Daily Mashriq


سموگ سے ماضی کا سفر

سموگ سے ماضی کا سفر

یہ نام تب شاید تخلیق نہیں ہو ا تھا ، بلکہ وہاں کے لوگ اسے سادگی سے دھوئیں کے بادل ہی پکارتے تھے ، یہ صورتحال وہا ںکب سے تھی اس کے بارے میں بھی یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا ، شاید تب سے جب سے یہ شہر آباد ہوا ہوگا ، البتہ ہمیں اس صورتحال سے واسطہ ستر کی دہائی کے آخری برس یعنی 1979ء میں پڑا جب راقم ریڈیو پاکستان کی ملازمت کے دوران پہلی ترقی پا کر کوئٹہ تبدیل ہوا ، اور سردی کے موسم میں جب ایک عجیب منظر روز ہم دیکھا کئے ، دھوئیں کا ایک کشیف بادل سروں کے اوپر تقریباً تین چار فٹ کے فاصلے پر مصنوعی آسمان کی طرح مسلط رہتا تھا ۔ آج پنجاب کے مختلف علاقوں میں لگ بھگ وہی صورتحال ہے اور اسے سموک کا نام دیا گیا ہے یعنی دو لفظوں کے مجموعے سے نیا لفظ اختراع کرکے استعمال کیا جارہا ہے ، دونوں لفظ انگریزی کے ہیں ۔ سموگ یعنی دھواں اور فوگ یعنی دھند ، یوں دونوں الفاظ کو جوڑ کر ایک نئے لفظ سموگ کو تخلیق کیا گیا ہے ۔ اس سموگ نے جو تباہی پھیلا دی ہے اس نے فی الحال تو پنجاب کے کئی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے جبکہ ماہرین موسمیات نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ آنے والے دنوں میں خیبر پختونخوا کو بھی متاثر کر سکتا ہے کہا جاتا ہے کہ یہ صورتحال مشرقی پنجاب اور بھارت کے دیگر علاقوں راجھستان وغیرہ میں فصلوں کی باقیات یعنی بھوسہ وغیرہ کو آگ لگانے کی وجہ سے پیدا ہوئی ۔ یہ دھواں وہاں سے اٹھ کر ہوا کے دبائو کے تحت پاکستان میں داخل ہو چکا ہے اوریہاں پر صنعتی علاقوں میں کا رخانوں سے خارج ہونے والے دھوئیں خصوصاً ت تھرمل بجلی گھروں کے دھوئیں کے ساتھ مل کر تباہی پھیلانے کا باعث بن رہا ہے ، اس صورتحال نے پنجاب کے بڑے حصے کو لپیٹ میں لے لیاہے ، تھر مل پاور ہائو سز کی بندش سے بجلی کی لوڈ شیڈنگ بھی بڑھ گئی ہے ، ماہرین صحت نے عوام کو ماسک اور عینکوں کے استعمال کا مشورہ دیا ہے کیونکہ نہ صرف سانس کی بیماریاں بلکہ امراض چشم کے پھیلنے کے خطرات بھی بڑھ رہے ہیں ۔ سرکار کو یہ مشورہ دیا جارہا ہے کہ وہ اس صورتحال کے بارے میں بھارت سرکار سے بات کرے کیونکہ یہ دونوں طرف کے انسانوں کا مسئلہ ہے ۔ کوئی مسئلہ کشمیر تو نہیںجس پر مودی سرکار ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بات کرنے سے انکار ی ہے ، بقول محشر بد ایونی 

