Daily Mashriq


مولانا سمیع الحق کے قاتل کا خاکہ؟

مولانا سمیع الحق کے قاتل کا خاکہ؟

ملک کے اکیاسی سالہ معروف اور بزرگ عالم دین اور سیاسی راہنما مولا نا سمیع الحق قتل کردئیے گئے ۔مولانا کے لواحقین نے بہت پہلے ہی قاتل کا ایک خاکہ یہ کہہ کر بنا دیا تھا کہ انہیں بھارت اور افغانستان کی خفیہ ایجنسیوں کی طرف سے خطرات لاحق تھے اور باقاعدہ دھمکیاں بھی مل رہی تھیں۔اس خاکے میں ایک رنگ کی ایک لکیر اس وقت اُبھری جب جنرل حمیدگل کے بیٹے پر اسی روز قاتلانہ حملے کی خبریں عام ہوئیں یا کردی گئیں۔چند دن بعد ایک اور رنگ اس وقت بھر گیا جب مولانا کے تعزیتی ریفرنس میں حکومت چین کی نمائندگی کرتے ہوئے پروفیسر لی شی گوانگ نے شرکت کی بلکہ خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مولاناپاک چین دوستی کے حامی تھے اور مولانا اور چین کی دوستی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔اس طرح خاکہ اب ہماری روایتی کاہل اور سست پولیس کے ہاتھوں تیار کردہ آڑھی ترچھی لکیروں پر مبنی مضحکہ خیز سا خاکہ نہیں رہا بلکہ اچھی خاصی تصویر بن گیا ہے۔جسے دیکھ کر 1994میں کراچی میں قتل ہونے والے معروف صحافی اور ایڈیٹر تکبیر محمد صلاح الدین کے تعزیتی ریفرنس میں جنرل حمید گل کا ایک جملہ یاد آگیا ہے ۔حمید گل نے بہت معنی خیز انداز میں کہا تھا کہ صلاح الدین کی یادگارگوادر میں تعمیر ہونی چاہئے۔مولانا کی یادگار کہاں تعمیر ہو؟شاید وقت اس مقام کی نشاندہی کرتا چلا جائے گا۔ اس قتل کے اصل محرکات اور اسباب تو تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئیں گے مگر ان کے قتل کو ہارون بلور اور سراج رئیسانی کے قتل کا تسلسل قراردیا جائے تو بے جا نہ ہوگا ۔یہ پاکستان میں ان نمایاں افراد کے قتل کی لڑی اور کڑی ہے جو دہشت گردی کا شکار ملک پاکستان اور مخصوص علاقوں میں پرو سٹیٹ مانے جاتے ہیں ۔جو پاکستان میں سینہ تان کر پاکستان کی ریاست کے ساتھ کھڑا ہو رہے ہیں۔جو ریاست کو اپنے عوامی کردار سے حمایت اور طاقت فراہم کرتے ہیں۔ موجودہ حالات میں پاکستان میں ایک ’’عرب سپرنگ ‘‘ ٹائپ انقلاب برپا کرنا گریٹ گیم کا حصہ ہے ۔ اس کے لئے مختلف عناصر کو سوشل میڈیا اور دوسرے ابلاغی ہتھیاروں سے مزین کردیا گیا ہے جو کسر باقی رہ جاتی ہے وہ بیرونی میڈیا خود کوریج سے پوری کرتا ہے۔عرب سپرنگ نے عربوں کو انقلاب ،جمہوریت ،شہری آزادیوں کے سہانے خواب تو دکھائے اور سوشل میڈیا کے ذریعے اسے ابلاغ کا طاقتور اور وسیع پلیٹ فارم اور وسائل مہیا کئے مگر نہ عربوں کوحقوق ملے اور نہ جمہوریت اور شہری آزادیاں ہاتھ آئیں۔ ’’بہار عرب ‘‘ان کے لئے امن کی خزاں ثابت ہوئی۔ یہی سٹائل باقی مسلمان ملکوں میں بھی اپنایا جا رہا ہے جہاں مسائل تو موجود ہیں،سماجی اور سیاسی اونچ نیچ قائم ہے ،سیاسی ،نسلی اور مسلکی تنوع بھی ایک حقیقت کے طور پر موجودہے ،اس خلاء اور کمزوری کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے حقوق کے نام پر مختلف تحریکیں کھڑی کی جارہی ہیں۔