Daily Mashriq

پولیو کیسز میں اضافے کے اسباب تلاش کرنے کی ضرورت

پولیو کیسز میں اضافے کے اسباب تلاش کرنے کی ضرورت

خیبر پختونخوا میں آئے روز پولیو کے نئے کیسز کا پیش آنا صوبے میں اس پروگرام کی ناکامی اور اس کے منتظمین کی کارکردگی پر وہ سوالیہ نشان ہے جس کا جواب تلاش کئے بغیر اس پروگرام کی کامیابی کا یقین نہیں، خاص طور پر یہ امر قابل توجہ ہے کہ جب سخت حالات میں پولیو کے قطرے پلانا جان جوکھوں کا کام تھا اس دوران پولیو کے اتنے کیسز سامنے نہ آئے جتنا اس کے بعد اور خاص طور پر حالیہ ایک دوسالوں کے دوران سامنے آئے۔ پولیو پروگرام میں بدعنوانی کا ارتکاب جس کے باعث بااثر عناصر کو عہدے سے ہٹانے کی نوبت آنا وہ صورتحال ہے جسے سلجھائے بغیر آگے بڑھنے کی رکاوٹوں کا خاتمہ ممکن نہیں۔ پولیو کے قطرے پلانے کی راہ کی مزاحم قوتیں اب یا تو باقی نہیں یا کمزور پڑگئی ہیں اس مہم کی مخالفت بھی اب نہ ہونے کے برابر ہے۔ پولیو ٹیموں کی محفوظ رسائی کی شرح بھی اب اطمینان بخش ہے مگر اس کے باوجود وہ کون سی وجوہات ہیں جس کے باعث سرے سے اس پروگرام کی ناکامی نظر آنے لگی ہے۔ پولیو کیسز کے سامنے آنے کے واقعات ختم ہونے کے بجائے بڑھنے لگی ہیں ہم سمجھتے ہیں کہ خیبر پختونخوا کے چیف سیکرٹری ڈاکٹر کاظم نیاز یقینا اس سارے صورتحال سے واقف ہوں گے۔ انہوں نے صوبہ سے پولیو وائرس کے خاتمہ کو موجودہ حکومت کی ترجیحات میں سرفہرست قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبہ سے اس مہلک بیماری کا خاتمہ اگرچہ مشکل ہے لیکن ناممکن ہرگز نہیں، اپنی آئندہ نسلوں کو زندگی بھر کی معذوری سے بچانا ہمارا قومی فریضہ ہے جس کیلئے تمام تر دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیںگے۔ دورافتادہ علاقوں میں ای پی آئی مراکز میں اضافہ، ڈاکٹروں اور ای پی آئی ٹیکنیشنز کی کمی کو دور کرنا، پولیو ورکرز کیلئے مالی مراعات میں اضافہ، سیاسی ومذہبی رہنماؤں کی خدمات کا حصول، پولیو کے قطروں کو صحت کی دوسری سہولیات اور سماجی خدمات سے مشروط کرنا، ڈویژنل انتظامیہ ضلع انتظامیہ صوبائی حکومت اور بین الاقوامی شراکت دار اداروں کے درمیان شراکت کار کو مزید مضبوط بنانا۔ پولیو ٹیموں کی سیکورٹی کو فول پروف بنانا اور پولیو کیسوں سے متعلق سو فیصد درست اعداد وشمار کو یقینی بنانا جیسے اقدامات اور انتظامی افسران کو اس سلسلے میں فعال کردار ادا کرنے کی ضرورت کا احساس سبھی مثبت اور قابل عمل تجاویز ہیں۔ ہمارے تئیں ان سب اقدامات سے زیادہ ضروری امر یہ ہے کہ پولیو کا قطرہ ہر بچے کو پلانے والی ٹیموں کو اس حد تک فعال بنایا جائے کہ وہ ہر بچے تک پہنچ کر اپنی ذمہ داری نبھائے، کسی قسم کی جعلی مارکنگ نہ ہو اور نگرانی کرنے والا عملہ ملی بھگت میں ملوث نہ ہو۔ اس مقصد کیلئے جہاں رضاکاروں اور پولیو کے کارکنوں کے فرائض سے لگن اہمیت کا حامل معاملہ ہے وہاں ان کو معقول اور برموقع معاوضے کی بغیر کسی کٹوتی کے ادائیگی کو ہر قیمت پر یقینی بنانے کی ذمہ داری میں کوتاہی نہیں ہونی چاہئے تاکہ اس مہم کے بنیادی کردار مطمئن ہوکر اپنا کام کرسکیں۔

