Daily Mashriq

ریل کی سیٹی بجی اور دل لہو سے بھر گیا

ریل کی سیٹی بجی اور دل لہو سے بھر گیا

اب سب کچھ بدل چکا ہے، تب سے جب بھارت میں لالوپرشاد یادو نے مرکزی وزیر کے طور پر وزارت ریلوے کا قلمدان سنبھالا اور ان کے دور میں ریل کی ایک درگھٹنا یعنی حادثہ ہوا جس میں کئی انسانی جانیں تلف ہوئیں اور برصغیر کی آزادی کے بعد ابتدائی ایام میں جب بھارت میں ایک ریلوے حادثہ ہوا تو اس دور کے وزیر ریلوے نے یہ کہہ کر وزارت سے استعفیٰ دیدیا تھا کہ بطور وزیر ریلوے اس حادثے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے میں اپنی وزارت چھوڑ رہا ہوں، تاہم جب لالوپرشاد جی سے بھارتی صحافیوں نے ان کے دور کے دُرگھٹنا پر پوچھا کہ آپ اس حادثے پر استعفیٰ دیں گے؟ تو انہوں نے اپنے مخصوص انداز اور لب ولہجے میں ترنت جواب دیا، بھائیا، کاکہ ہم ریل گاڑی کے ڈرائیور ہیں جو استعفیٰ دیویں؟ یوں ریلوے حادثات کے حوالے سے ایک نئی صورت سامنے آئی یعنی ''تبدیلی آگئی''۔ اس کے بعد بھارت اور پاکستان کے اندر اسی نئے بیانئے ہی کو فروغ ملا اور حادثات کی ذمہ داری قبول کرنے کی جو مثال بھارت کے ایک وزیر نے قائم کی تھی اس سے انحراف کی راہیں تلاش کرنے میں اب لالوپرشاد ڈاکٹرائن ہی کو سامنے رکھا جاتا ہے۔ تاہم جب بھی کوئی حادثہ ہوتا ہے تو اس کے بعد جاں بحق یا زخمی ہونے والوں کے خاندانوں میں اضطراب کی کیفیت کا یہ عالم ہوتا ہے کہ بقول منیرنیازی مرحوم

صبح کاذب کی ہوا میں درد تھا کتنا منیر

ریل کی سیٹی بجی اور دل لہو سے بھر گیا

چند روز پہلے جو حادثہ ہوا اور جس کے نتیجے میں درجنوں افراد جاں بحق اور کئی زخمی ہوئے تو اس کے بعد وزیر ریلوے پر الفاظ کی گولہ باری جاری ہے، کئی سیاسی رہنماؤں نے بھی موصوف سے حادثے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے، ان کی وزارت کے مختصر عرصہ میں اب تک لاتعداد چھوٹے بڑے حادثات کی خبریں بھی الزام کی صورت سامنے لائی جارہی ہیں جبکہ انہوں نے حادثے کے فوراً بعد ہی اس کی ذمہ داری تبلیغی اجتماع میں جانے والے ان مسافروں پر ڈال دی ہے جو بقول ان کے گیس سلنڈر اپنے ساتھ لے جا رہے تھے، تاہم عینی شاہدین نے اس بیانئے کو رد کرتے ہوئے کہا کہ سلنڈر خالی تھے یا متعلقہ سٹیشنوں پر خالی کرا لئے گئے تھے جبکہ بوگیوں میں آگ شارٹ سرکٹ سے لگی جس کی طرف حکام کی توجہ دلائی بھی گئی مگر کسی نے توجہ نہیں دی، یہاں تک کہ حادثے کی صورت گاڑی رکوانے کیلئے بوگیوں میں نصب زنجیر بھی ٹوٹی ہوئی تھی اس لئے گاڑی رکوائی نہیں جا سکی اور کئی میل تک آگ لگی بوگیاں دوسری بوگیوں کو متاثر کرتے ہوئے صورتحال کو اس نہج پر لائیں

