Daily Mashriq

پارلیمنٹ کو اہمیت دیں

پارلیمنٹ کو اہمیت دیں

سیاسی وملکی مسائل کا واحد حل پارلیمنٹ کا فورم ہے، اگر سیاسی معاملات کو پارلیمنٹ میں حل کرنے کی سنجیدہ کوشش نہ کی جائے تو احتجاج اور دھرنوں کی نوبت آتی ہے، آج مولانا فضل الرحمان اپنے تحفظات کو لیکر اسلام آباد میں ایک جم غفیر کیساتھ موجود ہیں، ایک ہفتہ سے اسلام آباد کے شہریوں کیلئے متعدد مسائل پیدا ہو چکے ہیں، اس سے پہلے پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت سمیت پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں اپنے اپنے مفادات کی خاطر اسلام آباد میں احتجاج اور دھرنے دے چکی ہیں۔ اپوزیشن کو موجودہ حکومت سے ہمیشہ یہ گلہ رہا ہے کہ وہ پارلیمنٹ کو اہمیت نہیں دیتی کیونکہ حکومت میں تنقید سننے کا حوصلہ نہیں ہے، اسلئے پارلیمنٹ کا اجلاس اول تو بلایا ہی نہیں جاتا اور اگر بلا لیا جائے تو چلایا نہیں جاتا حتیٰ کہ موجودہ حکومت نے تو قائمہ کمیٹیوں کے اجلاس بھی بچت کے نام پر بلانا بند کر دئیے تھے لیکن جب حکومت پر مشکل پیش آئی تو اسے بھی پارلیمنٹ کی اہمیت کا اندازہ ہوا، قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس طلب کر لئے گئے ہیں۔ حکومت چاہتی ہے کہ اب یہ معاملات سڑکوں پر نہیں بلکہ پارلیمنٹ میں حل ہونے چاہئے۔

سینیٹ کا اجلاس شیڈول کے مطابق21اکتوبر سے یکم نومبر تک ہونا طے تھا جسے حکومت تاخیر کا شکار کرتی رہی لیکن جب دھرنے کا پریشر آیا تو یہ اجلاس کل طلب کر لیا گیا۔ اسی طرح قومی اسمبلی کا اجلاس بیس اکتوبر کو شیڈول تھا لیکن اسے بھی بلانے میں تاخیر کی جاتی رہی۔ اکتوبر میں صرف دو دن تک اور دو اکتوبر کو قومی اسمبلی کا اجلاس ہو سکا تھا۔ نومبر میں قومی اسمبلی کا اجلاس شیڈول میں گیارہ سے بائیس نومبر تک تھا لیکن آزادی مارچ کے دباؤ کے باعث حکومت نے اجلاس گیارہ کی بجائے سات نومبر کو ہی طلب کر لیا ہے۔

