'

کچھ ایسا ہی حال پودوں اور درختوں کا ہوا۔ پچھلے سال میں نے جنوری میں ایک آم کے درخت کو بور سے لدا ہوا دیکھا۔ کئی سال سے ساون بھادوں سوکھے ہی گزر جاتے ہیں۔ اسّو میں سیلاب آجاتے ہیں۔

اس سال آلو کی کاشت کا موسم آیا جو پانچ اکتوبر سے شروع ہوتا ہے، مگر درجۂ حرارت مطلوبہ حد تک کم نہ ہونے کے باعث، پہلے تو کسانوں نے انتظار کیا، محکمہ زراعت اور موسمیات اس دوران کسی ضروری کام سے سوتے رہے۔ آخر اپنی عقل لڑا کے رات کے دوسرے پہر سے سورج چڑھنے تک بیجائی کی گئی۔

اس دوران دھان کی کٹائی مکمل ہو گئی۔ گندم اور پچھیتے آلو کی کاشت کے لیے زمین بنانے کی خاطر دھان کے وڈھ (ٹھنٹھ) کو آگ لگائی گئی۔ سرحد کے ادھراور ادھر ہزاروں ایکڑ کھیت جلائے گئے۔

یہ آگ ہر برس ہی لگائی جاتی ہے مگراس برس یوں لگا کہ یہ دھواں ٹھہر گیا ہے۔ مشرقی اور مغربی پنجاب کے بہت سے شہروں پہ ایک بددعا کی طرح معلق یہ دھواں کیا ہے؟

غلغلہ مچا کہ دیوالی پہ کی گئی آتش بازی کا شاخسانہ ہے۔ ہماری دوست اور 'ڈان' کی کالم نگار،'زہرہ ناصر' کا کہنا ہے کہ یہ 'ایشین براؤن کلاؤڈ' ہے۔ جس کی وجہ صنعتی آلودگی ہے۔ کچھ دوستوں نے اسے قربِ قیامت کی نشانی بتایا۔ کوئی دور کی کوڑی لایا کہ ہندوستان نے کوئی کیمیائی ہتھیار چلایا ہے۔

پاکستان