Daily Mashriq


ایپل کی پرانی اور نئی مصنوعات کا ملن آسان نہیں رہا

ایپل کی پرانی اور نئی مصنوعات کا ملن آسان نہیں رہا

حال میں امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل کی جانب سے نئے میک بک لیپ ٹاپ کو متعارف کروانے کی تقریب کے بعد ٹوئٹر پر ایک شخص نے بہت دلچسپ بات کی طرف اشارہ کیا۔ انھوں نے باور کروایا کہ اب ایپل 17 قسم کے ڈونگل فروخت کرتا ہے!

ایپل کی کوشش ہے کہ آلات کو منسلک کرنے والے پرانے پورٹس کو ختم کر کے نئے تیز پورٹس استعمال کیے جائیں اسی لیے ایپل کے جدید ترین لیپ ٹاپ کمپیوٹرز میں ایس ڈی پورٹ، بڑے سائز کا یو ایس بی پورٹ یا ایچ ڈی ایم آئی پورٹ موجود نہیں۔

ان سب کی جگہ ایپل نے ایک چھوٹے سائز کی یو ایس بی سی پورٹ متعارف کروا دی ہے لیکن اب صارفین کو اپنے پرانے آلات استعمال کرنے کے لیے ڈونگل خریدنے پڑیں گے تاکہ وہ ایپل کا جدید ترین کمپیوٹر استعمال کر سکیں۔

کمپنی کو اس بات کا احساس ہے کہ بہت سے لوگوں کے لیے یہ تبدیلی مشکل ہے اسی لیے اس نے 2016 کے آخر تک اپنے تمام ڈونگلز کی قیمت میں انتہائی کمی کر دی ہے۔

مگر سوال ہے کہ اب اپنے آلات کو استعمال کرنے کے لیے تاروں کے اس ڈھیر کا استعمال کون کرے گا؟

ایک ایسی کمپنی جس کا ہمیشہ سے دعویٰ ہے کہ ان کے آلات پیچیدہ نہیں ہوتے اور بس کام کرتے ہیں، اتنے ڈونگلز اور تاروں کی وجہ سے معلوم ہوتا ہے کہ شاید ان کی حکمتِ عملی تذبذب کا شکار ہو چکی ہے۔

ڈونگلز کے گم ہونے یا ٹوٹ جانے کے خدشات بھی صارفین کے لیے ایک مسئلہ ہوتے ہیں تاہم مستقبل قریب میں تو ایسا لگتا ہے کہ دنیا بھر میں میک بک لیپ ٹاپ کے صارفین تاروں کا ایک جال لیے پھر رہے ہوں گے۔

مگر اگر ماضی کا جائزہ لیا جائے تو معاملہ اتنا پیچیدہ نہیں ہے۔ ایپل نے کئی بار ایسے فیصلے کیے ہیں جو کہ ابتدا میں شاید غیر مقبول ہوتے ہیں تاہم آہستہ آہستہ پوری صنعت ایپل کی پیروی ہی کرتی ہے۔

ماضی میں ایپل ایتھرنیٹ پورٹ اور سی ڈی، ڈی وی ڈی، سب کو ختم کرنے والی سب سے پہلی کمپنی تھی اور ان کے یہ اقدامات آہستہ آہستہ اس صنعت کا معیار بن گئے۔

چنانچہ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ وقت کے ساتھ ساتھ ان ڈونگلز کی صرورت نہیں رہے گی اور دیگر کمپنیاں اپنے آلات میں یو ایس بی سی پورٹ کا استعمال شروع کر دیں گی۔

چونکہ ایپل دنیا کی امیر ترین کمپنی ہے، وقت اور مالی وسائل اس کو اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ وہ ایسی کوششیں کریں مگر اگر یہ بات ہے تو موجود صارفین کو خوش کرنے کے لیے ایک یا دو ڈونگل مفت میں نہیں دیے جا سکتے تھے!

متعلقہ خبریں