یہ تو باہر کی کوئی آگ بڑھی آتی ہے

گھر میں چنگاری سلگتی تو دھواں تو اٹھتا

کالم کی ابتداء میں کوئٹہ کا جوذکر ہم نے کیا ہے اس کی تھوڑی سی تفصیل بھی بتا دیتے ہیں کہ جس دور میں ہم کوئٹہ ملازمت کے سلسلے میں گئے تھے اس زمانے میں کوئٹہ شہر میں سوئی گیس کا تو نام و نشان ہی نہیں تھا ۔ حالانکہ بلوچستان کے علاقے سوئی سے دریافت ہونے والی ’’سوئی گیس ‘‘ ایک طویل عرصے سے کراچی اور ازاں بعد پنجاب کو نہ صرف گھریلو استعمال کیلئے مہیا کی جا چکی تھی بلکہ صنعتی ضرورتوں کو بھی اس سے پورا کیا جارہا تھا اور اسلام آباد تک لوگ اس نعمت خداوندی سے مستفیدہو رہے تھے ۔ اگر یہ گیس شجر ممنوعہ تھا تو بلوچستان کیلئے ، جو نہ صرف اس گیس کی پیدائش کا مقام تھا بلکہ کوئٹہ کو تو چھوڑ یئے کہ وہ سوئی کے مقام سے دور پڑ رہا تھا ،خود سوئی کے علاقے کو بھی یہ گیس مہیا نہیں کی جارہی تھی ، البتہ کوئٹہ کے کچھ علاقوں میں مائع گیس کے بڑے بڑے ڈرموں کو ایک پلانٹ کے ذریعے واپس گیس میں منتقل کر کے سپلائی کی جارہی تھی اور دیگر علاقوں کے تھوڑے بہت مکین چھوٹے سلنڈروں سے استفادہ کرتے تھے لیکن یہ سہولتیں بھی شہر کے زیادہ سے زیادہ دس سے پندرہ فیصد لوگوں کو حاصل تھیں اور عام لوگ گھروں وغیرہ کو گرم رکھنے کیلئے کوئلہ ، لکڑی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں (جنہیں گٹکاکہتے تھے ) سوختنی لکڑی ، مٹی کے تیل کے لئے بنی ہوئی مخصوص انگیٹھیوں سے کام چلاتے تھے اور یہی شہر کے اندر عام لوگوں کے سروں پر تین سے چار فٹ اوپر مسلط دھوئیں کے اس آسمان کا کارن تھا ۔ہمارے شہر وں میں بھی دھند کا سردی کے موسم میں اکثر راج رہتا ہے مگر یہ صورتحال چند دنوں تک ہی رہتی ہے تاہم اب جو یہ نئی افتاد آپڑی ہے تو اس نے پنجاب کے کئی شہروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ، اور حکومت کے مخالفین نے ایک ہنگامہ برپا کر دیا ہے کہ اگر لاہور میں اورنج ٹرین اور بسو ں کے منصوبوں کیلئے درخت بڑی تعداد میں نہ کاٹے جاتے تو اس قدر تباہی نہ پھیلتی ، اصولی طور پر اس اعتراض کو غلط قرار نہیں دیا جا سکتا ، کیونکہ گرین بیلٹ ختم کر کے ہم ویسے ہی ماحولیات کو برباد کر دیتے ہیں چہ جائیکہ بڑی تعداد میں درختوں کو کاٹ کر مصنوعی ترقی کیلئے راہ ہموار کریں۔ اس حوالے سے ایک بار پھر ہمیں ماضی میں جھانکنا پڑے گا اور یہ واقعہ بھی خود ہمارے روبرو وقوع پذیر ہوا ۔ جب خیبر پختونخوا میں جمعیت علمائے اسلام اور نیشنل عوامی پارٹی کی مخلوط حکومت تھی مولانا مفتی محمود وزیراعلیٰ اور ارباب سکندر خان خلیل گورنر (سرحد) تھے ، تو بھٹو مرحوم نے بطور صدر پاکستان پہلا دورہ کیا ، اس وقت گورنر ہائوس میں ضلع ہزارہ سے تعلق رکھنے والے ایک رکن صوبائی اسمبلی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ارباب سکندر مرحوم سے کہا ، ارباب صاحب میں نے آپ کو خط لکھ کر ہدایت کی ہے کہ اس جنگل چور کو جیل میں ڈالیں کہ اس نے جنگلات غیر قانونی طور پر کاٹ کر تباہی پھیلادی ہے مگر یہ اب تک آزاد گھوم رہا ہے ، اس واقعے کے بعد چشم فلک نے یہ نظارہ بھی کیا اور جب بلوچستان کی حکومت کی غیر آئینی برطرفی کے بھٹو کے فیصلے کے بعد سرحد حکومت نے احتجاج کے طور پر استعفیٰ دیا تو صوبہ (سرحد) میں جو حکومت قائم ہوئی اس میں وہی جنگل چور وزیر اطلاعات بنا دیا گیا ۔ مقصد کہنے کا یہ ہے کہ اگر ہم جنگلات کاٹنے کا جرم نہ کرتے تو ہمارے ماحولیات پر منفی اثر نہ پڑتا اور سموگ سے متاثر نہ ہوتے ۔

متعلقہ خبریں