Daily Mashriq


طویل دورانیہ کی لوڈشیڈنگ کا نیا سلسلہ

طویل دورانیہ کی لوڈشیڈنگ کا نیا سلسلہ

پچھلے چند دنوں سے ملک بھر میں جاری خوفناک لوڈشیڈنگ کے حوالے سے حقیقی صورتحال بارے عوام کو اعتماد میں لینے کی بجائے اس کا ملبہ سموگ( آلودگی) پر ڈال کر ہمارے ارباب اختیار آخر کس کو بہلا رہے ہیں۔ بجلی کی پیداوار میں کمی بارے جو کچھ وفاقی حکومت کے ذمہ داران اور ذرائع ابلاغ میں حکومت کے حامی کہہ رہے ہیں وہ سو فیصد تو کیا پچاس فیصد بھی درست نہیں۔ بجلی کی سپلائی کے مرکزی سسٹم میں لگ بھگ 7ہزار میگا واٹ کی کمی راتوں رات یا ابتر موسمی صورتحال سے اچانک نہیں ہوئی بلکہ نجی پاور ہائوسز بالترتیب پچھلے پندرہ بیس دنوں سے بند ہوتے جا رہے تھے۔ ایک کے بعد ایک کرکے بند ہوتے نجی پاور پلانٹس کے ذمہ داران کا دعویٰ ہے کہ حکومت نے ان سے خریدی ہوئی بجلی کے بقایاجات ادا نہیں کئے جس پر انہیں مجبوراً پیداواری عمل معطل کرنا پڑا۔ یہاں ایک قابل عذر بات یہ ہے کہ بعض ایسے نجی پاور پلانٹس نے بھی پیداواری عمل معطل کیا ہے جنہوں نے حال ہی میں عالمی مصالحتی عدالت سے حکومت کے خلاف 14ارب روپے سے زیادہ کے واجبات کا مقدمہ جیتا ہے۔ نون لیگ کی حکومت جب اقتدار میں آئی تھی تو وزیر خزانہ نے نجی پاور پلانٹس کو 500 ارب روپے کی ادائیگیاں کی تھیں کیا یہ دریافت نہیں کیا جانا چاہئے کہ پاور پلانٹس کے لئے مزید ادائیگیوں کا شیڈول کیوں نہیں بنایاگیا اور کیسے گردشی قرضے پھر سے 6کھرب روپے کے لگ بھگ پہنچ گئے ۔ یہ بھی کہ جن کمپنیوں نے عالمی مصالحتی عدالت سے رجوع کیا ان سے مفاہمت اور معاملات کرنے سے گریز کیوں کیاگیا؟ بہر طور یہ عرض کرنا مناسب نہیں کہ مصنوعی پن کا نتیجہ ہے یا غیر ذمہ دارانہ طرز عمل کا اب اس کا ذمہ دار موسمی حالات کو ٹھہرا کر لوگوں کو بہلایا جا رہا ہے۔ اس طرح کے موسمی حالات تو پچھلے سال نومبر دسمبر میں بھی تھے اور اس سے قبل بھی تو پھر ان برسوں میں حالیہ دنوں جیسا بحران کیوں نہ پیدا ہوا؟ وفاقی حکومت کیا اس امر سے لا علم ہے کہ پانی و بجلی کے وفاقی وزیر اویس لغاری ا ور ان کے وزیر مملکت کے درمیان اختیارات کا تنازعہ بھی ذمہ داریوں سے عہدہ برآنہ ہوسکنے کی ایک وجہ ہے؟ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ حکومت کے متعلقہ ادارے اور وزارت پانی و بجلی اپنی نالائقیوں کا ذمہ دار موسم کو ٹھہرانے کی بجائے طویل دورانئے کی لوڈشیڈنگ کے خاتمے‘ پاور پلانٹس کے گردشی قرضوں کا مسئلہ حل کرنے پر توجہ دے تا کہ عوام کو اذیت ناک صورتحال سے نجات ملے اور بجلی کے حالیہ بحران سے متاثر ہوا صنعتی عمل بحال ہوسکے۔

فاٹا کے عوام کی خواہش کا احترام کیا جائے

فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے کھلے ناقدین اب ریفرنڈم اور نئے صوبے کے قیام کی کوڑی لاتے ہوئے یہ کہہ رہے ہیں کہ موجودہ حالات میں فاٹا کو کے پی کے میں شامل ہو کر کچھ نہیں ملے گا اس لئے نیا صوبہ بنایا جائے۔ غور طلب امر یہ ہے کہ وفاقی حکومت کے بعض اتحادی فاٹا کے عوام کے دیرینہ مطالبات اور ان مطالبات کے لئے ان کی جدوجہد کے برعکس موقف کیوں اپنائے ہوئے ہیں۔ کیا محض علاقائی سیاست پر اپنا قبضہ برقرار رکھنا مقصود ہے یا اس دھونس کا صلہ حاصل کرنا مقصد ہے؟ امر واقعہ یہ ہے کہ اصل فیصلہ فاٹا کے عوام کو ہی کرنا ہے اور وہ اپنے جرگوں‘ سیاسی اجتماعات اور لانگ مارچوں کے ذریعے اپنی خواہشات کا اظہار کرچکے۔ محض اپنی انا کی تسکین کے لئے لاکھوں لوگوں کو ایف سی آر کے کالے قوانین کے جبر کو بھگتنے رہنے پر مجبور کرنا درست نہیں ہے۔ عوام اپنا فیصلہ دے چکے ہیں سیاسی و مذہبی جماعتوں کو عوام کے فیصلوں کا احترام کرتے ہوئے اس امر کو یقینی بنانا چاہئے کہ فاٹا بھی ملک کے دوسرے حصوں کی طرح مساوی ترقی کرے اور یہا ں بھی کالے قوانین کی بجائے ملکی قوانین کے مطابق انصاف ہو تعلیم و روزگار اور ترقی کے دروازے کھلیں۔ امید واثق ہے کہ شخصی انا کے بت پوجنے کی بجائے عوام کے جذبات کا احترام کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں