Daily Mashriq

ووٹ کو عزت دینے اور سیاسی نظام کے تقاضے

ووٹ کو عزت دینے اور سیاسی نظام کے تقاضے

علمائے اسلام(ف) سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں پر مشتمل رہبرکمیٹی اور پاکستان تحریک انصاف کی کمیٹی کے مذاکرات کے بعد پاکستان مسلم لیگ(ق) کے صدر چوہدری شجاعت حسین کی مولانا فضل الرحمن سے ملاقات حکومت اور جے یو آئی کے درمیان ایک ایسے رابطے کا ذریعہ کھولنا ہے جو درمیانی راستہ اختیار کرنے اور معاملات کو اعتدال سے حل کرنے پر دال ہے۔ چوہدری برادران کا کردار سیاسی بحرانوں میں اہم رہا ہے اور بعض معاملات میں ان کا ''مٹی پاؤ'' کا مشورہ زریں بھی ثابت ضرور ہوا ہے لیکن جاری سیاسی معاملات میں ''مٹی پاؤ'' کی جگہ کچھ لو کچھ دو کا اصول ہی قابل قبول فارمولہ ثابت ہونے کا قوی امکان ہے۔ اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویزالٰہی کا کہنا ہے اپوزیشن اور حکومت کے درمیان جلد معاملات حل ہونے چاہئیں، اس سلسلے میں وزیراعظم سے ملاقات کروں گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں مایوسی کی طرف نہیں جانا، راستے نکالنے پڑتے ہیں کیونکہ دھرنے سے سب کیلئے معاشی اور اقتصادی مسائل بھی پیدا ہورہے ہیں جبکہ رہبر کمیٹی کے سربراہ اکرم درانی کا کہنا ہے کہ ایسی ملاقاتوں سے ماحول کی بہتری میں مدد ملتی ہے۔ جمعیت علمائے اسلام(ف) کی قیادت میں آزادی مارچ کے پانچویں دن تک ٹھہراؤ اور جمود کی کیفیت نہیں، ایسا لگتا ہے کہ بظاہر اور بباطن دونوں طرف مذاکرات اور کوئی قابل قبول فارمولہ وضع کرنے کی سعی جاری ہے۔ آزادی مارچ شرکاء کا متعین مقام پر قیام بھی اس امر کا ثبوت ہے کہ فریقین میں ابھی مفاہمت کا جذبہ باقی ہے اور جب تک یہ صورتحال رہتی ہے معاملات پر طرفین کی قدرت رہے گی جیسے ہی یہ رکاوٹ باقی نہ رہا اس کے بعد معاملات پر طرفین کی گرفت اور نتائج کا حصول غیریقینی ہوگا جس سے فریقین یقینا جب تک ہوسکے گا احتراز برتیں گے۔ 2014ء کے دھرنے کے برعکس آزادی مارچ طالب اور مطلوب کے درمیان رابطہ بہتر اسلئے ہے کہ حکومت مذاکرات سے یکسر انکاری نہیں جس کا مطلب ہی مارچ کے مطالبات سے سراسر انکار اور درمیانی راستے سے احتراز نہیں۔ جو جہاں سیاسی طور پر اچھی حکمت عملی ہے وہاں سیاسی حکومت کے دباؤ میں آنے کا بھی اظہار ہے۔ اس فضا کا سیاسی مخالفین کی جانب سے موقع گرداننا فطری امر ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی طرف سے جس قسم کے عزم کا اظہار کیا جارہا ہے اس سے تو سابق وزیراعظم نوازشریف کے نقش قدم پر چلنے کا عندیہ ملتا ہے، اگر عمران خان استقامت اور اقتدار سے محرومی کی قیمت پر خود کو بااصول سیاستدان اور اقتدار کی خاطر اصولوں کی قربانی دینے والا ثابت کرے تو ملکی سیاست میں ان کے قد میں نمایاں اضافہ ہوگا، اگر کوئی درمیانی راستہ تلاش کیا جاتا ہے تو پھر حکمران ہونے کے باوجود مقتدر نہیں رہیں گے۔ ممکن ہے اس کے بعد اسے کسی نئے امتحان کا بھی سامنا کرنا پڑے۔ حزب اختلاف کی جماعتیں پوری طرح جے یو آئی کیساتھ کھڑی نہ ہوکر جس طرح مولانا فضل الرحمن کی قیادت کو واحد قوت کے طور پر سامنے آنے کا موقع دے رہے ہیں ان کا بھی اپنی مصلحت پسندی کا شکار ہونا ضروری امر ہوگا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اس وقت سیاست منتخب افراد کی بجائے غیرمنتخب اور سیاست سے بیدخل کئے گئے دو شخصیات کے گرد گھوم رہی ہے جو ووٹ کو عزت دو کے ان کے اپنے نعرے سے مطابقت نہیں رکھتی۔ ووٹ کو عزت دو نعرہ اس امر کا متقاضی ہے کہ منتخب اراکین وقائدین اپنے فیصلے ایوان کے اندر جمہوری طریقے سے کریں اور حکومت تبدیل کرنے کیلئے ووٹ کی طاقت کا استعمال کریں نہ کہ سڑکوں پر عوام کی قوت سے حکومت سے مذاکرات اور مطالبات منوانے کا راستہ اپنائیں۔ جمہوریت تبھی چل سکتی ہے جب فیصلے جتھوں کے زور پر نہ ہوں اور حکومت بھی اختلاف رائے رکھنے اور تنقید کرنے والوں کی بات سنے ان کی آواز کو دبانے سے گریز کرے اور افہام وتفہیم سے سیاسی معاملات کا حل نکالنے کی راہ اپنائے۔ جاری سیاسی بحران کا حل سیاسی وجمہوری طریقے سے نہ نکالا جاسکے تو یہ سیاسی نظام کی ایک اور ناکامی ہوگی۔

متعلقہ خبریں