Daily Mashriq

وزیراعظم کی بیوروکریٹس کو نیب سے ڈرے بغیر کام کرنے کی ہدایت

وزیراعظم کی بیوروکریٹس کو نیب سے ڈرے بغیر کام کرنے کی ہدایت

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے سینئر بیوروکریٹس کو ہدایت کی ہے کہ عوامی فلاح و بہبود اور ترقی کیلئے محنت کریں اور مسائل کا حل نکالیں اور قومی احتساب بیورو (نیب) سے خوفزدہ ہوئے بغیر وقت پر فیصلہ لینے کا ’خطرہ‘ مول لیں۔

وفاقی سیکریٹریز اور چیف سیکریٹریز کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے ان کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ ہمیں اقتدار میں آئے ایک برس گزر چکا ہے لیکن ہم عوام کی توقعات کے مطابق کام نہیں کرسکے‘۔

خیال رہے کہ تقریباً ایک ہفتہ قبل ہی سیکریٹریز نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی تھی جس میں نیب کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔

اس سے قبل تاجر برادری کے ایک وفد نے چیف آف آرمی اسٹاف سے ملاقات کر کے نیب کے خلاف شکایت کی تھی۔

اس بارے میں وزیراعظم کے مشیر ارباب شہزاد کا کہنا تھا کہ سیکریٹریز نے وزیراعظم سے نیب کے ’ہراساں‘ کرنے اور ’دھمکانے‘ کے طرزِ عمل کی شکایت کی، جس کے باعث سرکاری افسران سرکاری فائلز پر دستخط کرنے میں احتراز برتتے ہیں۔

اس کے علاوہ وزیراعظم کے ساتھ ہونے والے اجلاس میں بیوروکریٹس نے سینئر افسران کے خلاف موجود شکایات کی بنیاد پر نیب اور دیگر تحقیقاتی اداروں کی جانب سے میڈیا ٹرائل پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔

اجلاس میں سابق سیکریٹری عثمان غنی کی ریٹائرمنٹ کے 10 سال بعد ان کی گرفتاری کا حوالہ دیتے ہوئے وفاقی سیکریٹریز کا کہنا تھا کہ ایڈیشنل اور جوائنٹ سیکریٹریز نیب کی کارروائیوں کے باعث کوئی بھی فیصلہ لیتے ہوئے ہچکچاتے ہیں۔

خیال رہے کہ چند ماہ قبل وفاقی کابینہ کے ایک اجلاس میں ایک سینئر بیوروکریٹ نے طویل عرصے سے التوا کا شکار ریلوے کے اس پروجیکٹ مین لائن-1 کی فائل پر دستخط کرنے سے انکار کردیا تھا جس میں پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت کراچی سے پشاور تک نئی ریلوے لائن بچھائی جائے گی۔

بعدازاں ایک دوسرے اجلاس میں سینئر عہدیداروں کا کہنا تھا کہ نیب کے خوف سے وہ ایم ایل-1 منصوبے کا آغاز نہیں کرنا چاہتے۔

اس پر وزیراعظم عمران خان نے منگل کو ایک اجلاس میں بیوروکریٹس کو یقین دہانی کروائی کہ وہ ایک ہفتے تک ان کی شکایات دور کردیں گے لیکن کام کی رفتار میں ’سست روی‘ برداشت نہیں کریں گے۔

اس ضمن میں وزیراعظم کا اشارہ نیب کے ’متنازع‘ قوانین میں ترمیم کا تھا تاکہ بیوروکریٹس اور کاروباری افراد کو بے خوف ماحول فراہم کیا جاسکے۔

دوسری جانب چند روز قبل ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے دعویٰ کیا تھا کہ انسدادِ بدعنوانی کا ادارہ کسی ایسے بیوروکریٹ کو طلب نہیں کرے گا جو قواعد و ضوابط کے مطابق کام کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں