Daily Mashriq


نظریہ تو رہا نہیں کاروبار ہوتا ہے اب

نظریہ تو رہا نہیں کاروبار ہوتا ہے اب

سچ یہ ہے کہ کوئی دم آتا ہے کہ دم رخصت ہوتا ہے ، ملال کوئی نہیں ہو بھی تو شکر ہے داغ ندامت جبیں پر ہے نہ دامن پر ۔ ایک کم ساٹھ برس میں جی لئے دنیا کے کوچہ میں ۔ اور کتنا جئیں گے ۔ زندگی کا امتحانی پرچہ حل کرتے کرتے اس موڑ پر ہیں ۔ فیلڈ مارشل ایوب خان کے عہد سے 2017ء تک سب دیکھ لئے ۔ قید و بند ۔ لاہور کا بدنام زمانہ شاہی قلعہ بے رحمانہ تشدد ، سب سہا بھگتا ۔ ایک دن میری بہن ( مجھ سے چھوٹی یہ بہن میری عزیز ترین دوست بھی ہیں ) نے سوال کیا ۔ وہ سب جو بھگت چکے اور تمہاری وجہ سے پورے خاندان کو مسائل کا سامنا کرنا پڑا اس کا حاصل و صول کیا ہوا ؟ ۔ عرض کیا ۔ حق بندگی ادا کیا کہ یہی میر ا فرض تھا ۔ شکر نہیں کرتیں کہ طمع کے گھاٹ پر نہیں اُترا ۔ بہن اپنی جگہ سے اُٹھی ماتھا چوما اور پھر جائے نماز پر سجدہ ریز ہوگئی ۔ سادہ سی بات ہے دعائیں ہمیشہ کارگر رہیں ۔ 1970ء کی دہائی میں جب صحافت کے کوچہ میں آئے تھے تو صحافت ایک مشن تھا ۔ نظریاتی جدوجہد پریقین رکھنے والے اس کوچہ میں آتے تھے ۔ وقت کروٹیں لیتا گیا ۔ صحافت ا ب کاروبار ہے ۔ مختلف قوتیں ہیں اس ملک میں کسی کی میڈیا منیجری کیجئے اور خوش رہیئے ۔ چار اور یہی ہورہا ہے ۔ ایک لطیفہ کبھی نہیں بھولا ۔ 1990ء کی دہائی میں جب کالم نگاروں کی تصاویر بھی کالم کے ہمراہ شائع ہونے لگیں تو نوشہر ہ سے ایک خط ملا ۔ لکھنے والے نے بتایا کہ مساوات اور زنجیر کے دنوں سے پڑھ رہاہوں میرے والد آپ کو کراچی سے 1980ء کی دہائی میں شائع ہونے والے ہفت روزہ جدوجہد کے دور سے جانتے ہیں ۔ ہم باپ بیٹا آپ کو سکہ بند سرخا(ترقی پسند) سمجھتے تھے مگر مشرق والے کالم میں تصویر دیکھ کر ہم دونوں (باپ اوربیٹے )کے منہ سے بے اختیار نکلا ’’ارے یہ اپناشاہ جی مولوی ہی نکلا ‘‘ خیر آگے بڑھتے ہیں ، سچ یہ ہے کہ جس طرح 1980کی دہائی سیاسی کارکنوں کے کلچر کو کھاگئی اسی طرح 1990ء کی دہائی نظریاتی صحافت کو نکل گئی ۔ ایک ٹکٹ میں دو مزے ممکن نہیں ۔ نظریہ ہوتا ہے یا کاروبار ، اب نظریئے کی پیوندلگی چادر اوڑھے لوگ کتنے ہیں ۔ ہر شخص راتوں رات امیر و کبیر ہونا چاہتا ہے ۔ صحافیوں کی نئی نسل اسی سماج کے گلی کوچوں سے اُٹھ کر آئی ہے آسمانی مخلوق نہیں ۔ سرد و گرم کڑوے اور میٹھے کو محسوس کرتی ہوئی ۔ 

