Daily Mashriq


عالم دین کی محافظ سمیت ٹارگٹ کلنگ

عالم دین کی محافظ سمیت ٹارگٹ کلنگ

اہلسنت والجماعت کے رہنما ممتاز عالم دین اور پی کے اٹھتر سے ضمنی انتخاب میں صوبائی اسمبلی کی نشست کے امیدوار مولانا اسماعیل درویش کامحافظ سمیت ٹارگٹ کلنگ کانشانہ بننا اندوہناک اور افسوسناک سانحہ ہے۔ اس واقعے کے کئی پہلو ہیں۔ چونکہ تازہ صورتحال میں وہ ایک نشست پر انتخاب لڑ رہے تھے اس لئے ان کو راہ سے ہٹانے کی ایک ممکنہ وجہ ضمنی انتخاب کے التواء کی سازش ہوسکتی ہے۔ قبل ازیں اسی نشست سے انتخاب لڑنے والے ہارون بلورکو خود کش حملے کا نشانہ بنایاگیا تھا لیکن یہ امکان کم ہی ہے کہ ان کے قتل کی یہ ممکنہ وجہ ہو۔ ایک مخصوص دینی حلقے سے ان کا تعلق تھا اس لئے اس معاملے میں فرقہ واریت کے امکان کو بھی رد نہیں کیاجاسکتا۔ مگر حال ہی میں محرم الحرام کے مکمل طور پر پر امن گزر جانے کے تناظر میں یہ امکان بھی کم ہی ہے کہ ان کو اس بناء پر نشانہ بنایا گیا ہو۔ ان کی ذاتی دشمنی کے حوالے سے بھی کوئی اطلاع نہیں اس لحاظ سے یہ قتل کا ایک ایسا منصوبہ بند واقعہ ٹھہرتا ہے جس کے پس پردہ مقاصد کا اسی وقت ہی علم ہوسکتا ہے جب اس واقعے کے ذمہ دار عناصر قانون کی گرفت میں آجائیں۔ صوبے میں ایک جید عالم دین کی پولیس محافظ کے ہمراہ ٹارگٹ کلنگ اور قاتلوں کا فرار جہاں ان کی مہارت اور منصوبہ بندی کامظہر ہے وہاں ان کا فرار پولیس کی ناکامی ہے جس سے شہریوں میں عدم تحفظ کا بڑھ جانا فطری امر ہوگا۔ شہر میں ٹارگٹ کلنگ کی تازہ واردات پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لئے لمحہ فکریہ ہے اس سے بڑھ کر افسوسناک امر یہ ہے کہ ہماری پولیس جب تک کوئی بڑا واقعہ نہ ہوجائے متحرک نہیں ہوتی۔ چیکنگ اور خفیہ اطلاعات کا نظام جب ڈھیلا پڑ جاتا ہے تو فساد پر آمادہ قوتوں کو موقع مل جاتا ہے اور وہ اس قسم کی کوئی واردات کرکے کمین گاہوں میں جا چھپتے ہیں۔ شہر میں پولیس گشت کرایہ داروں کے کوائف کے حصول اور سماج دشمن عناصر پر نظر رکھنے کا عمل تسلسل کا متقاضی ہے جس میں تساہل آتے ہی ٹارگٹ کلنگ‘ بھتہ خوری اور اغواء کار متحرک ہوتے ہیں۔ معلوم نہیں موقع واردات کے ارد گرد کوئی سی سی ٹی وی کیمرہ موجود تھا بھی کہ نہیں۔ اگر تھا تو کیمرے صحیح کام کر بھی رہے تھے یا نہیں۔ تازہ واردات شہر میں سیاسی‘ مذہبی اور فرقہ واریت کئی لحاظ سے خطرے کی گھنٹی ہے جس کی آواز سننی چاہئے اور پولیس کو متحرک ہو کراس واردات کے ذمہ داروں کو جتنا جلد ہوسکے گرفتار کرکے شہریوں میں پھیلی بے چینی اور عدم تحفظ کے احساس میں کمی لانے کی سعی کرنی چاہئے۔

گیس کی قیمتوں میں اضافہ عوام پر ایک بھاری بوجھ

گھریلو، کمرشل اور صنعتی صارفین کے لیے گیس کے نرخوں میں 10 سے 143 فیصد تک اضافہ سے عوام میں تشویش اور مہنگائی میں اضافہ فطری امر ہے۔گیس کے نرخوں میں گزشتہ 4 سال کے دوران کسی قسم کا اضافہ نہیں کیا گیا تھا۔گیس کی قیمتوں میں اضافے سے سی این جی کے نرخوں میں 40 فیصد اضافہ کا امکان ہے۔گیس کی قیمتوں میں اضافہ اگرچہ ہر دور حکومت میں ہوتا آیا ہے لیکن موجودہ حکومت کے عمائدین کی جانب سے قبل از حصول حکمرانی تیل اور گیس کی قیمتوں کے حوالے سے جس قسم کے دعوئوں کا اظہار کیا جا رہا تھا اس سے توقع نہیں تھی کہ نئی حکومت اتنی جلدی بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ کرکے عوام پر مزید بوجھ ڈال دے گی۔ حکومت نے گیس کے نرخوں میں بلند شرح کااضافہ کیا ہے جو اپنی جگہ نا قابل یقین اقدام ہے۔ اس سے انکار ممکن نہیں کہ گیس ‘پٹرولیم مصنوعات ‘بجلی کی قیمتوں ٹال ٹیکس وغیرہ کی شرحوں میں اضافہ ہر حکومت کی مجبوری اور آمدنی کاذریعہ ہوتاہے لیکن یکایک اتنا اضافہ عوام کی کمر توڑنے کے مترادف ہے۔ ٹال ٹیکس میں بھی گیس کے نرخوں کی طرح خاصا اضافہ کیاگیا ہے جبکہ بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی بھی اطلاعات ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات کی جانب سے میڈیا پر اس قسم کی متوقع صورتحال کی اطلاعات میڈیا پر آنے کے بعد اس کی واضح تردید کی گئی تھی مگر چند ہی دنوں بعد بلی تھیلے سے باہر آگئی۔ حکومت کی مجبوریاں اور آئی ایم ایف کا دبائو اپنی جگہ لیکن یہ امر بھی مد نظر رہے کہ عوام مزید بوجھ اٹھانے کے متحمل نہیں۔ مہنگائی میں معمول کااضافہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں لیکن بجٹ آنے اور تیل و گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات سے ہر چیز کی قیمتوں کو پر لگ جانا ایک ایسامعمول بن چکا ہے جس سے عوام کی زندگی اجیرن ہے اور وہ جسم و جان کارشتہ بر قرار رکھنے کی سکت سے بھی محروم ہو رہے ہیں۔ عوام کو حکومت سے جس قسم کی اصلاحات اورریلیف کی توقع تھی اس کے دور دور تک آثار نظر نہیں آتے‘ الٹا عوام پر بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔ حکومت عوام کی فلاح کے لئے جن اقدامات کاعندیہ دے رہی ہے بجائے اس کے کہ ا ن اقدامات کو سامنے لایا جاتا ایسے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں جو مہنگائی میں اضافے اور عوام کی پریشانیاں بڑھانے کا باعث ہیں۔ توقع کی جانی چاہئے کہ حکومت اس قسم کے اقدامات سے گریز کرے گی جس سے عوام کی مشکلات میں اضافہ ہو۔

متعلقہ خبریں