Daily Mashriq


ٹرمپ کی سعودی عرب کو دھمکی

ٹرمپ کی سعودی عرب کو دھمکی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی با دشاہت امریکی فوج کے دم سے قائم ہے ۔ شاہ سلمان ہمارے بغیر شاید دو ہفتے بھی نہیں چل سکتے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے لئے اگر ہماری فوجی مدد نہ ہو تو اس کے لئے جینا مشکل ہے۔ اگر ہم غور کریں تو ٹرمپ کے بیان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مسلمانوں کو اور بالخصوص سعودی عرب کو بڑی ہتک آمیز نظروں سے دیکھتے ہیں ۔ اور وہ ملک اورسر زمین جس کے ساتھ پو ری مسلم اُمہ کے دلی جذبات وابستہ ہیں ٹرمپ جیسے خبطی امریکی صدر کس طرح مسلمانوں کی دل آزاری اور توہین کرتے ہیں۔ اور اُس زمین کو ہتک آمیز نظروں سے دیکھتے ہیں جس زمین سے دنیا کو امن ، سکون، محبت ، رواداری، انصاف ، سماجی اور اقتصادی انصاف ، برابری ، اخوت اور پیار کا پیغام ہمارے پیا رے پیغمبر ﷺ ، اسلام اورقُرآن کی صورت میں ملا۔ امریکہ اور اتحادی افواج نے عراق، لیبیا، شام ، افغا نستان کو کس بے دردی سے تہہ تیغ کیا۔ اور اب وہ مسلمانوں کی نا اتفاقی سے فا ئدہ اُٹھا کر اُنکو مزید رسوا کریں گے۔ اگر ہم غور کریں تو مسلمانوں کے پاس وسائل ہیں مگر لیڈر شپ ، علم ، سائنس و ٹیکنالوجی اور تعلیم کی کمی ہے۔ اور بد قسمتی سے مسلمانوں پر ایسے حکمران مسلط ہیں جو اس اہل نہیں کہ وہ ان ۷۰ فی صد وسائل سے فائدہ اُٹھا سکیں۔ جسکا نتیجہ یہ ہے کہ مسلمان دنیا کے کسی خطے میں بھی موجود ہوں ان ناہل حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے در بدر کی ٹوکریں کھا رہے ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو مسلمانوں کے پاس دنیا کے 70 فی صد وسائل ہیں مگر نا اہل قیادت ،آپس میں نفاق اور سائنس اور ٹیکنالوجی نہ ہونے کی وجہ سے وہ ان وسائل سے صحیح طریقے سے استفادہ نہیں کر سکتے اور یہی وجہ ہے کہ مسلمانوںکے وسائل پر قبضہ کیا جا رہا ہے اور ان کو ڈرایا دھمکاکر رسوا کیا جاتا ہے۔ مشہور زمانہ جرنل" آئیل اینڈ گیس "کے مطابق مسلمانوں کے پا س اس وقت 70 فی صد تیل ہے جو 600 بلین بیرلز ہے اسکے علاوہ مسلمانوں کے پا س 50 فی صد قد رتی گیس ہے جو 3000 ٹریلین مکعب فٹ ہے۔دنیا کے دس ممالک جس میں عراق، ایران، سعودی عرب شامل ہیں میں ہزاروں بلین ڈالر کے قدرتی وسائل ہیں۔ عراق میں 16 ہزار ارب ڈالر کے قدرتی وسائل( دنیا کا 10 فی صد)، سعودی عرب میں 35 ہزار ارب ڈالر کے قدرتی وسائل( دنیا کا 20 فی صد) اور ایران میں 28 ہزار ارب ڈالر کے قدرتی وسائل ہیں جو دنیا کا17 فی صد ہے۔دنیا کے سلفر بر آمد کرنے والے 10ممالک میں تین مسلمان ممالک متحدہ عرب امارات ، قطر اور ایران ہیں۔ علاوہ ازیں’’دی جرنل آف یو رینیم‘‘کے مطابق مسلمانوں کے پا س پو ری دنیا کا 30 فی صد یعنی 6500 ٹن یور ینیم ہے جس سے جو ہری اور ایٹمی میدان میں انقلاب بر پا کر کے سستی بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔ یورینیم پیدا کرنے والے ممالک میں نائیجر، نمیبیا اور قازقستان سر فہرست ہیں۔لوہے کے وسائل میں ترکی، ایران، مصر، تیونس ، الجیریا اور مراکش سر فہرست ہیں۔دنیا کے دس ممالک جہاں پر کوئلہ زیادہ پایا جاتا ہے اُن میں قازقستان اور پاکستان شامل ہے۔

یہ تو چند قدرتی وسائل کا ذکر میں نے کیا اسکے علاوہ ایسے ہزاروں قدرتی وسائل ہیں جو مسلمان ممالک میں ہیں مگران وسائل سے مسلمان استفادہ نہیں کر سکتے ۔ اور اتنے سارے وسائل کے با وجود بھی یہود و ہنود کے ظلم و بر بر یت کا شکار ہیں۔ ۵۷اسلامی ممالک کی اقتصا دیات 19ہزار ارب ڈالر ہیں جبکہ صرف امریکہ کی اقتصادیات ۱۹ ہزار ارب ڈالر ہے۔اگر دوسری طرف دیکھا جائے تو ہانگ کانگ جس کا رقبہ 45 ہزار مربع کلو میٹر وہاں پر فی کس آمدنی 54 ہزار ڈالر ہے۔ لگزمبرگ کی آبادی تقریباً 3ہزار مربع کلومیٹر ہے اوراس ملک کی فی کس آمدنی 55 ہزار ڈالر ہے۔ یہود و ہنود کے چند لاکھ فو جیوں نے پوری اُمہ مسلمہ کو یر غمال بنا رکھا ہے۔نیٹو اور امریکہ کے چند ہزار فو جیوں نے اگر ایک طرف اپنے جدید اسلحے اور وسائل کے بل بوتے پر افغانستان ، عراق، لیبیا پرقبضہ کیا ہوا ہے تو دوسری طر ف ایران کو دھمکیاں دیتا رہا کہ وہ اپنا ایٹمی پرو گرام بند کر دے مگر کسی اسلامی ملک میں یہ اخلاقی جرأت نہیں کہ وہ امریکہ کو بتا سکے کہ اگر نیوکلیئر پروگرام انسانوں کی فلاح وبہبود کے لئے نہیں تو سب سے پہلے وہ اپنا نیو کلیئرپروگرام کیوں بند نہیں کر تا۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلم اُمہ کو اپنے اختلافات ختم کرنے ہونگے۔ ایران سعودی عرب، تُرکی اور اسی طرح دوسرے مسلمان ممالک کو آپس کے اختلاف ختم کرنے پڑینگے اور ایک اُمت اور وحدت کے طور پر رہنا ہوگا ورنہ ایک ایک کرکے امریکہ اور اتحادی سب کو ختم کردیں گے۔ مسلم اُمہ کو چین ، روس اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ اپنے تعلقات قائم کرکے امریکہ کے سامنے ایک سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑا ہونا ہوگا۔ اس سلسلے میں پاکستان ، ایران ، سعودی عرب، اور تُرکی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں