Daily Mashriq

ٹرین میں حفاظتی اقدامات کتنے ہیں؟

ٹرین میں حفاظتی اقدامات کتنے ہیں؟

گاڑی کی چند بوگیوں میں آگ لگ گئی۔ مسافر جھلستے رہے، جل کر راکھ ہوگئے اور ٹرین تیز رفتاری سے دوڑتی رہی۔ جس کو موقع ملا وہ چلتی ٹرین سے چھلانگ لگا کر زخمی ہوگیا۔ جو دھوئیں سے بے ہوش ہوگیا وہ راکھ ہوگیا۔ کم وبیش75افراد لقمہ اجل ہوگئے، بے شمار زخمی ہوگئے لیکن ارباب اقتدار وہی انگشت نمائی، الزام تراشی اور بہانے بازیوں میں مصروف۔ ریلوے کے وزیر سے جو محض ایک معمولی پڑھے لکھے آدمی ہیں، کوئی پوچھے کہ چلتی ریل گاڑی کے تحفظ کیلئے ریلوے کے محکمے کے کوئی طے شدہ اصول اور طور طریقے ہیں جو کسی طبع شدہ صورت میں دستیاب ہوں؟ کیا ریلوے کے محکمے کی جانب سے مسافروں کے تحفظ کیلئے کوئی ہدایت نامہ ہے جو بوگیوں اور پلیٹ فارمز پر نمایاں جگہوں پر لگایا گیا ہو۔

