Daily Mashriq


دینی مدارس کوبند گلی سے باہر نکلنا ہوگا

دینی مدارس کوبند گلی سے باہر نکلنا ہوگا

دینی مدارس کی رجسٹریشن منسوخ کرنے یا ان پر پابندیاں لگانے کی اطلاعات کی تردید کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ علماء ایسی باتوں پر توجہ نہ دیں حکومت اداروں کی بہتری کے لئے اقدامات کرے گی مدارس کی خدمات کو نظر انداز کرنا یا ان کو دہشت گردی سے منسلک کرنا ناانصافی ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ مختلف مدارس و مکاتب فکر کے علماء کی وزیراعظم سے ملاقات سے قبل متعلقہ اداروں نے وزیراعظم کو مفصل بریفنگ نہیں دی ۔ ایسا کیا گیا ہوتا تو وزیراعظم ملاقات کے لئے آنے والے علماء کے سامنے وہ مسائل بھی رکھتے جو مدارس کے نصاب اور بعض مدارس کے کالعدم تنظیموں سے روابط کی وجہ سے پیدا ہوئے ۔

دینی مدارس کی اہمیت سے کسی کو انکار نہیں بنیادی سوال جسے ہمیشہ نظر انداز کیا گیا وہ ان مدارس کا نصاب تعلیم ہے جو اپنے پڑھنے والوں کو اپنے عہد کے سماج سے الگ دنیا کا باسی بنادیتا ہے ۔ اس دنیا جہاں پر طالب علم اپنی تعلیم وتربیت کے نتیجے میں خوداور اپنے ہم خیالوں کو اعلیٰ وارفع مسلمان سمجھتا ہے مگر دیگر کے لئے اس کے فہم اور رویئے میں تلخی در آتی ہے۔ یہاں یہ امر بھی قابل غور ہے کہ دینی مدارس کو جب بھی کسی نظام کا حصہ بنانے کی کوشش ہوئی تو بنا سوچھے سمجھے دینی حلقوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ حکومت اسلامی تعلیمات پر پابندیاں لگارہی ہے ۔ ماضی کی حکومتیں ہوں یا موجودہ حکومت کوئی بھی اصلاحی تعلیمات پر پابندیاں نہیں لگانا چاہتا ۔ سبھی کی خواہش یہ تھی اور ہے کہ مدارس کے نظام تعلیم کو اس طرح جدیدخطوط پر استوار کیا جائے کہ اسلامی تعلیمات کی روح فرقہ وارانہ مناظرہ بازی کے ماحول اورنصاب سے مسخ نہ ہو اور نصاب میں جدید تعلیم کے چند موضوعات شامل کرکے مدارس کے طلباء کو اجتماعی زندگی کا حصہ بننے میں مدد دی جاسکے۔

المیہ یہ ہے کہ دو اہم ترین مسئلوں کو دینی مدارس کے مالکان و منتظمین ہمیشہ سے نظر انداز کرتے رہے اولاً یہ کہ ان مدارس کے نصاب فرقہ واریت سے عبارت ہیں۔ محض اپنے سخت گیر عقائد کو ہی اسلام اور ضابطہ حیات سمجھ لینے والا طالب علم سماجی ارتقاء میں اپنا کردار کیسے ادا کر سکے گا۔ ثانیاً یہ کہ اگر ہزار سال پرانے نصابوں پر جدید دور کے تقاضوں کے مطابق تبدیلی نہیں لائی جائے گی تو کیسے ممکن ہوگا کہ کسی مدرسے سے تعلیم مکمل کرچکنے والا طالب علم زندگی کے کسی دوسرے شعبے میں اپنا کردار ادا کر پائے؟ اس امرکو مد نظر رکھا جانا بہت ضروری ہے کہ مسلم تاریخ کے جن مشاہیر کی فلسفہ‘ طبیعات‘ الجبرا اور دوسرے موضوعات کے ماہر کے طور پر صدیوں سے اقوام کی برادری میں تکریم کی جا رہی ہے ہ بھی تو اپنے اپنے ادوار کے روایتی مدارس سے ہی پڑھ کر نکلے تھے۔

