Daily Mashriq


آبادی اور ریاستی اقدامات

آبادی اور ریاستی اقدامات

پاکستان تحریک انصاف کو ایسے حالات میں اقتدار ملا ہے کہ جب ملک کو متعدد اندرونی و بیرونی چیلنجز کا سامنا ہے،پی ٹی آئی کی حکومت کو اگرچہ بہت مسائل درپیش ہیں لیکن اگر وہ اپنی ساری توجہ صرف ایک کام پر مرکوز کر لے تو امید کی جا سکتی ہے کہ وہ محض ایک کام سے دیگر بیسیوں قسم کے مسائل پر قابو پا سکتی ہے اور عوام کی عدالت میں بھی سرخرو ٹھہرسکتی ہے،وہ کام یہ ہے کہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی کا مناسب حل تلاش کیا جائے ۔مناسب حل کے الفاظ ہم نے اس لئے استعمال کئے کہ پاکستان میں آبادی کا مسئلہ جس قدر شدیداور حل طلب ہے اس سے کہیں زیادہ یہ مسئلہ اختلافات اور عدم توجہی کا شکاربھی ہے،ماضی کی کسی بھی حکومت کا یہ مسئلہ اولین ترجیح نہیں رہا، نہ کسی حکومت نے بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر منصوبہ بندی کی اور نہ ہی کسی حکومت اس مسئلے کے حل کے لئے وسائل مہیا کئے، نتیجہ یہ نکلا کہ ’’چھوٹا گھرانہ خوشحال پاکستان‘‘ جیسے تمام منصوبے اور پروگرام وقت کے ساتھ ساتھ دم توڑ گئے اور عوام کو ان حکومتی منصوبوں سے خاطر خواہ فوائد حاصل نہ ہوسکے، اس مسئلہ کا ٹھوس حل نہ نکلنے کی ایک وجہ ہمارے سماج میں پائی جانے والی مذہبی سوچ بھی ہے جس کا مستقل حل نکالنا اور جید علماء کرام کے پیغامات کو تسلسل کے ساتھ عوام تک پہنچانا ریاست کی ذمہ داری ہونی چاہئے،مجھے اس وقت شدید حیرت ہوتی ہے کہ جب ہمارے عوامی نمائندے پارلیمنٹ میں آبادی جیسے اہم ایشو پر بات کرنے کی بجائے نان ایشوز پر باہم دست وگریباں نظر آتے ہیں۔

امر واقعہ یہ ہے کہ دنیا کے جن معاشروں میں آبادی ریاستی منصوبہ بندی کے تحت بڑھتی ہے، ہر کسی کے لیے علم و تحقیق کے در وا ہوتے ہیں، سوچ اور اظہار کی آزادی ہوتی ہے، انصاف، بنیادی حقوق، روزگار اور تفریح کے مواقع یکساں طور پر ارزاں دکھائی دیتے ہیں، خوشحالی اور عوام کی حاکمیت کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے، وہاں شہریوں کو اپنی اور دوسروں کی زندگی سے پیار ہوتا ہے۔ باہمی احترام، تنظیم اور قانون کی پابندی ایسی عادات لوگوں کی سرشت میں سما جاتی ہیں۔ ایسے معاشروں میں جہالت اور انتہا پسندی کوئی مقام حاصل کر سکتی ہیں، نہ لاقانونیت اور قتال و جدال پنپ سکتے ہیں۔ جبکہ اس کے برعکس جن ممالک میں آبادی بے ہنگم طریقے سے بڑھتی ہے، سوچ اور علم و آگہی کے دریچے مقفل ہوتے ہیں، تنگ نظری اور گھٹن کا ماحول ہوتاہے، صحت و تعلیم کی سہولتیں عنقا ہوتی ہیں۔