خربوزے کو دیکھ کر خربوزے رنگ پکڑتے ہیں ۔ ہر طرف یہی چلن ہے ۔ کبھی سیاست نظریہ تھی ۔ خدمت خلق کا جذبہ اب خالص تجارت ہے ۔ انتخابی قوانین کی حالیہ ترامیم نے تو قانونی طور پر معاشرے کے نچلے طبقوں پر سیاست اور انتخابی عمل کے میدانوں میں داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے ۔ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کے لئے انتخابی اخراجات کی جو حد رکھی گئی ہے اس حد کی رقم بارے سوچتے ہوئے ہی عام آدمی کو پسینہ آجاتا ہے ۔ کروڑوں روپے کہاں سے آئیں گے ۔ سو پہلے بھی لگانے والوں کو ملتا تھا اب تو لگانے والوں کو انتخابی قونین کی چھتری مل گئی ۔ دل پر ہاتھ رکھ کر کہیں دستیاب سیاسی جماعتوں میں کس نے انتخابی قوانین میں اس عوام دشمن ترمیم کے خلاف آواز بلند کی ؟ ۔ اسلامی مساوات والے ہوں یا جمہوریت کے پاپڑ بیچنے والے سبھی عوام دشمن قانون سازی میں شریک رہے ۔دودن اُدھر ایک قصیدہ خوان کی تحریر پڑھ رہا تھا جو اُس نے اپنے دنیاوی مالک کی بیٹی کے لئے مکمل کیا موتی پروئے ۔ لفظ سے لفظ جوڑا اور مستقبل کی جھانسی کی رانی کا تعارف کروایا ۔ ہم سے کچھ دوست اس قصیدہ خواں کو وزیر آبادی اُسترا بھی کہتے ہیں ۔ محبت سے کہتے ہیںطنز بالکل نہیں ۔ کبھی کبھی پڑھنے والے کسی نہ کسی ذریعے سے اپنی بات لکھنے والے تک پہنچا دیتے ہیں ۔ سو شل میڈیا نے تو آسانیاں پیدا کردی ہیں ۔ ابھی کل سوات کے فرید اللہ خان کا برقی مراسلہ میرے فیس بک اکائونٹ کے مسینجر میں موصول ہوا ، فرید اللہ خان کہتے ہیں ’’شاہ جی ۔ کم از کم پندرہ برسوں سے آپ کے کالم پڑھ رہا ہوں اس دوران ایک دوبار آپ کے ساتھ اخبار بھی تبدیل کرنا پڑا ایک مشورہ ہے آپ اپنے کالموں میں سب پر تنقید کرتے ہیں سب کی کلاس لیتے ہیں مان لیا آپ کسی سے نہیں ڈرتے لیکن کبھی اپنے ان صحافی بھائیوں کے بارے میں بھی تو کچھ لکھیئے جو چند برسوں میں کروڑ پتی ہوگئے ‘‘۔ شکوہ بجا ہے پھر بھی کئی بار ان سطور میں بہت ساری باتیں عرض کر چکا فیشن کے طور پر ہر الزام جنرل ضیاء پر نہیں لگاتا کڑوا سچ یہ ہے کہ صحافیوں کو نظریئے سے ہٹا کر دھندے پر لگانے کی مہربانی جنرل ضیا ء الحق نے کی ۔ سیاسی کلچر ، انسانی سماج کی وحدت ،آزاد صحافت جنرل ضیاء تینوں کے کھلے دشمن تھے۔ انہوں نے صحافیوں میں ایک طبقہ پروان چڑھایا نواز شات کرکے ۔ ان ماہ وسال میں اخباری کاغذ بازار میں مہنگا اور حکومتی کوٹہ لائنس پر سستا ملتا تھا۔ دوچار نہیں درجنوں پاکباز وں نے جنر ل ضیاء کے سارے دور میں اخباری کاغذ کے کوٹے کا کاروبار کیا ۔ رہی سہی کسر جناب نواز شریف نے پوری کردی کچھ دوستوں نے اور راستے اپنائے ۔ لاریب سب غلط ہوا ۔ کسی بھی شعبہ کے کمزور لوگ اپنے شعبہ کے لئے باعث عار بنتے ہیں ۔ موسمی تبدیلیاں سب پر اثر کرتی ہیں ۔ بچائو کا سامان رکھنے والے محفوظ رہتے ہیں ۔ 1960ء بلکہ 1970ء کی دہائی میں جو انار کلی کے عبدالرحمن ہوٹل کے قریب اس آس میں کھڑے رہتے تھے کہ کوئی دوست کھانا کھانے آئے تو اس کے ساتھ وہ بھی ما حضر تناول کرلیں اب اربوں پتی ہیں ۔ ان سب دنیا داروں کی محبت دنیا کا خمیازہ صحافت نے بھگتا ۔ یوں کہہ لیجئے بھگت ہی رہی ہے ۔ پھر جب سے کمرشل بزنس کا رنگ روپ اپنایا صحافت نے ۔ صحافت مشن ہے ۔ شعور پھیلانے اور آگہی کے نور سے اندھیر ے ختم کرنے کا مشن اب یہ ساری باتیں فقط باتیں ہیں ۔ حرف آخر یہ ہے کہ کاش وہ دن پھر سے لوٹ آئیں جب سیاسی کارکن اور صحافی اپنی ذات کی بجائے اپنے لوگوں کے حقوق کی بات کرتے اور ان حقوق کی بحالی کے لئے جان و مال کی قربانی دیتے تھے ۔

متعلقہ خبریں