Daily Mashriq


سینیٹ مکالمہ اور زمینی حقائق

سینیٹ مکالمہ اور زمینی حقائق

ایک بات وہ ہے جو آپ کے مخالف کہتے ہیں لیکن وہ الزام برائے الزام تک ہی محدود رہتی ہے چونکہ آپ کا عمل اس بات کو رد کر رہا ہوتا ہے۔ ایک وقت تھا پیپلز پارٹی والے الزام عائد کرتے تھے کہ ضیاء کی بنائی ہوئی مسلم لیگ جو بعدازاں مسلم لیگ ن بنی کا قائد اعظم کی مسلم لیگ سے کوئی تعلق نہیں ہے، یہ بات کسی حد تک درست تھی مگر اس کو زیادہ پذیرائی اس لیے نہ مل سکی کہ مسلم لیگی قیادت کی جانب سے کوئی ایسا عمل دیکھنے میں نہ آیا جو آل انڈیا مسلم لیگ کے نظریات ‘ قائد اعظم کے ارشادات اور نظریۂ پاکستان کے خلاف ہوتا۔ اگرچہ لیگی قیادت کا قائد اعظم اور علامہ اقبال کے ساتھ اس حد تک تعلق تھا کہ ان کی تصو یر یں ‘پوسٹرز اور سٹکرز کی زینت بنتی تھیں لیکن قائدین کی زبان سے کبھی ایسے الفاظ ادا نہ ہوئے جن سے تاثر ابھرتا ہو کہ آج کی مسلم لیگ اور قائد اعظم کی مسلم لیگ میں نظریاتی تفاوت پیدا ہو رہا ہے۔ آج لیکن حالات بدل چکے ہیں ۔ آ ج مسلم لیگ ن کی صفوں میں جو لوگ پارٹی پالیسی پر اثر انداز ہو رہے ہیں وہ ایک بالکل مختلف زبان بول رہے ہیں۔ لگتا نہیں ہے کہ قیادت ایسے افراد کی سوچ اور فکر سے لاتعلق ہو کیونکہ ہم دیکھ اور سن چکے ہیں کہ مسلم لیگ ن کے صدر میاں محمد نواز شریف نے بعض مواقع پر اس ضمن میں خود کیا ارشادات فرمائے ہیں۔ ایک ایسا ہی واقعہ سیفما کی وہ تقریب تھی جس میں ہندوستانی اہل دانش کی موجودگی تھی اور پاکستان مسلم لیگ کا صدر فرما رہا تھا کہ ’’جو خوراک آپ کھاتے ہیں وہی خوراک ہم کھاتے ہیں۔۔۔ ہمارا اور آپ کا ایک ہی کلچر ہے‘ ایک ہی بیک گراؤنڈ ہے ۔۔۔ جس رب کو آپ پوجتے ہیں ہم بھی اسی کو پوجتے ہیں۔۔۔بس درمیان میں ایک بارڈر آ گیا ہے‘‘ وغیرہ وغیرہ ۔ یہ باتیں سن کر قائد اعظم کی روح بھی ضرور تڑپ گئی ہو گی کہ یہ اقوال وہ ہیں جو کانگریس کے رہنما ارشاد فرمایا کرتے تھے جن کا جواب دیتے ہوئے قائد کہا کرتے تھے کہ آپ کی ثقافت اور ہماری ثقافت الگ الگ ہے‘ ایک قوم کے ہیرو اور دوسرے قوم کے ولن ہیں اور ہمارا کھانا پینا ‘ سونا جاگنا ‘ اُٹھنا بیٹھنا غرضیکہ ہر چیز ہندوؤں سے مختلف ہے۔ نواز شریف کی تقریر سن کر نظریہ پاکستان کا محافظ سمجھا جانے والا اخبار نوائے وقت چیخ اُٹھا اور اس کے مدیر اعلیٰ مجید نظامی مرحوم نے کہا کہ اللہ نواز شریف کو عقلِ سلیم دے۔ جناب پرویز رشید فرماتے ہیں کہ قائد اعظم کے استعمال کردہ لفظ "Faith"کا اردو ترجمہ ’’ایمان‘‘ ٹھیک نہیں ہے۔ آپ کی تکلیف بجا کہ ’’ایمان‘‘ کا تعلق تو خالصتاً مسلمانوں کے ساتھ ہے جب کہ پرویز رشید جیسے احباب کا مسئلہ یہ ہے کہ آپ ریاست اور مذہب کے تعلق کو ماننے سے انکار کرتے ہیں۔ دلیل کے طور پرآپ کے ہاتھ میں قائد اعظم کی وہ تقریر ہے جو قائد نے 11اگست 1947ء کو کی۔ یہ تقریر خالصتاً اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے تھی جس کا اظہار خود قائد اعظم نے بعد ازاں کیا مگر قائد کی اس وضاحت کے باوجود سیکولر حلقے آج تک گیارہ اگست والی تقریر کی خود ساختہ تشریح کرتے آ رہے ہیں۔ بروز جمعہ ہونے والی سینیٹ کی کارروائی کے دوران چیئرمین سینیٹ ‘ پرویز رشید اور فرحت اللہ بابر کے درمیان جو مکالمہ ہوتا رہا ہے اُس کی تفصیل پڑھ کر افسوس ہوا کہ سیکولرازم کی کہہ مکرنیاں اپنی جگہ اب تو بات بات پر قائد اعظم کے ارشادات اور تاریخ کا ہیر پھیر دیدہ دلیری کے ساتھ فوجی ادوار سے منسوب کر کے افواج پاکستان کو بہانے سے نشانہ بنایا جاتا ہے۔ پاکستان کی دو بڑی جماعتیں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی قیادت ایسے افراد کے ہاتھ آ چکی ہے جن کا واسطہ اپنے بانیوں کے نظریات سے دن بدن کم ہوتا جا رہا ہے۔ کہاں وہ پیپلز پارٹی جس نے وطن عزیز کو ایک اسلامی آئین کا تحفہ دیا اور جس کے کریڈٹ پر قادیانیوں کو کافر قرار دینا اور جمعہ کی چھٹی جیسے اقدامات شامل ہیں ‘ وہ پیپلز پارٹی جس کی قیادت نے مسلمان اُمت کے اتحاد کا خواب دیکھا اور اس کے لیے عملی کام کیا اور اس کی سزا بھگتی ‘ آج ایک مغرب نواز جماعت بن چکی ہے۔ اس کی اپنی کوئی آزاد سوچ نہیں ہے‘ اس جماعت کے قائدین اب ہر لمحہ یہ بات پیشِ نظر رکھتے ہیں کہ مغربی ممالک کی قیادت بالخصوص امریکہ ان کے اعلانات اور اقدامات کو کس نظر سے دیکھے گا۔ مسلم لیگ ن کا بھی یہی حال ہے۔ نام نہاد لبرل ازم کی دوڑ میں مسلم لیگ ن اب پیپلز پارٹی سے بھی آگے نکلتی دکھائی دیتی ہے۔ نواز شریف کی زبان سے جب یہ الفاظ نکلے کہ وہ نظریاتی ہو چکے ہیں تو میں کافی دن سوچتا رہا کہ پاکستان کی بانی جماعت سے تعلق رکھنے والی مسلم لیگ ن کا صدر کیا بات کر رہا ہے۔ استحکام پاکستان کی منزل یقینی طور پر اس وقت حاصل ہو گی جب ہمارا سفر ایک ایسے مسلمان معاشرے کی تعمیر کی طرف اُٹھے گا جس کا خواب قائد اعظم اور علامہ محمد اقبال نے دیکھا تھا۔ بانیان پاکستان کے افکار اور نظریات سے روگردانی کر کے ایک مستحکم پاکستان کبھی نہیں بنے گا بلکہ ہم پاکستان کو انتشار کی طرف دھکیلیں گے۔پاکستان کے دشمنوں کا یہی مطمح نظر اور ایجنڈا ہے۔ ہمیں دھیان رکھنا ہو گا کہ قائد اعظم کے نظریات کی غلط تشریح کرنے والے اس ایجنڈے پر گامزن تو نہیں ہیں؟؟۔

متعلقہ خبریں