نمایاں جگہ پر تو ریل کے ڈبے میں ایک زنجیر بھی لگی ہوتی ہے۔ سکھایا جاتا تھا کہ اس کی کیا اہمیت ہے۔ بچہ بچہ جانتا تھا کہ زنجیر کا کیا مقصد ہے۔ بے شمار تو لطیفے ہی اس زنجیر کے حوالے سے زبان زدِ عام تھے۔ سارے قصے کہانیاں ایک طرف، سیاسی بیانات برطرف، جواب یہ درکار ہے کہ کیا جلنے والی بوگیوں میں ریل گاڑی روکنے کی زنجیر لگی ہوئی تھی؟ اور کیا وہ زنجیر کام کررہی تھی؟ اگر ان دونوں سوالات کے جواب اثبات میں ہیں تو پھر ریل گاڑی کیوں نہ رکی؟ اور اگر رکی تو آگ کیوں نہ بجھائی جاسکی؟ یہ حادثہ بلدیہ ٹاؤن کی گارمنٹ فیکٹری کے سانحے سے کم نہیں ہے اور اس سانحے کے ذمے دار قانون کی گرفت میں آنے چاہئیں۔ اب گرفت میں بھلا کون آئیگا؟ وزیر ریلوے نے تو بلاتاخیر سارا الزام حادثے میں جان کھو بیٹھنے والوں پر دھر دیا۔ وزیر موصوف کے مطابق ان ہی کے چولہے تھے اور ان ہی کے گیس سلنڈر۔ ایسی باتیں سن کر تو جی چاہتا ہے وزیر ریلوے کو زیر ریلوے ہونا چاہئے۔ اگر ان کے الزام کو سچ بھی مان لیا جائے تو ایک دو مسافروں پر الزام دھرنے سے باقی بیسیوں مسافر جو جل مرے ان کے تحفظ کی ذمے داری کس کی تھی؟ ٹرین کی بوگیوں میں عوام کے تحفظ کے لیے اقدامات کرنا کس کی ذمے داری ہے؟ اگر کوئی ممنوع شے لے کر ٹرین میں چڑھ رہا ہے یا استعمال کررہا ہے تو اسے روکنے کی ذمے داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ کیا اس ذمے داری سے غفلت برتنے والے مجرم نہیں ہیں؟ اگر یہ جرم انتظامیہ کا نہیں تو وزیر ریلوے بتائیں کہ کیا گاڑی روکنے کیلئے زنجیر کام کررہی تھی؟ کیا بوگیوں میں آگ بجھانے والے آلات لگے ہوئے تھے؟ کیا بوگیوں میں دھوئیں کا سراغ لگانے والے الارم نصب تھے؟ کیا کوئی ایسا نظام موجود تھا کہ انجن میں ڈرائیور یا گارڈ یا دیگر عملے کو فی الفور خبر ہوجاتی کہ کون سی بوگی میں آگ لگی ہے؟ کیا ٹرین میں الیکٹریشن موجود تھا؟ اور اگر ان اقدامات میں کسی ایک پر بھی سمجھوتا کیا گیا یا یہ حفاظتی اقدامات ہماری ریل گاڑیوں میں نہیں ہیں تو اس کے اصل ذمے دار وزیر ریلوے ہی ہیں اور متاثرین کو ان کے اور ریلوے کے اعلیٰ حکام کیخلاف قتل کا مقدمہ درج کرانا چاہئے۔ 25مئی2019ء کو اپنے ایک کالم میں راقم نے آگاہ کیا تھا کہ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ پاکستان کے آئین میں صرف ایک جگہ ''تحفظ عوام'' کا ذِکر ہے اور وہ بھی اس حوالے سے کہ مذکورہ شق کا ''تحفظ عوام'' پر اطلاق نہیں۔ حکومت اور پارلیمان کے ایوان سجانے والے طالع آزمائوں نے کبھی اس جانب توجہ ہی نہیں دی اور نہ ہی اس سلسلے میں کوئی قانون سازی کی۔ ایک سیاسی جماعت نے دھرنے دیکر دوسری سیاسی جماعت کے حکومت سے انخلاکی بنیاد ڈالی اور اب تیسری سیاسی جماعت اس کھیل کی ابتدا کرنیوالی سیاسی جماعت کو حکومت سے نکال باہر کرنے کیلئے دھرنے کی دھمکیاں دے رہی ہے۔ پارلیمان بے وقعت ہے۔ صدارتی آرڈیننس تواتر سے چلے آرہے ہیں اور عوام کی حالت خراب سے خراب ہوتی چلی جارہی ہے۔ آگے گڑھا تو پیچھے کھائی۔ جمہوریت ڈگر پر نہ آئے تو آمریت کمر کس کے بیٹھی ہوئی ہے۔ عوام کے تحفظ اور خوشحالی کیلئے البتہ کوئی کمر بستہ نہیں۔ عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک کر ان کی رائے سے حکومت میں آنے کے دعویدار عوام ہی کی جیبوں پر ڈاکے ڈال کر حکومت کے مزے لینے کا خرچہ پانی حاصل کرتے ہیں۔ عوام کو تقسیم کرکے، ان کے درمیان اختلافات پیدا کرکے، اپنی حکومت کو دوام بخشتے ہیں۔ بڑے شہر کچرا کنڈیاں بنتے چلے جارہے ہیں، آمدورفت کے ذرائع ناپید ہیں، سڑکیں گڑھوں میں تبدیل ہوتی جارہی ہیں۔ جرائم، چھینا جھپٹی، لوٹ مار وغیرہ میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ پولیو، ڈینگی اور اب ایڈز جیسی خوفناک اور جان لیوا بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ جاپان اور فرانس ایڈز پھیلنے پر وہاں کے وزرائے صحت سزا پاچکے ہیں۔ یہاں تحفظ عوام کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے جارہے۔ حکومت یا نجی پبلک ٹرانسپورٹ خواہ وہ جہاز ہوں، ٹرین ہو یا بسیں ہوں، مسافروں کے تحفظ کے ذمے دار انہیں چلانے والے ہیں اور اگر کسی نظر انداز کئے گئے نقص، غفلت اور تحفظ کے اصولوں کی پامالی کے نتیجے میں کوئی حادثہ ہوتا ہے تو وہی مجرم ہیں افسوس کہ اس تحریر کے بھی اشاعت کیلئے جاتے جاتے ایک اور خوفناک خبر ذرائع ابلاغ پر نشر ہوگئی کہ کراچی سے سکھر جانیوالی سکھر ایکسپریس میں بھی آتشزدگی کا واقعہ ہوگیا۔ ایک بار پھر وجہ بجلی کے تاروں میں خرابی بتائی جارہی ہے اور اب تک آس پاس کوئی چولہا یا گیس سیلنڈر بھی نہیں پایا گیا کہ جس پر الزام دھر دیا جائے۔ ذمے داروں کی گرفت ہونی چاہئے اور ان کی غفلت کی قرار واقعی سزا انہیں ملنی چاہئے خواہ وہ وزیر ریلوے ہی کیوں نہ ہوں۔ عوام کے تحفظ اور زندگی پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کیا جاسکتا۔

متعلقہ خبریں