ان تحریکوں کا انداز واسلوب چونکہ صلح جویانہ اور خرابی کرنے کی سوچ سے قریب نہیں ہوتا اس لئے یہ تحریکیں مسلمان معاشروں کو مزید استحکام کی طرف لے جانے کا باعث بنتی ہیں۔افغانستان کے آتش کدے کو دہکتا رکھنا بھی اسی مقصد کے لئے ضروری ہے۔انتشار زدہ معاشرے میں امن کے نام پر قیام کرکے گردوپیش کے معاملات پر نہ صرف نظر رکھنا ممکن ہوسکتا ہے بلکہ دائیں بائیں دست درازی بھی آسان ہو کر رہ جاتی ہے ۔مولانا سمیع الحق جیسے قد آور عالم دین جنہیں مغرب بابائے طالبان کہتا تھا برملا پاکستان اور پاکستانیت کی بات کرتے تھے ۔ وہ اپنے قتل کے وقت بھی دفاع پاکستان کونسل کے سربراہ تھے یوں وہ پاکستان کی ریاست ،حکومت اور سسٹم کی سمت کھڑے تھے ۔ان کا یہ کرداربہت سی قوتوں کو گوارا نہیں تھا۔مغرب انہیں ایک خوفناک کردار بنا کر پیش کرتا تھا ۔افغانستان کے حکمران اور عوامی حلقوں میں مولانا کی شخصیت کو کچھ اس انداز سے پیش کیا گیا تھا کہ گویاکہ طالبان کی وجہ سے افغان معاشرہ جن مصائب اور مشکلات کا شکار ہے ان کے اصل ذمہ دار اور فکری راہنما بابائے طالبان مولانا سمیع الحق ہیں۔اسی لئے ان سے قیام امن میں باربار مدد مانگی جاتی رہی۔ مولانا کا جو امیج افغانستان کے ایک مخصوص حلقوں میں بنایا گیا ہے اسی کا اثر تھا کہ سوشل میڈیا پر یہ حلقہ مولانا کے قتل پر سفاکانہ انداز میں جشن مسرت مناتا گیا۔ مولانا سمیع الحق اور ان کی سوچ اس خطے کے ماضی کے ساتھ جڑی تھی ۔ یہ وہ طویل اور اُلجھا ہوا دھاگہ جسے لپیٹنے کے لئے کئی حوالوں اور کئی جہتوں میں کام ہو رہا ہے ۔جس دن مولانا قتل ہوئے عین اسی روز پاکستان کے شہرہ آفاق جرنیل حمید گل کے صاحبزادے عبداللہ گل پر بھی قاتلانہ حملے کی خبریں عام ہوئیں ۔اس خبر کی تصدیق یا تردید بھی نہیں ہوئی اگر یہ حملہ ہوا ہے تو تحقیقاتی اداروں کا کام مزید آسان ہوجاتا ہے ۔حمید گل تو اس دنیا میں موجود نہیں مگر انہیں پاکستان کی افغان پالیسی اور جہاد ماضی کا اہم کردار سمجھا جاتا تھا ۔یہی تاثر مولانا سمیع الحق کے بارے میں بھی تھا ۔یہ دونوں ماضی کے جہادی دور کی د واہم علامتیں تھیں ۔مولانا سمیع الحق تو براہ راست نشانہ بنے مگر حمید گل کی علامت پر وار کے لئے ان کے بیٹے کو چنا گیا ۔مولانا کے قتل کی ٹائمنگ اس لحاظ سے اہم ہے کہ وزیر اعظم عمران خان چین میں اہم ترین دور ے پر تھے جہاں پاکستان اور چین کے درمیان مستقبل کے عہدوپیماں ہو رہے تھے۔ دوسرا یہ کہ ملک میں آسیہ مسیح کی بریت نے ایک انارکی کا ماحول پیدا کر رکھا ہے ۔اس موقع پر پاکستان اور پاکستانیت کی ایک علامت پر وارکرکے ریاست کو گہرا پیغام دینے کی کوشش کی گئی ۔اب حکومت کی ذمہ داری ہے کہ مولانا سمیع الحق کے قاتلوں کو تلاش کرکے انصاف کے کٹہرے میں لائے اور اس قوم کو سازش کے اصل محرکات سے آگا ہ کرے ۔

متعلقہ خبریں