شمع ہوگی صبح تک باقی نہ پروانے کی خاک

اہل محفل کی زباں پر داستاں رہ جائے گی

اور داستان یہی ہے کہ عوامی سطح پر یعنی سوشل میڈیا پر بھی اس حادثے کے حوالے سے بازگشت میں احتجاج کا عنصر غالب ہے، اتنے بڑے حادثے کے بعد اصولی طور پر تو وزیر ریلوے کو مستعفی ہو جانا چاہئے تھا مگر لالوپرشاد جی نے جو ''تبدیلی'' بھاشن آغاز کیا تھا اسی ڈاکٹرائن ہی کا کمال ہے کہ چلیں وزیر موصوف کوئی انجن ڈرائیور تو نہیں تاہم یہ جو عینی شاہدین دعوے کر رہے ہیں ان کی روشنی میں متعلقہ حکام اور اہلکاروں ہی سے پوچھ گچھ کر کے ذمہ داروں کا تعین کرلیا جائے، خاص طور پر یہ جو حادثے یا ایمرجنسی کی صورت میں بوگیوں کے اندر لگی زنجیر کی ''سلامتی'' کے حوالے سے سوال اُٹھ رہے ہیں کم ازکم ان کی حقیقت معلوم کی جائے کہ وہ کیوں سلامت نہیں تھی کہ اسے کھینچ کر انجن ڈرائیور کو بروقت آگاہ کر دیا جاتا یعنی زنجیر کھینچنے کی صورت میں ریل گاڑی کی سیٹی بجتی اور گارڈ کیساتھ ڈرائیور بھی الرٹ ہو کر گاڑی رکوانے کی تدبیر کر لیتے، ایسی صورت میں ممکن تھا کہ انسانی جانوں کا اس قدر نقصان نہ ہوتا اور دیگر بوگیوں کو بھی فوری امداد کر کے بھسم ہونے سے بچا لیا جاتا، بقول محسن نقوی

کس کے بس میں تھا ہوا کی وحشتوں کو روکنا

برگ گل کو کاک، شعلے کو دھواں ہونا ہی تھا

اس سارے قضیے میں البتہ سوشل میڈیا نے بھی جلتی پر تیل ڈالنے کا کام شروع کر رکھا ہے اور جیسا کہ اس میڈیا کا وتیرہ ہے کہ بغیر کسی تحقیق کے افواہوں کو آگے بڑھانے کی کوششیں کی جاتی ہیں اسی طرح گزشتہ روز ہمارے ایک پڑھے لکھے دوست نے بھی جن کا تعلق ذرائع ابلاغ کے ایک اہم سرکاری ادارے کیساتھ بھی رہا ہے، انہوں نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر وزیر ریلوے کے حوالے سے ایک پوسٹ شیئر کی کہ موصوف کو فارغ کر دیا گیا ہے، ہم نے موقع ملتے ہی ٹویٹر سے رجوع کیا اور گھر واپس آکر مختلف چینلز کو کھنگالا مگر اس بے پرکی اُڑائی جانے والی اطلاع کی کوئی تصدیق نہ ہوسکی، یعنی ہمیں اس پوسٹ کی حقیقت کے حوالے سے جو شکوک وشبہات تھے ان کی ضرور تصدیق ہوئی کہ خبر غلط تھی اور بلاسوچے سمجھے آگے بڑھائی گئی تھی۔ دراصل اس سوشل میڈیا نے جو رویہ اختیار کر رکھا ہے اس نے تو اس رویئے کی بنیاد رکھنے والے نازی جرمنی کے وزیر اور پروپیگنڈہ باز گوئیبلز کی روح کو بھی شرمندہ کرنا شروع کر رکھا ہے، جس کا قول تھا کہ اتنا جھوٹ بولو، اتنا جھوٹ بولو کہ جب سچ آئے تو بستیوں کی بستیاں ویران ہو چکی ہوں، بدقسمتی سے آج کل ہم اسی کیفیت سے گزر رہے ہیں، تاہم اس کا نتیجہ کیا نکلے گا؟ اس پر جھوٹ کا طومار باندھنے والوں کو ضرور غور کرنا چاہئے۔

جھوٹ بولوں گا اور بے کھٹکے

کون سچ کہہ کے دار پر لٹکے

متعلقہ خبریں