Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

حضرت بہلول داناؒ ایک مشہور ولی گزرے ہیں۔ ایک مرتبہ آپؒ نے ایک بچے کو دیکھا جو کھڑا رو رہا تھا۔ دوسرے بچے اخروٹ سے کھیل رہے تھے۔ آپؒ نے سمجھا کہ اس کے پاس اخروٹ نہیں ہے اس لئے رو رہا ہے۔ میں اسے ایک اخروٹ لے کر دیتاہوں۔ اس لئے بچے سے کہا کہ بیٹا! رو نہیں‘ میں تجھے اخروٹ دیتا ہوں‘ تو بھی بچوں کے ساتھ کھیل۔ یہ سن کر بچے نے کہا: بہلول! کیا ہم دنیا میں کھیلنے آئے ہیں؟ بچے کا غیر متوقع جواب سن کر آپؒ نے کہا کہ پھر ہم کس لئے آئے ہیں؟ بچے نے کہا کہ ہم خدا کی عبادت کرنے کے لئے آئے ہیں۔ آپؒ نے کہا کہ بچے! ابھی تو بہت چھوٹا ہے‘ تجھے اس غم کی کوئی ضرورت نہیں‘ ابھی تیرے پاس بہت وقت ہے۔ بچے نے کہا کہ ارے بہلول! مجھے دھوکہ نہ دیں۔ میں نے اپنی ماں کو دیکھا ہے کہ جب وہ صبح آگ جلاتی ہے تو پہلے چھوٹی لکڑیوں سے جلاتی ہے پھر بعد میں بڑی لکڑیاں رکھتی ہے اس لئے مجھے ڈر ہے کہ کہیں جہنم کی آگ مجھ سے نہ جلائی جائے اور پھر میرے اوپر بڑوں کو نہ ڈالا جائے۔ بچے کی یہ بات سن کر حضرت بہلولؒ بے ہوش ہو کر گر گئے۔ مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم فرماتے ہیں: جب کوئی شخص تمہاری تعریف کرے تو دل ہی دل میں دعا مانگو کہ خدایا! یہ شخص نہیں جانتا کہ مجھ میں کیا کیا عیب ہیں لیکن تو بخوبی جانتا ہے یہ شخص میری تعریف میں جو کچھ کہہ رہا ہے اس کو سچ کر دکھا اور مجھ میں جو عیوب اور غلطیاں ہیں انہیں دور فرما تاکہ میری ذات کا بھرم اس شخص کے آگے قائم رہے۔ مجھے ندامت سے بچا کیونکہ تو ہی بہتر جاتا ہے کہ کون کس قابل ہے۔

علامہ سید رشید رضا مصری مرحوم لکھتے ہیں کہ طرابلس شام میں عیسائیوں کے ایک مقتدر رہنما سکندر کاستفلیس تھے وہ وہاں روس اور جرمنی دونوں کے قونصل کی حیثیت سے کام کر رہے تھے۔ میں اس وقت تعلیم حاصل کر رہا تھا اور والد کے ایک کام سے ان کے پاس گیا۔ اس موقع پر دوران گفتگو انہوں نے اسلام اور عیسائیت کے تقابل کے سلسلے میں ایک ایسی بات کہی جو میں کبھی بھول نہیں سکتا۔ وہ کہنے لگے:’’ اسلام کی خوبیاں پہاڑوں کی طرح عظیم پایہ‘ بلند مرتبہ اور مستحکم ہیں لیکن تم لوگوں نے انہیں اس طرح دفن کر رکھا ہے کہ نہ وہ کسی کو نظر آتی ہیں نہ ان کا پتہ چلتا ہے اور ہمارا حال یہ ہے کہ ہمارے پاس دین عیسائیت کی خوبیاں نہایت تھوڑی اور وہ بھی بہت مدھم ہیں لیکن ہم نے انہیں ’’مسیحیت کے فضائل‘‘ کے نام سے پھیلا پھیلا کر دنیا بھر دی ہے۔‘‘ (الوحی المحمدیؐ: سید رشید رضا ص170 )

حضرت لقمان حکیم علیہ الرحمتہ نے اپنے بیٹے سے فرمایا: ’’ اے جان پدر! میں تمہیں ایک ایسی قیمتی بات کی وصیت کرتا ہوں جو تمہیں تمہارے رب کا قرب عطا کرے گی اور تمہیں تمہارے رب کی ناراضگی سے دور کردے گی۔ وہ یہ کہ خالصتاً اپنے پروردگار کی عبادت کرتے رہو اور شرک سے بچو‘ نیز خوشی و ناخوشی میں اپنے رب کی تقدیر پر راضی رہو۔

(نصائح لقمان)

متعلقہ خبریں