Daily Mashriq


ایک اورڈیل حقیقت یا افسانہ؟

ایک اورڈیل حقیقت یا افسانہ؟

مسلم لیگ ن کے راہنما رانا مشہود نے اسٹیبلشمنٹ اور مسلم لیگ ن کے درمیان معاملات طے پاجانے کی بات کر کے سیاسی تالاب کی لہروں میں ایک بار پھر ارتعاش پیدا کر دیا ہے۔ رانا مشہود نے کچھ ایسا تاثر دیا گویا کہ شہباز شریف کے وزیراعظم نہ بننے کا فوج کو قلق ہے اور وہ اس احساس زیاں کی تلافی اب انہیں وزیراعلیٰ پنجاب بنا کر کرنے کی جانب مائل ہو رہے ہیں۔ رانا مشہود کی بات سے یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ پنجاب میں اقتدار ملنے کی صورت میں میاں نواز شریف اور مریم نواز کا لب ولہجہ بھی بدل جائے گا۔ رانا مشہود کے اس بیان کی ہر جانب سے تردید ہو رہی ہے۔ خود رانا مشہود نے اپنے مؤقف کو سیاق وسباق سے ہٹ کر پیش کرنے کی بات کی۔ ان کی گفتگو کی سب سے اہم فریق فوج نے اپنے ترجمان کے ذریعے رانا مشہود کی بات کی قطعی تردید کی اور اسے بے بنیاد قرار دیا اور یہ کہنا بھی ضروری سمجھا کہ اس طرح کی خبروں سے سیاسی عدم استحکام پیدا ہوتا ہے۔ رانا مشہود کی گفتگو سے اس تاثر کو تقویت ملی ہے کہ فوج اور شریف خاندان کے درمیان ایک بار پھر ڈیل اور ڈھیل کا کھیل شروع ہو رہا ہے۔ اس ملک کی سیاسی تاریخ کے عین مطابق ایسا ہو جاتا ہے تو اس سے نہ کوئی آسمان گر پڑے گا نہ کوئی نئی تاریخ اور روایت قائم ہوگی۔ پاکستان کی تاریخ حکمران اور بااثر طبقات کے درمیان اس طرح کی آنکھ مچولی سے بھری پڑی ہے۔ ایک دور کے معتوب دوسرے دور کے محبوب بنتے رہے ہیں اور ایک دور کے معتوب دوسرے دور میں مصلوب قرار پاتے رہے ہیں۔ خود فوج اور شریف خاندان کے درمیان ماضی میں تیسرے فریق کی سہولت کاری سے کامیابی سے معاملات طے پاتے رہے ہیں۔ میاں نوازشریف اور مریم نواز کی ضمانت پر منظوری سے زیادہ ضمانت کی درخواست کی مقدمے میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں نیب کے پراسیکیوٹرز کا عدم دلچسپی کا رویہ باعث حیرت تھا۔ میاں نوازشریف اور مریم نواز کی ضمانت پر رہائی کے بعد اس طرح کی باتیں عام ہوئیں اور دونوں کی ضمانت ہوتے ہی فواد چوہدری کا یہ کہنا معنی خیز تھا کہ اب لوگوں کو یہ بات سمجھ آگئی ہوگی کہ ہم نے میاں نوازشریف کا نام ای سی ایل میں کیوں ڈالا تھا۔ پہلا کنفیوژن تو اس بیان سے ہی پیدا ہوا تھا جس سے یہ تاثر ملا تھا کہ ضمانت پر رہائی عمران حکومت سے بالابالا ہی مسلم لیگ ن کی سخت گیر قیادت اور فوج کے درمیان معاملات طے پا رہے ہیں۔ اب عدلیہ کی طرف سے احتسابی عمل پر عدم اطمینان کے کھلے اظہار نے بھی اس تاثر کو تقویت دی ہے کہ پاکستان کے معاملات وحالات وہی نہیں جو پردے پر نظر آرہے ہیں بلکہ پردے کے پیچھے بھی ایک دنیا ہے۔ پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کی طرح مسلم لیگ ن بھی ایک سیاسی اور زمینی حقیقت ہے۔ مسلم لیگ ن کا خمیر جس خطے سے اُٹھا ہے وہاں زیادہ دیر تک انقلابیت کا پرچم بلند نہیں رکھا جا سکتا۔ مسلم لیگ ن کا گزشتہ ماہ وسال میں اپنایا گیا یہ طرز ماؤ اور چی گویرا کی تصویروں تلے سیاست کرنے والے سندھ اور بلوچستان کے قوم پرستوں کے ہاں تو چل سکتا ہے مگر وسطی پنجاب نہ اس طرز سیاست کا خوگر ہے نہ وہ تادیر انقلابی خو بو کا بوجھ برداشت کر سکتا ہے۔ مسلم لیگ ن کو بھی اس تلخ زمینی حقیقت کا سامنا ہے اور اس طرز سیاست میں موافق سیاسی انداز وہی ہے جو میاں شہباز شریف اپنائے ہوئے ہیں۔ مسلم لیگ ن کو طاقت کے مدار میں واپس لانے کا کام شہباز شریف ہی انجام دے سکتے ہیں۔ شہباز شریف اور عثمان بزدار کا دکھ مشترک ہے کہ ان کے اپنے ہی انہیں سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ شہباز شریف کے اہل خانہ ہی چاہتے ہیں کہ سیاست میں ان کی واپسی کا در کھلنے تک ان کی قیادت ایک نقش ناپائیدار رہے اور پھر وہ فاتحانہ تب وتاب سے اس دیار میں داخل ہوں اور شہباز شریف خود بخود پیچھے ہٹتے چلے جائیں۔ یہ تجربہ ماضی میں دہرایا جا چکا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ رانا مشہود کا تعلق مسلم لیگ ن میں کس دھڑے سے ہے؟۔ اگر وہ میاں نوازشریف کے ہمنوا ہیں تو پھر ان کی باتوں کا مفہوم کچھ اور ہے اور اگر وہ شہباز شریف کے ساتھی ہیں تو پھر اس بیان کا مفہوم قطعی جدا ہے۔ ضمنی الیکشن سے تھوڑی سی دوری پر اسٹیبلشمنٹ کیساتھ معاملات طے پاجانے کی نوید میں اسٹیبلشمنٹ کیلئے ایک پیغام یہ بھی ہوسکتا ہے کہ، ایسا ہو بھی سکتا ہے اور مسلم لیگ ن اس کیلئے تیار بھی ہے۔ ایک پیغام دنیا کیلئے بھی ہو سکتا ہے کہ ملک میں اب بھی اصل طاقت اسٹیبلشمنٹ ہے اور سویلین نظام ایک سراب کے سوا کچھ نہیں گویاکہ دنیا کو یہ بتانا مقصود ہے کہ ملک میں اصل بالادستی فوج کی ہے اور یہ کہ ملک میں قاعدے قانون کی بجائے اب بھی ڈیل اور ڈھیل کی سیاست رائج ہے۔ شاید بیان کے اس پہلو کو محسوس کرتے ہوئے آئی ایس پی آر کے سربراہ نے ایسے کسی تاثر کی سختی سے تردید کرنے کی ضرورت محسوس کی۔ وقت گزرنے کیساتھ ساتھ مسلم لیگ ن میں ایک فارورڈ بلاک کے امکانات بڑھتے جا رہے ہیں۔ میاں نوازشریف اور مریم نواز کے عقابی مؤقف میں فاختاؤں کی ایک معقول تعداد کی سمت بدلنے کا امکان بھی موجود تھا اور اس بیان کے ذریعے فاختاؤں کو یہ بتانا مقصود ہے کہ عقابی سوچ بدل بھی سکتی ہے اور معاملات بھی طے ہونے جا رہے ہیں۔ بیگم کلثوم نواز کی وفات کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال میں عقابی سوچ کسی حد تک متروک قرار پا رہی ہے۔ پنجاب کے ضمنی انتخابات جس ماحول میں ہو رہے ہیں مسلم لیگ ن عمومی طور پر اس ماحول میں انتظامیہ کے تعلق اور تعاون کے بغیر جیتنے کی عادی نہیں رہی۔ اس بار بدلاہوا ماحول کئی مسائل کا باعث ہے اور اس ماحول کو کچھ اس انداز سے بدلنا مقصود ہے کہ انتظامیہ اور ووٹر کو اندازہ ہو جائے کہ پنجاب میں تو مسلم لیگ ن کا اقتدار چند قدم کی مسافت پر اور دوچار ملاقاتوں کی مار ہے۔

متعلقہ خبریں