Daily Mashriq


جامعہ پشاور میں طلبہ پر تشدد کا افسوسناک واقعہ

جامعہ پشاور میں طلبہ پر تشدد کا افسوسناک واقعہ

پشاوریونیورسٹی میں فیسوں میں اضافہ کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبا پر پولیس کے لاٹھی چارج سے درجنوںطلبا زخمی ہو گئے اورکئی طلباء کوحراست میں لے لیاگیا جس پر طلباء تنظیموں نے پولیس تشدداورگرفتاریوں کے خلاف صوبہ بھر میں احتجاجی مظاہروں کا اعلان کردیا۔ ہمارے نمائندہ کے مطابق جیسے ہی طلبہ نے نیو اکیڈمک بلاک سے ایڈمنسٹریشن بلاک کی جانب مارچ شروع کیا تو پیوٹا ہال کے سامنے پولیس نے انہیں روک لیاجبکہ نہ رکنے پر200سے زائد پولیس اہلکاروں نے طلبہ پر لاٹھی چارج کرتے ہوئے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس دوران پولیس تشدد سے کئی طلبہ زخمی بھی ہوگئے جن میں سے ایک کی حالت تشویش ناک ہے۔دوسری طرف یونیورسٹی انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے پس پردہ سیاسی جماعتیں ہیں جو چند روز قبل یونیورسٹی میں کئے گئے آپریشن کے نتیجے میں بے دخل کیے گئے عناصر کو محفوظ کرنا چاہتی ہیں۔پولیس کے مطابق چند ماہ قبل جامعہ پشاور میں کامیاب آپریشن کر کے ہاسٹل کے 300 کمرے وا گزار کروائے گئے تھے ، ہاسٹل کے کمرے وا گزار کروانے کے خلاف ردعمل دیا جا رہا ہے۔پشاور یونیورسٹی میں فیسوں میں اضافے کے خلاف موقع بہ موقع طلباء کی طرف سے احتجاج ہوتے رہے ہیں۔ صوبے میں اسی حکمران جماعت کے دور حکومت میں طلبہ کے احتجاج کو مفاہمانہ طریقے سے حل کرنے کی مثال موجود ہے لیکن اس مرتبہ اچانک پولیس کی جانب سے تشدد کی انتہا کسی طور ایسا اقدام نہیں جس کی قابل قبول توجیہہ پیش کی جاسکے۔ اس ضمن میں ایک دو روز قبل ہی یونیورسٹی انتظامیہ نے مبینہ طور پر غیر قانونی قابضین سے کمرے خالی کروا کر پیش بندی کر لی تھی تاکہ طلبہ کے جائز احتجاج کو دوسرا رنگ دیا جاسکے لیکن اگر معاملات کا جائزہ لیا جائے تو خود جامعہ پشاور کی انتظامیہ اور کیمپس پولیس کی کارکردگی کا بھانڈا خود انہی کی زبان پھوٹ جاتا ہے۔ ان سے کسی نے سوال نہیں کیا کہ تین سو کمروں پر قبضہ اور لاکھوں روپے کے بقایاجات بننے تک ان کے کان پر جوں تک کیوں نہ رینگی۔ ہاسٹلوں میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے سب سے بڑے شکایتی خود طالب علم رہے ہیں اور وہی ہر لحاظ سے متاثرہ فریق ٹھہرتے ہیں۔ یونیورسٹی انتظامیہ سے استفسار کیا جانا چاہئے کہ تین سو کمروں کو واگزار کرتے ہوئے انہوں نے کتنے افراد کو گرفتار کیا۔ اس وقت تک کسی ایک گرفتاری کی رپورٹ نہیں ایسے میں قصور وار طلبہ ٹھہرے کہ خود یونیورسٹی انتظامیہ فرائض کی ادائیگی میں ناکام اور ذمہ داریوں سے بد ترین غفلت کی مرتکب ٹھہرتی ہے۔ ایک اور سوال یہ ہے کہ اگر احتجاج کرنے والوں میں طلبہ کے ساتھ کوئی بیرونی عناصر بھی شامل تھے تو پولیس نے کتنے افراد کو گرفتار کیا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ جامعہ پشاور کی انتظامیہ کی نا اہلی ہی تھی کہ طلبہ کی آواز اس وقت دبانے کے لئے پولیس کو بد ترین تشدد کا موقع دیاگیا جب وہ احتجاج کرنے ہی والے تھے۔ گرفتار شد گان میں مختلف طلبہ تنظیموں کے طالب علموں کے ہونے سے یہ بات از خود سامنے آتی ہے کہ یہ طلبہ کا فیسوں میں اضافے کے خلاف احتجاج ہی تھا جسے دوسرا رنگ نہیں دیا جاسکتا۔ کسی جامعہ میں پولیس کاداخلہ اور پولیس کا طلبہ پر تشدد رئیس الجامعات کے لئے گالی سے زیادہ برا تصور کیاجاتا تھا۔ وائس چانسلر کسی صورت بھی پولیس کو مداخلت کی اجازت نہیں دیتے تھے۔ پشاور یونیورسٹی میں اس روایت کو جس بری طرح پامال کیاگیا وہ اس لئے زیادہ قابل افسوس ہے کہ طلبہ نے نہ تو املاک کو نقصان پہنچایا تھا اور نہ ہی یونیورسٹی کے دفاتر پر حملہ کرکے عملے کو زد و کوب کیا۔ ایک جمہوری ملک میں پر امن احتجاج کا اگر حق بھی چھینا جائے تو پھر ’’ٹوپک زما قانون‘‘ کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔ جامعہ پشاور کی انتظامیہ اور پولیس کے عاجلانہ اقدام سے احتجاج کو مزید ہوا ملنا فطری امر تھا۔ طلبہ پر تشدد کے خلاف مظاہرے پھیلنے کااندیشہ ہے جس سے تعلیمی امن کے متاثر ہونے اور طلبہ کے قیمتی وقت کا ضیاع ہوگا۔ جامعہ پشاور میں ہونے والی اس صورتحال پر صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت کو مخالفین کی جانب سے آڑے ہاتھوں لینے کا موقع ملنا فطری امر تھا۔ اس واقعے کی ملک کی اعلیٰ سیاسی قیادت کی جانب سے مذمت فطری امر تھا۔ اگر صوبائی حکومت کو اس معاملے کا احساس ہے تو گورنر اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کو چاہئے کہ وہ جامعہ پشاور میں طلبہ پر تشدد کا نوٹس لیں اور اس کی تحقیقات کروائی جائے۔ صوبائی حکومت کے ترجمان اگر اس واقعہ کا جامعہ پشاورکے ترجمان بن کر ضاحت نہ کرتے تو یہ موقع تھا کہ صوبائی حکومت اس معاملے کی سرپرست قرار نہ پاتی۔ بہر حال اس کے باوجود تعلیمی امن اور طلبہ کے مفاد میں اس معاملے کا نوٹس لیا جانا چاہئے۔ اگر جامعہ پشاور کی انتظامیہ نجی اداروں جتنی فیسیں لے کر بھی جامعہ نہیں چلا سکتی تو پھر اس پر سرکاری تعلیمی ادارے کی چھاپ بھی لگے رہنے دینے کی حاجت نہیں اور نہ ہی طلبہ کی فیسوں سے مراعات کے مزے لینے کی گنجائش ہے۔

متعلقہ خبریں