بچوں کی ایپس پر جنک فوڈ کے اشتہارات بند کریں: ڈبلیو ایچ او

بچوں کی ایپس پر جنک فوڈ کے اشتہارات بند کریں: ڈبلیو ایچ او

صحت کے عالمی ادارے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے کہا ہے بچوں کو موبائل ایپس، سوشل میڈیا اور ویڈیو بلاگز پر آنے والے 'جنک فوڈ' کے اشتہارات سے دور رکھنا ضروری ہے۔

ادارے کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ والدین کو اندازہ ہی نہیں کہ بچوں کو ہدف بنا کر اس قسم کے کتنے زیادہ اشتہارات ان میڈیمز پر شائع اور نشر کیے جاتے ہیں۔

عالمی ادارۂ صحت کی اس رپورٹ میں اس طریقۂ کار کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے جس میں جنک فوڈ فروخت کرنے والے اپنی اشیا کی تشہیر کے لیے ویڈیو بلاگرز (ولاگرز) کو رقم دیتے ہیں۔

اس رپورٹ میں ایک امریکی جائزے کا حوالہ دیا گیا ہے جس کے مطابق ولاگرز کسی برانڈ کی تشہیر کے لیے فلم یا ٹی وی کے اشتہار کے مقابلے میں زیادہ اثر رکھتے ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پوکیمون گو جیسی نیم حقیقی گیمز میں بھی فاسٹ فوڈ کی مشہور دکانوں کا استعمال تشویش کا باعث ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے ڈاکٹر جواؤ بریڈا نے بی بی سی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'چیزیں تیزی سے ڈیجیٹل ہوتی جا رہی ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ ضابطۂ کار کے موجودہ نظام میں خلا ہے جو ہمارے بچوں کی ضروریات سے مطابقت نہیں رکھتا۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'ہم جانتے ہیں کہ یہ بڑا مسئلہ ہے لیکن والدین کو اس کا احساس نہیں ہے۔ بعض اوقات انھیں پتہ ہی نہیں چلتا کہ ان کے بچے کو کس چیز کا سامنا ہے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ روایتی میڈیا سے کہیں زیادہ خطرناک ہے

سائنس