Daily Mashriq

دینی سیاسی جماعتوں کا کرداروعمل

دینی سیاسی جماعتوں کا کرداروعمل

ظا ہر ہی نہیں عمل کے اعتبار سے بھی اچھے مسلمان ہیں۔ اسلام کے عملی نفاذ اور احیاء کی بات چل رہی تھی۔ اس بارے میں ان کے فرمودات! کیا عرض کی جائے۔ بہتر ہے ایک قصہ سن لیجیے:

دو بلند عمارتوں کے درمیان بندھی رسی پر معلق، کرتب دکھانے والا بلا خوف وخطریوں چل رہا تھا جیسے چہل قدمی کررہا ہو۔ سرکسوں میں ایسے کرتب معمول ہوتے ہیں لیکن اس کرتب باز کا کمال یہ تھا کہ اس نے اپنے جواں سال بیٹے کو بھی کا ندھوں پر چڑھا رکھا تھا۔ انسان اپنی جان تو خطرے میں ڈال سکتا ہے لیکن اولاد کی جان خطرے میں ڈالنا! تصور ہی سے اعصاب چٹخنے لگتے ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ نیچے کھڑے لوگوں کی حیرت اور خوف سے سانسیں رْکی ہوئی تھیں۔ کرتب یا ایک عمارت سے دوسری عمارت تک کامیابی سے پہنچا تو لوگوں نے اطمینان کا سانس لیا۔ حیرت اور توصیف سے وہ تالیاں بجائے چلے جا رہے تھے۔ کرتب باز کی مہارت دنگ کر دینے والی تھی۔ اس موقع پر کرتبی نے مجمع سے پوچھا ''آپ دوبارہ یہ کرتب دیکھنا چا ہتے ہیں''۔ لوگوں نے کہا ''کیوں نہیں''۔ کرتبی نے کہا ''آپ کو یقین ہے میں دوبارہ بھی یہ عمل کامیابی سے کرسکوں گا؟'' لوگوں نے کہا ''یقینا! تم دوبارہ بھی یہ کرتب کامیابی سے کر سکتے ہو۔ تم ایک ماہر کرتب باز ہو''۔ کرتب دکھانے والے نے اس اعتماد پر جھک کر لوگوں کا شکریہ ادا کیا اور ایک حیرت انگیز سوال کیا ''دوسری مرتبہ میں اپنے بیٹے کے بجائے آپ میں کسی ایک کو اپنے کاندھوں پر بٹھا کر رسی پر چلنا چاہتا ہوں، تو کون ہے جو میرے ساتھ اس عمل میں شریک ہو گا''۔ مجمع پر سکوت طاری ہوگیا۔ لوگ بغلیں جھانکنے لگے۔ کرتب باز تھوڑی دیر لوگوں کو دیکھتا رہا۔ پھر مسکرا کر بولا ''آپ کو علم تو ہے کہ میں یہ کام کرلوں گا لیکن آپ کے دل میں کہیں نہ کہیں بے یقینی موجود ہے۔ آپ کو اس درجے یقین نہیں کہ آپ کی مرتبہ بھی آپ کے معاملے میں بھی کامیاب ہو جاؤں گا''۔ کچھ ایسا ہی معاملہ آج اسلام اور مسلمانوں کا ہے۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ، اللہ کے رسولۖ، اللہ کی آخری کتاب قرآن مجید پر ہمارا ایمان ہے لیکن زندگی کے معاملات میں ان ذرائع سے اخذ تعلیمات پر عمل! ہم تذبذب میں پڑ جاتے ہیں۔ ہمیں علم ہے اللہ کے حضور سجدہ لازم ہے لیکن یہ ایک سجدہ ہزار سجدوں سے نجات دلاتا ہے ہمارے یقین اور عمل میں کم ہی دکھائی دیتا ہے۔زندگی کی بنیادی ضروریات تک ہر انسان کی رسائی کا حل اسلامی تعلیمات میں موجود ہے لیکن اسلام کی سیاسی اور اقتصادی تعلیمات کو ہم کسی نہ کسی درجے میں موجودہ دور میں ناقابل عمل سمجھتے ہیں۔ اشتراکیت اور اب سرمایہ داریت ناکامی سے دوچار ہیں۔ اس خلا کو اسلام با آسانی پر کر سکتا ہے لیکن اس مقصد کے حصول کیلئے عملی جدوجہد کی کامیابی پر ہمیں یقین نہیں۔ ہم مساجد بنا رہے ہیں، مدارس کی تعداد میں اضافہ کررہے ہیں، نماز روزہ، حج، زکوة، ذکر، فکر اور تبلیغ پر زور ہے، یقینا ان کا ترک بڑا گناہ ہے لیکن اسلام کے نفاذ کی عملی جدوجہد کو ہم اس درجے میں لازم سمجھنے پر یقین نہیں رکھتے۔ اس فکر کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد عمو ماً اور عصر حاضر میں خصوصاً جہاں جہاں بھی اسلام کے نفاذ کی تحریکیں بپا ہوئیں انہیں نہ صرف ناکامی کا سامنا کرنا پڑ ا بلکہ ان جماعتوں کے کارکنان کو بدترین ظلم، عقوبت اور دار ورسن کا سامنا کرنا پڑا۔ ان ناکامیوں کو اسلام کی ناکامی سمجھا جاتا ہے۔ ان جماعتوں کی ناکامی کی بنیادی وجہ پر غور کم ہی کیا جاتا ہے۔ نبی کریمۖ نے اپنے وقت کے مروجہ نظام سے باہر رہتے ہوئے سیاسی اور فکری جدوجہد کی۔ وہ تمام تر ترغیبات اور لالچ جن کی بنا پر ہماری دینی سیاسی جماعتیں موجودہ نظام کا حصہ بنتی ہیں رسالت مآبۖ کو بھی پیشکش کی گئیں لیکن آپ ایک لمحہ کیلئے بھی اس نظام کا حصہ نہیں بنے۔ ایک لمحہ کیلئے بھی حق وباطل کے درمیان شرکت گوارا نہیں۔ ادنیٰ سی مفاہمت کے بغیر اس نظام کا حصہ بنے بغیر آپۖ نے اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکا اور پوری طاقت کے ساتھ اسلام کونافذ کیا۔ دس برس کی قلیل مدت میں پورا جزیرہ العرب آپ کے زیر نگیں تھا۔ گزشتہ ڈیڑھ دو صدی کی متواتر پسپائی، ناکامی اور ذرائع ابلاغ کی طاقت سے ایک ایسی فضا بنادی گئی ہے کہ دینی سیاسی جماعتوں، دینی حلقوں اور عام مسلمانوں میں یہ خیال تو موجود ہے کہ اسلام ایک مثالی نظام ہے لیکن زندگی کے عملی مسائل غربت، بھوک، ظلم، بے انصافی، معاشی ناہمواری، عدم مساوات، اقتصادی اور معاشی مسائل سے نمٹنے کے معاملے میں اسلام قابل عمل اور قابل نفاذ ہے موجودہ عہد میں اس کا ہمیں اس درجہ یقین نہیں جیسا یقین ہونا چاہئے۔ یہ عدم یقین ہمارے عمل میں بھی نظرآتا ہے۔ اشتراکیت اور سرمایہ داریت کی خیالی جنت محض ایک فریب ثابت ہوئی ہے جبکہ اسلام تیرہ سو برس ایک قابل عمل ضابطہ حیات کے طور پر دنیا میں موجود رہا ہے۔ اسلام کی نشاة آثانیہ اس دور میں زیادہ آسانی کے ساتھ ممکن ہے، کوئی وجہ نہیں اگر ہمیں یقین ہو اور ہم رسالت مآبۖ کے طریقہ عمل کی پیروی کریں۔ اسلام کے ابتدائی عہد کے مسلمانوں کی قوت کا سرچشمہ یہی یقین، اعتماد اور بھروسہ تھا۔

متعلقہ خبریں