’دہشت گردوں کا علاج، سیاسی رہنماؤں پر فرد جرم عائد

’دہشت گردوں کا علاج، سیاسی رہنماؤں پر فرد جرم عائد

کراچی میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے دہشت گردوں اور ٹارگٹ کلرز کو علاج معالجے کی سہولت فراہم کرنے کے الزام میں سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر عاصم حسین، کراچی کے میئر وسیم اختر، پاک سرزمین پارٹی کے رہنما انیس قائم خانی، ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی رؤف صدیقی اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما قادر پٹیل پر فرد جرم عائد کردی ہے۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت کی جج خالدہ یاسین نے مقدمے کی سماعت کے موقعے پر ڈاکٹر عاصم حسین کو وہیل چیئر پر جناح ہسپتال سے عدالت میں پیش کیا گیا، جبکہ وسیم اختر، قادر پٹیل اور عثمان معظم کو جیل لایا گیا۔

اسی مقدمے میں ضمانت پر رہائی حاصل کرنے والے انیس قائم خانی اور رؤف صدیقی بھی اپنے وکلا کے ہمراہ پیش ہوئے۔

عدالت نے ملزمان کو فرد جرم پڑھ کر سنائی کہ انھوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پولیس کے ساتھ مقابلوں میں زخمی ہونے والے دہشت گردوں اور ٹارگٹ کلرز کا رعایتی نرخوں پر ضیاالدین ہسپتال میں علاج معالجے کی سہولت فراہم کی۔

تمام ملزمان نے صحت جرم سے انکار کردیا، جس کے بعد عدالت نے مقدمے کے مفرور ملزم سلیم شہزاد کو اشتہاری قرار دیکر استغاثہ کو ڈاکٹر عاصم حسین، وسیم اختر، انیس قائم خانی اور دیگر ملزمان کے خلاف گواہوں کو 16 نومبر کو پیش کرنے کی ہدایت کی۔

اس موقعے پر ڈاکٹر عاصم حسین نے عدالت سے مخاطب ہوکر کہا کہ ان کے خلاف جھوٹا مقدمہ بنایا گیا ہے، انھوں نے کوئی بھی جرم نہیں کیا ہے اور جنھوں نے یہ کیا ہے ان کے خلاف بھی مقدمہ دائر کیا جائے۔

عدالت نے وسیم اختر اور عبدالقادر پٹیل کی درخواست ضمانت کی بھی سماعت کی۔

ان کے وکلا کا کہنا تھا کہ مقدمے کے تفتیشی افسر نے تحقیقات میں الزامات کو مسترد کرتے ہوئے تمام ملزمان کو بری الذمہ قرار دیا تھا اور مقدمہ خارج کرنے کی درخواست کی تھی لیکن اس کو تسلیم نہیں کیا باوجود اس کے ملزمان کے خلاف کوئی بھی ثبوت دستیاب نہیں۔

متعلقہ خبریں