آبادی کو ام المسائل کہا جاتا ہے کیونکہ دنیا کے جن ممالک میں آبادی 2.4 فیصد سالانہ کی خوفناک شرح سے بڑھ رہی ہے، ان میں پاکستان بھی شامل ہیں۔پاکستان کی چھٹی مردم شماری کے نتائج کے مطابق پچھلے 19 سال کے دوران 57 فیصد اضافے کے ساتھ ہماری آبادی 20 کروڑ 77 لاکھ 74 ہزار ہو چکی ہے۔ 2.4 فیصد کی قابل رشک شرح نمو کے ساتھ ہم ہر سال تقریباً 50 لاکھ بچے پیدا کر رہے ہیں۔اس سے قبل پاکستان کو آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چھٹا بڑا ملک کہا جاتا تھا‘ مگر 2017ء میں ہونے والی مردم شماری کے بعد ہم ترقی کر کے پانچویں نمبر پر آگئے ہیں۔یونیسکو اپنی گلوبل مانیٹرنگ رپورٹ میں کہتا ہے کہ پاکستان گزشتہ 15 برس میں تعلیمی پروگرام کا کوئی بھی ہدف پورا نہیں کر سکا۔ ہماری شرح خواندگی جنوبی ایشیا میں سب سے کم یعنی 57 فیصد ہے۔ ملک عزیز کا شمار ان 9 ممالک میں ہوتا ہے جو تعلیم پر سب سے کم خرچ کرتے ہیں۔ دنیا کی سات سو بہترین یونیورسٹی کی لسٹ کو چھوڑیے، ایشیاء کی سو اچھی جامعات میں ہماری ایک بھی نہیں۔ اقوام متحدہ کی گلوبل ایجوکیشن مانیٹرنگ رپورٹ کہتی ہے کہ وطن عزیز تعلیم کے میدان میں دیگر ممالک سے پچاس سال پیچھے رہ گیا ہے۔ ہماری آدھی سے زیادہ آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گھسیٹ رہی ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ یہاں تیس فیصد لوگ ذہنی مریض ہیں۔ انصاف کے لیے یہاں نسلیں رلتی ہیں ،ہمارے سکول جانے کی عمر کے بچوں کی نصف تعداد یعنی اڑھائی کروڑ نونہال سکولوں سے باہر ہیں۔یہ نونہال کیا کرتے ہیں، یہ ناخواندہ اور نیم خواندہ شہری کس کام آتے ہیں، ان بے روزگاروں کا کیا شغل ہے، ان خط غربت سے نیچے رینگنے اور انصاف کے لیے رلنے والوں کی مصروفیات کیا ہیں، یہ تیس فیصد ذہنی مریض کس مشن پر ہیں۔ یہ سب باہمی انتشاروافتراق کے گل کھلانے کے علاوہ تیز رفتاری سے بڑھتی شدت پسندی کا ایندھن ہیں، جو نادانستہ اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایک خوفناک معاشرہ تشکیل دے رہے ہیں۔ ان محروم، نابلد اور دنیا سے بے خبر لوگوں کے غول بیابانی کے ناپختہ اذہان کو کوئی بھی شعبدہ باز اپنی کم علمی کی آتش بیانی سے مہمیز کرکے ان کا جذباتی استحصال کرتا ہے اور اپنے حصے کی بھیڑ بکریاں اپنے پیچھے لگا لیتا ہے۔بڑھتی آبادی کے مسائل کے سدباب کیلئے ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ سیاسی ،سماجی اور مذہبی قیادت کو اعتماد میں لیکر کوئی ایسا لائحہ عمل طے کرے کہ جس میں عوام کے تمام حلقوںکی نمائندگی دکھائی دے کیونکہ آبادی کے مسائل سے نمٹنا تنہا حکومت کے بس کی بات نہیں ہے،لیکن کسی بھی منصوبے کو جب تک حکومتی سرپرستی حاصل نہ ہو اس کے ثمرات حاصل نہیں کئے جا سکتے ، سو اگر پی ٹی آئی کی حکومت ترجیحی بنیادوں پر آبادی کے مسائل سے نمٹنے کا کوئی منصوبہ لاتی ہے تو امید کی جا سکتی ہے کہ محض اس ایک منصوبے سے وہ دیگر بیسیوں مسائل پر قابو پالے گی۔

متعلقہ خبریں