دینی مدارس کے مالکان و منتظمین کو ٹھنڈے دل سے سوچنا ہوگا کہ ان مدارس نے پچھلے کم از کم ایک ہزار برس میں کتنے ابن رشد‘ یعقوب‘ الکندی‘ فارابی‘ سینا اور اس مقام و مرتبہ کے عالم و محقق اور دانشور پیدا کئے؟ جو پیدا کئے وہ مسلم سماج کے ارتقائی سفر میں معاون و مدد گار بنے یا پھر ان کی وجہ سے سماجی زندگی در ہم برہم ہوئی۔ نشاندہی کے لئے چند نام عرض کئے جاسکتے تھے لیکن ہمارا مقصد محض تنقید نہیں بلکہ تعمیری کوششوں میں حصہ ڈال کر دینی مدارس کے ذمہ داروں کو یہ احساس دلوانا ہے کہ ان کے کردار و کارکردگی سے کوئی بھی انکار نہیں کر رہا۔یہ وہ نصاب اور ماحول ہے جس سے مدارس کے سابقین عملی زندگی میں محض مسجد و مدرسہ تک محدود ہو کر رہ جاتے ہیں اس طور یہ ہوتا ہے کہ وہ سماج کو گمراہ سمجھنے لگتے ہیں اور سماج انہیں بند گلی میں مقیم طبقہ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دینی مدارس کے نصاب ہائے تعلیم میں پہلے مرحلے پر ایسی تبدیلیاں لائی جائیں جن سے وہ دوسروں کو ساری حیثیت کا مسلمان سمجھنے لگیں اور اگلے مرحلہ پر مدارس کے نصاب میں سائنسی علوم کے ساتھ سیاست‘ تاریخ عالم اور تقابل ادیان کے سنجیدہ موضوعات رکھے جائیں تاکہ ان مدارس سے تعلیم مکمل کرنے والے طلباء کے پاس بھی عملی زندگی میں ایک سے زائد شعبوں کے انتخاب کاموقع ہو اور محض پیش نماز بننے کی بجائے ڈی سی‘ ایس پی اوردوسرے منصب بھی حاصل کرسکیں۔

یہ سب اس طور ممکن ہے جب فرقہ وارانہ ماحول میں تازہ ہوا کے لئے کھڑکی کھولی جائے۔ تازہ ہوا کے لئے کھڑکی کھولنے کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ کوئی شخص ‘ طبقہ یا حکومت مدارس کی اہمیت ان کے کردار یا اسلامی تعلیمات کی ضرورت سے انکاری ہے بلکہ سبھی یہ چاہتے ہیں کہ دینی مدارس کے وہ طلباء جن کی 99فیصد تعداد کا تعلق معاشرے کے کچلے ہوئے اور محروم طبقات سے ہوتا ہے وہ بھی زندگی کے مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرسکیں۔ یہ اسی صورت ممکن ہوگا جب مدارس کے نصاب ہائے تعلیم میں قدیم و جدید علوم کو مساوی طور پر جگہ دے کر غریب طبقات کے طلباء کے دلوں میں بھی ڈاکٹر‘ انجینئر‘ سائنسدان‘ وکیل‘ جج‘ صحافی‘ افواج میں کمیشن آفیسر بننے کا شوق پیدا ہو۔ کیا ہم میں کوئی اس امر سے انکار کرسکتا ہے کہ اگر بالفرض ایک سال میں چاروں مسالک کے دینی مدارس سے 50ہزار طلباء بھی تعلیم مکمل کرکے عملی زندگی میں قدم رکھتے ہوں تو ان کی دنیا کتنی وسیع ہے؟ موذن‘ پیش نماز‘ مدرس ہی بن سکتے ہیں یا پھر مناظرہ باز۔ کیا ان شعبوں میں ہر سال 50ہزار افراد کو روز گار مل سکتا ہے؟ اس سوال کا جواب لکھنے کی بجائے سمجھنے کی ضرورت ہے اپنے چار اور بغور دیکھ لیجئے جواب مل جائے گا۔یہی وہ نکتہ ہے جس کی بنا پر اہل دل اور صاحب اولاد یہ چاہتا ہے کہ دینی مدارس کے نصاب ہائے تعلیم کو اس طور جدید ضرورتوں سے ہم آہنگ کیا جائے کہ ان مدارس سے نکلنے والے طلباء بھی صوبائی اور وفاقی سطح کے مقابلوں کے امتحانات میں شریک ہو کر ان منصبوں پر فائز ہو سکیں جن پر ان کا بھی مساوی حق ہے۔ ہمارے خیال میں وقت آگیا ہے کہ دینی مدارس کے بورڈز‘ اہل دانش اور حکومت کے ساتھ مل بیٹھ کر جدید نصاب تعلیم مرتب کرنے اور اصلاح احوال کے لئے عملی کوششوں کا آغاز کریں۔

متعلقہ خبریں