غیرقانونی سٹینڈز قانونی بنائے جائیں

ہمارے سٹی رپورٹر کے مطابق پشاور کے مشہور بازار چوک شادی پیر پر رکشہ مافیا نے قبضہ جما کر غیرقانونی اڈا بنا رکھا ہے جس کی وجہ سے ہر وقت ٹریفک جام رہتی ہے اور راہگیروں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ صوبائی دارالحکومت میں غیرقانونی رکشہ ٹیکسی سٹاپ اور دیگر تجاوزات کوئی نئی بات نہیں، اس شہر کے لاینحل مسائل میں سرفہرست مسئلہ ہے۔ اس ساری صورتحال سے حکومت لاعلم نہیں مگر اس کے اقدامات کے بے اثر ہونے سے یہ لاعلاج مرض کی صورت اختیار کر گیا ہے۔ یہ کسی ایک دورحکومت کا بھی مسئلہ نہیں شہر میں پرمٹ والے رکشوں سے کئی گنا زیادہ غیرقانونی رکشے چل رہے ہیں، حکومت کی جانب سے رکشوں کیلئے کوئی باقاعدہ سٹینڈ بھی نہیں بنایا گیا ہے۔ ٹریفک پولیس بھی دوعملی کا شکار ہے صوبائی دارالحکومت کے کسی بھی بڑی سڑک میں کوئی ایک متعین جگہ پبلک ٹرانسپورٹ کیلئے باقی نہیں رہی خصوصاً رکشہ اور ٹیکسی ٹریفک پولیس کے ہوتے ہوئے تو کسی سٹاپ پر رک کر سواریاں بھی نہیں اٹھا سکتیں، بعض پولیس اہلکار سروس روڈ پر ٹیکسی کھڑی کرنے کی گنجائش رکھتے ہیں بعض تو سروس روڈ پر بھی اس کی اجازت نہیں دیتے، ایسے میں رکشہ ٹیکسی والوں کو یہ تک علم نہیں ہو پاتا کہ وہ کہاں سواریوں کا انتظار کریں، کہاں سواریاں بٹھائیں اور کہاں اُتاریں۔ یونیورسٹی روڈ کے سب سے گنجائش والے بورڈ سٹاپ کے سروس روڈ پر سواریوں والی گاڑیاں رکنے نہ دی جائیں تو باقی علاقوں کا اندازہ ہی لگایا جا سکتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ٹریفک پولیس کی ساری توجہ اور نفری کا شہر کے مرکزی سڑک پر ہی توجہ ہے باقی شہر میں ٹریفک مسائل میں اضافے کا باعث ہے۔ بہترہوگا کہ سواری والی گاڑیوں کے ڈرائیوروں کی بھی سنی جائے اور ان کیلئے جگہیں مختص کی جائیں، علاوہ ازیں کے مقامات پر غیرقانونی طور پر گاڑیاں کھڑی کرنے کی مکمل پابندی کروائی جائے۔ ٹریفک پولیس کو شہر میں پھیلایا جائے اور ٹریفک اہلکاروں کی اپنی پالیسی کی بجائے ان کو واضح ہدایات دی جائیں تاکہ ڈرائیوروں اور شہریوں کیساتھ ساتھ خود ٹریفک پولیس کے مسائل میں بھی کمی آئے اور ناجائز اڈوں کا خاتمہ ممکن ہو۔

ٹوٹتے رشتے کو جوڑنے کی احسن سعی

ڈی آر سی شبقدر کا 7سال بعد میاں بیوی کو ملانا اور 7سالہ بیٹی کو والدین کا پیار ملنا بہت مبارک ذمہ داری نبھانا ہے۔ والدین میں ناچاقی سے بچوں پر منفی اثرات کا اندازہ لگانا ہی مشکل ہے، عموماً فریقین اپنی اپنی آگ میں جلتے ہوئے انا کی قربانی دینے کو تیار نہیں ہوتے۔ ایسے میں اگر کسی جانب سے معمولی اصلاح کی بھی سعی کی جاتی ہے تو یہ مثبت اور خوشگوار نتائج کا باعث بنتی ہے۔ مگر بدقسمتی سے ہمارے علمائے کرام سے لیکر عمائدین تک یہ اہم ذمہ داری پوری نہیں کرتے۔ ڈی آر سی شبقدر کی مساعی کے نتائج سب کے سامنے ہے جس کی روشنی میں مزید اس قسم کی مساعی کی ضرورت ہے تاکہ جتنا ممکن ہوسکے ٹوٹتے خاندانوں کو بچایا جا سکے۔

متعلقہ خبریں