یہاں یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ اب حکومت خود یہ چاہتی ہے کہ اپوزیشن سڑکوں پر انہیں بدنام کرنے کی بجائے پارلیمنٹ کے اندر ہی اپنا غصہ نکال لے جہاں انہیں کم ازکم جواب دینے کا موقع تو ملتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت نے آزادی مارچ کے معاملے کو پارلیمنٹ میں زیربحث لانے کا فیصلہ کیا ہے، آزادی مارچ کا معاملہ دونوں ایوانوں سینیٹ اور قومی اسمبلی میں اُٹھایا جائے گا، قومی اسمبلی کا اجلاس جمعرات کو ہوگا جس میں وزیراعظم عمران خان بھی شریک ہوں گے اور خطاب کریں گے، سینیٹ اجلاس سے قبل حکومتی اتحادی اور اپوزیشن اتحادی جماعتوں کے الگ الگ اجلاس ہوںگے جس میں اجلاس کی حکمت عملی طے کی جائے گی۔یہ حقیقت ہے کہ حکومت نے گزشتہ چند روز میں بڑی چالاکی سے پارلیمنٹ کی بجائے متعدد صدارتی آرڈیننس پاس کئے جو صدرمملکت کے دستخطوں سے 8آرڈیننس جاری کئے گئے ہیں۔ پارلیمانی طرز حکومت میں قانون سازی کیلئے پارلیمنٹ پر انحصار کیا جاتا ہے مگر آئین کے آرٹیکل89کی شق1کہتی ہے کہ اگر قومی اسمبلی اور سینیٹ کا اجلاس نہ چل رہا ہو اور صدر مملکت مطمئن ہوں کہ حالات فوری اقدام کے متقاضی ہیں تو وہ حالات کی مناسبت سے صدارتی آرڈیننس جاری کر سکتے ہیں۔ کو ئی بھی صدارتی آرڈیننس120دن کیلئے مؤثر ہوتا ہے۔ اس کے غیرمؤثر ہونے کی مدت میں بار بار توسیع بھی کی جا سکتی تھی مگر18ویں آئینی ترمیم کے ذریعے یہ قدغن لگا دی گئی ہے کہ کوئی بھی صدارتی آرڈیننس جاری ہونے کے بعد اس کی مدت میں ایک سے زائد مرتبہ توسیع نہیں کی جا سکتی۔ آئین کی روح کے مطابق صدارتی آرڈیننس وہ ایمرجنسی ایگزٹ ڈور ہے جسے تب استعمال کیا جاتا ہے جب سب راستے مسدود ہو جائیں مگر پی ٹی آئی کی حکومت اس اختیار کو عام حالات میں بھی استعمال کر رہی ہے۔

حکومت کو یہ بات بڑی شدت کیساتھ جان لینا ضروری ہے کہ جمہوریت ہی واحد ایسا طریقہ ہے جس پر عمل کرتے ہوئے اس ملک کو سلامتی وخوشحالی کے سفر پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔ سیاستدانوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ کسی بھی معاشرے میں جمہوریت اسی وقت کامیاب ہو سکتی ہے جب عام لوگوں کو اس کے ثمرات پہنچنے شروع ہوں۔

پاکستان جیسے محدود وسائل کے حامل ملک میں اگرچہ ایک دور حکومت یا چند برسوں میں لوگوں کا معیار زندگی بلند نہیں کیا جا سکتا لیکن اگر لوگوں کو یقین ہونے لگے کہ ان کے منتخب نمائندے ان کے سامنے جوابدہ ہیں اور اگر وہ عوام کی خواہشات کے مطابق کام نہیں کریں گے تو انتخابات میں انہیں تبدیل کرنے کا حق ووٹ کی صورت میں لوگوں کے پاس ہوتا ہے۔ وہ کسی دباؤ اور زور زبردستی کے بغیر اسے استعمال کرنے کا حق رکھتے ہیں اور ملک میں ایسے حالات پیدا نہیں کئے جائیں گے کہ انتخابی عمل میں دھاندلی اور ہیرا پھیری کے قصے عام ہوں۔ یہ مقصد صرف اسی صورت میں حاصل ہو سکتا ہے جب سیاستدان یہ سمجھنے لگیں گے کہ وہ منتخب ہونے کے بعد ذمہ داری قبول کریں اور خود کو جوابدہی کیلئے پیش کریں۔ اگر یہ دو کام احسن طریقے سے کئے جا سکیں تو ملک کے باقی ادارے بھی مناسب طریقے سے کام کرنے لگیں گے۔

پارلیمنٹ میں ہونے والے مباحث اور فیصلے اجتماعی دانش کا اظہار ہوتے ہیں، اسی لئے سیاسی پروگرام اور منشور کی بنیاد پر اختلاف کے باوجود پارلیمنٹ کو بطور ادارہ متنازع بنانا اور اس کے فیصلوں کو مسترد کرنا جمہوری راستے سے اقتدار کی کوشش کرنے والے کسی شخص یا سیاسی گروہ کو زیب نہیں دیتا، سیاستدان اگر چاہتے ہیں کہ احتجاج اور دھرنے نہ ہوں تو انہیں پارلیمنٹ کو اہمیت دے کر تمام معاملات کو باہمی مشاورت اور بحث مباحثے کے بعد پارلیمنٹ میں ہی حل کرنا ہوگا۔

متعلقہ خبریں