Daily Mashriq

لفافہ، تیتر بٹیر پارک، بغیر اساتذہ کے بی ایس پروگرام

لفافہ، تیتر بٹیر پارک، بغیر اساتذہ کے بی ایس پروگرام

مختلف قسم کے برقی پیغامات ملتے ہیں جن کو میں پڑھ کر حالات کی روداد اور لوگوں کی ذہنیت سے واقفیت حاصل کرتی ہوں۔ بعض تعلیم یافتہ لوگوں کا یہ پوچھنا کہ وہ اس نمبر پر مسائل بیان کر سکتے ہیں، یہ نمبر ہی اسی مقصد کیلئے دیا گیا ہے۔ اس طرح کے برقی پیغام رومن اُردو میں لکھے ہوں تو میں جواب بھی دیتی ہوں لیکن صحیح انگریزی میں اس طرح کے سوالات پوچھے جائیں تو حیرت ہوتی ہے۔ایک برقی پیغام میں فرمائش کی گئی ہے کہ لفافہ صحافیوں کے بارے میں بھی کچھ لکھ لیا جائے۔ میرے خیال میں صحافت میں لفافہ اب چھوٹے موٹے نامہ نگار ہی لیتے ہوں گے، صحافیوں کے طور طریقے اب بدل گئے ہیں۔ موٹروے داخل ہونیوالے راستے پر جو بڑا پارک بنا دیا گیا ہے ایک قاری نے اس کی تعریف کی ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ اسے تیتر اور بٹیر اڈا بنا دیا گیا ہے۔ اس کے آس پاس ٹرک کے اڈے ہیں جس کے باعث مقامی آبادی اس پارک سے اس طرح کا استفادہ نہیں کر سکتی جو بنتا ہے۔ میرے خیال میں تیتر اور بٹیر والوں کو پارک میں آنے سے تو نہیں روکا جا سکتا اور نہ ہی تیتر اور بٹیر لانے کی ممانعت کی جاسکتی ہے، البتہ اگر وہ تیتر اور بٹیر لڑاتے ہیں تو اس کی ممانعت ہو سکتی ہے۔ متعلقہ حکام اس شکایت کا جائزہ لینے کیلئے کسی دن پارک جاکر صورتحال ملاحظہ کریں تو مناسب ہوگا۔ پارک میں منشیات استعمال کرنے والوں کیساتھ سختی سے نمٹا جائے تاکہ صحت مند ماحول متاثر نہ ہو اور بچے ان سے اثر نہ لیں۔ طورخم سے حسین اللہ شنواری کو شکایت ہے کہ ان کے علاقے میں 24گھنٹوں میں صرف رات بارہ سے ایک بجے یعنی ایک گھنٹے کیلئے بجلی آتی ہے۔ ایسا نہیں ہونا چاہئے، بجلی کی اس قدر بندش کی وجہ اگر لوگوں کی طرف سے بل نہ دینا ہے تو پھر قصوروار محکمہ نہیں عوام خود ہیں اور اگر ایسا نہیں تو پھر دوسری کسی صورت میں اس کی گنجائش نہیں۔ آپ کے علاقے کی تو وفاقی کابینہ میں نمائندگی موجود ہے جن کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ یہ مسئلہ حل کروائے۔ اب تو صوبائی اسمبلی میں بھی قبائلی اضلاع کے نمائندے موجود ہیں، عوام کو ان سے رابطہ کرنا چاہئے یا پھر بجلی کے محکمے کے حکام سے عمائدین خود ملاقات کریں۔ بجلی کی پیداوار اور کھپت خاصا متوازن ہوچکا ہے اسلئے مسئلہ یہ نہیں بلکہ مسئلہ کچھ تکنیکی یا پھر ادائیگیوں کا ہوسکتا ہے۔ عوام بل دینے لگیں تو بجلی کا مطالبہ ان کا حق بنتا ہے۔ مفت کی بجلی استعمال ہورہی ہو تو دن بھر میں ایک گھنٹہ بجلی بھی نہ ملے تو مطالبے کی حمایت نہیں کی جا سکتی۔ باجوڑ سے بی ایس کے ایک طالب علم نے سرکاری کالج میں اساتذہ کی کمی کی وجہ سے پڑھائی میں مشکلات اور تعلیم کا حرج ہونے کی شکایت کی ہے، جو بجا ہے۔ قبل ازیں بھی سرکاری کالجوں کے طالبعلم اس طرح کی شکایات کر چکے ہیں اور یہ ایک اجتماعی مسئلہ ہے صرف سرکاری کالجوں ہی میں نہیں بڑی بڑی فیس لینے والی شاندار عمارتوں میں قائم نجی یونیورسٹیوں میں بھی بہتر تعلیمی قابلیت کے حامل اساتذہ کی عدم موجودگی کی شکایات عام ہیں۔ دونوں جگہوں میں یکساں قسم کا مسئلہ حیران کن اسلئے ہے کہ سرکاری اداروں کے اساتذہ کی تنخواہیں کی سرکاری خزانے سے ادائیگی ہوتی ہے جبکہ نجی جامعات میں طلبہ اساتذہ کی تنخواہوں کی شرح سے کئی گنا زیادہ فیس دیتے ہیں مگر نجی جامعات ان کیلئے مناسب مشاہرہ پر اساتذہ لینے کی زحمت نہیں کرتے۔ ایچ ای سی کو اس صورتحال کا فوری اور سنجیدہ نوٹس لینا چاہئے اور تمام سرکاری ونجی جامعات اور کالجوں میں بی ایس کے طلبہ کو معیاری اور تسلسل کیساتھ تدریس کو یقینی بنانے کی ذمہ داری پوری کرنی چاہئے۔ ایک برقی پیغام کے مطابق نادرا کے ملازمین کو وہ حیثیت وسکیل نہیں دیا گیا جو دیگر صوبائی ووفاقی اداروں کے ملازمین کو حاصل ہے۔ دیگرسرکاری اداروں میں ڈرائیوروں کا سکیل7 تک پہنچ گیا ہے مگر نادرا میں اب بھی ڈیٹا انٹری آپریٹر کا سکیل7ہے جبکہ دیگر سرکاری محکموں میں ان کا سکیل12سے14ہے، نادرا کے ملازمین کیلئے سروس اسٹرکچر موجود نہیں۔نادرا کے ملازمین کے مسائل پر توجہ، ان کا حل نکالنا اور ملازمین کو مطمئن کرنے کی ذمہ داری پوری کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ملازمین کی بے چینی کا ازالہ ہو اور وہ اپنے فرائض پر توجہ دیں۔ نادرا ملازمین کی بھی ذمہ داری ہوگی کہ جب تک ان کے مطالبات حل نہیں ہوتے اپنی کارکردگی پر توجہ دینے میں کوتاہی نہ کریں، اچھی کارکردگی اور عوام کی اطمینان بخش خدمت کے بعد ہی وہ مراعات اور ترقی کے حقدار متصور ہوں گے اور ادارہ ترقی کرے گا۔ سرکاری ملازمین کے مسائل ومطالبات ملازمت کے دوران ہی حل ہو جائیں تو مزید مطالبات پیش کرنے کا دستور ہے۔ خیبر پختونخوا میں کالج لیبارٹی اسسٹنٹ کی آسامی سکیل سات کی ہے جبکہ دوسرے صوبوں میں سکیل بارہ کی ہے، اپ گریڈیشن کے اعلان کے باوجود صوبے کے لیبارٹی اسسٹنٹس کو سکیل بارہ ابھی تک نہیں دیا گیا انہوں نے حکومت سے اب گریڈیشن دینے کی اپیل کی ہے ۔ہر صوبے میں تنخواہوں اور سکیل میں فرق ہوتا بھی ہے اور نہیں بھی۔بہرحال دوسرے صوبوں میں اگر اسی نوعیت کی ملازمت کا گریڈ زیادہ ہو تو مطالبہ حق بنتا ہے۔ سابق وزیراعلیٰ کے اعلان کے بعد اس پر عملدرآمد میں تاخیر مناسب نہیں اس پر عمل درآمد میں محکمہ خزانہ رکاوٹ ہے یا کوئی اور پیچیدگیاں جو بھی ہوں ان کو دور کرنے کی ضرورت ہے ۔میں سرکاری ملازمین کو اکثر یہ تجویز دیتی ہوں کہ وہ اپنی ملازمت کے اوقات کار کی پوری پابندی کریں،فرائض کی ایماندارانہ انجام دہی کے بعد ان کے پاس جو وقت بچتا ہے اسے کارآمد بنانے کی کوشش کریں۔ مہنگائی کے اس دور میں ایک تنخواہ پر اکتفا مشکل ہے محنت میں برکت ہوتی ہے اور قدرت اس کا پھل بھی میٹھا دیتا ہے۔

اس نمبر 03379750639 پر میسج کرسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں