Daily Mashriq

سازشوں کے اشاروںکی بجائے کرداروں سے پردہ اٹھائیے

سازشوں کے اشاروںکی بجائے کرداروں سے پردہ اٹھائیے

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کہتے ہیں ٹیکنوکریٹ حکومت کی کوئی گنجائش نہیں‘ موجودہ حکومت اپنی مدت پوری کرے گی۔ ادھر سینیٹ کے چیئر مین رضا ربانی کا کہنا ہے کہ ’’سب ٹھیک نہیں ہے‘‘ کوئی بھی غیر آئینی مداخلت نہ کرے۔ انتخابات وقت مقررہ پر ہونے چاہئیں۔ ٹیکنوکریٹ حکومت کی کوئی گنجائش نہیں۔ یہاں یہ امر بھی مد نظر رکھا جانا چاہئے کہ ہفتہ کے روز الیکشن کمیشن کے ترجمان نے کہا ہے کہ نئی حلقہ بندیوں اور انتخابی فہرستوں کی تیاری کا کام شروع نہ ہونے پر2018ء کے انتخابات میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ نون لیگ کے سینئر رہنما اور وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق کے اس موقف پر کہ حلقہ بندیوں کے لئے قانون سازی میں تاخیر کی ذمہ دار پیپلز پارٹی ہے کے جواب میں پی پی پی کے رہنمائوں نے کہا ہے کہ حکومت نے تاخیر سے مردم شماری کروائی جس سے بہت سارے مسائل پیدا ہوئے۔ جواب الجواب اور ٹیکنو کریٹ حکومت کی گنجائش نہ ہونے کے تواتر کے ساتھ اظہار نے عجیب و غریب صورتحال پیدا کردی ہے۔ ہر گزرنے والے دن کے ساتھ عوام الناس میں یہ تاثر پختہ ہوتا جا رہا ہے کہ کہیں نہ کہیں کوئی کھچڑی پک رہی ہے۔ ایوان اقتدار کے ذمہ داران اشاروں کنایوں میں تو بات کرتے ہیں لیکن دوٹوک انداز میں عوام کے سامنے صورتحال رکھنے سے پہلو تہی برت رہے ہیں۔ یہ پہلو تہی مصلحت آمیز ہے یا کسی دبائو اور خوف کی وجہ سے اس پر زیادہ مناسب انداز میں روشنی وہی صاحبان ڈال سکتے ہیں جو تواتر کے ساتھ یہ کہہ رہے ہیں کہ ٹیکنو کریٹ حکومت کی گنجائش نہیں۔ سوال یہ ہے کہ وہ کون سے ادارے ہیں جن کی طرف چیئر مین سینٹ اور دوسرے حکومتی اکابرین بالخصوص لیگی رہنما اشارے تو دے رہے ہیں مگر صاف بات نہیں کرتے۔ عام انتخابات کے مقررہ وقت پر انعقاد کے لئے جو چند بڑی رکاوٹیں ہیں ان میں اہم ترین تو یہی ہے کہ اولاً خود مردم شماری بہت تاخیر سے ہوئی اس تاخیر کی ذمہ دار 2002ء اور 2008ء کی حکومتوں کے ساتھ موجودہ وفاقی حکومت بھی ہے۔ ان سے پہلی حکومتوں نے ملک میں امن و امان کی ابتر صورتحال پر مردم شماری نہ ہوسکنے کا ملبہ ڈال کر جان چھڑالی جبکہ نون لیگ پر بعض حلقے یہ الزام لگا رہے ہیں کہ جب تک اس کی منشا کے مطابق نتائج کا اہتمام نہیں ہوگیا اس نے مردم شماری کروانے سے گریز کیا۔ ثانیاً یہ کہ وفاقی وزارت قانون و پارلیمانی امور اس امر سے بخوبی واقف تھی کہ مردم شماری کی بنیاد پر نئی حلقہ بندیاں ناگزیر ہی نہیں بلکہ ایک آئینی ضرورت بھی ہے تو پھر کیوں صرف نظر کیاگیا؟ اب بھی صورتحال یہ ہے کہ اگر 10نومبر تک اس حوالے سے قانون سازی نہیں ہوتی نئے مسائل اٹھ کھڑے ہوں گے۔ حلقہ بندیوں اور انتخابی فہرستوں ہر دو کے لئے الیکشن کمیشن کو 6سے8 ماہ درکار ہیں۔ تب کہیں جا کر سہولت اور قانونی تقاضوں کے مطابق جون 2018ء میں انتخابی شیڈول کا اعلان ہوسکتا ہے۔ د وسری طرف سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی عدالتی نا اہلی کے دن سے سازشوں‘ ٹیکنو کریٹ اور قومی حکومت یا تین سالہ متبادل انتظام کی باتیں سننے میں آرہی ہیں۔ یہ باتیں محض افواہوں پر اظہار خیال کا چسکہ ہیں یا پھر ان کا کوئی سر پیر بھی ہے معاملہ جو بھی رہا ہو بہر طور تشویشناک ہے۔ اگر واقعتاً کہیں اس حوالے سے صلاح مشوروں کی کھچڑی پک رہی ہے تو یہ عرض کرنا مناسب ہوگا کہ خود 1980ء اور 1990ء میں اس طرح کے ٹیکنو کریٹ تجربے کئے جا چکے اور نتائج بھی روز روشن کی طرح عیاں ہیں۔ فہمیدہ انداز میں یہ کہا جاسکتاہے کہ اس طرح کے انتظام کو جن مسائل کا حل قرار دیاگیا تھا وہ مسائل پہلے سے زیادہ گمبھیر ہوئے ثانیاً یہ عرض کرنا بھی مقصود ہے کہ خود آئین میں ایک منتخب حکومت سے اگلی منتخب حکومت کے درمیانی مدت جو انتخابی عمل کے مکمل ہونے کی ہے اس حوالے ماسوائے نگران عبوری حکومتوں کے اور کوئی راستہ نہیں۔ نظام حکومت مسلسل چلتا رہے اور خود احتسابی سے اجتماعی احتساب تک کے معاملات دیانتدارانہ انداز میں ہوں تو اصلاح احوال کی شرح بڑھتی رہتی ہے۔ جناب وزیر اعظم اور چیئر مین سینٹ سمیت مختلف الخیال رہنما اگر مسلسل یہ کہہ رہے ہیں کہ خلاف آئین کوئی کام نہیں ہونا چاہئے بلکہ جناب رضا ربانی نے تو ہفتہ کے دن صاف کہہ دیا کہ’’ سب ٹھیک نہیں ہے‘‘ تو ان بیانات سے بے یقینی کو بڑھاوا ملا ہے۔ خدا خیر کرے اور پاکستان پھر کسی تجربے یا ایڈونچر کی بھینٹ نہ چڑھنے پائے۔ ہمیں یہ عرض کرنے میں کوئی امر مانع نہیں کہ معاملات کو دستور کے مطابق آگے بڑھانا ہوگا۔ دستور سے انحراف کے نتیجے میں محض مشکلات پیدا نہیں ہوں گی بلکہ بعض تنازعات کے ساتھ خطرات کے در آنے کا امکان رد نہیں کیاجاسکتا۔ البتہ یہاں یہ سوال اہم ہے کہ کیا منتخب حکومت اپنے اعمالوں کا بوجھ کسی اور پر ڈال کر بری الذمہ ہونا چاہتی ہے؟ہماری دانست میں ہوا میں تلواریں چلانے اور ’’کسی‘‘ پر ملبہ ڈالتے چلے جانے کی بجائے وفاقی حکومت کے ذمہ داران کو اپنی اب تک کی کارکردگی کے ساتھ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ اعداد و شمار کے گورکھ دھندوں‘ لمبے چوڑے وعدوں اور پھر ان پر مبارک سلامت کا شور برپا کرنے کے علاوہ کہیں کچھ ہوا بھی؟ پچھلے ساڑھے چار سالوں کے دوران مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہوا‘ بیروزگاری کا جن بے قابو ہے۔ ایسے میں اپنی غلطیوں کا تجزیہ کرنے کی بجائے سازشی کہانیاں گھڑنا زیادہ خطرناک ثابت ہوگا اور اگر واقعتا کہیں کوئی سازش یا سازشیں ہو رہی ہیں تو صاف سیدھے لفظوں میں مقام سازش اور کرداروں سے پردہ اٹھا کر عوام کو اعتماد میں لیا جائے یا پھر اس سے پہلے مرحلہ پر عمل کرتے ہوئے پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلا کر سارا احوال اس کے سامنے بیان کیا جائے۔ عوامی تقریروں اور بیانات میں خطروں اور سازشوں کا رونا روتے چلے جانے کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ اس سے پیدا ہونے والی مایوسی بد اعتمادی کو جنم دے گی اور اس سے نظام کی ساری اکائیوں کو نقصان پہنچے گا۔

متعلقہ خبریں