Daily Mashriq


بجلی چوری اور اس کا حل

بجلی چوری اور اس کا حل

پاکستان میں لوڈشیڈنگ کی بنیادی وجہ تو آبادی میں بے نگم اضافہ ہی ہے لیکن اس کے ساتھ ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستان میں کبھی بھی صحیح اعداد و شمار کے مطابق مردم شماری نہ ہوئی۔ ترقی یافتہ ملکوں میں محکمہ شماریات ملک کی آبادی اور اس کے مطابق وسائل کی پیداوار پر نظر رکھتے ہوئے حکومت کے سامنے پانچ سالہ بعض شعبوں میں بیس اور پچیس سال کے لئے منصوبہ بندی کے خدوخال پیش کرتا ہے۔ ہمارے ہاں چونکہ گنگا الٹی بہتی آئی ہے اور آج تک الٹی ہی بہ رہی ہے اس لئے نہ آبادی پر کنٹرول رکھا گیا اور نہ ہی اس کے مطابق وسائل و ذرائع پیدا کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی۔ نتیجہ یہ سامنے آیا کہ سات لاکھ مربع میل علاقے کے ملک کی آبادی بائیس کروڑ تک پہنچ گئی اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے اور اس کے نتیجے میں بنیادی وسائل زندگی روز بہ روز سکڑتے اور سمٹتے چلے جا رہے ہیں۔ اس پر مستزاد پاکستان میں ڈیموں کے لئے بہترین فزیبلٹی کے باوجود کرپشن اور سیاست کے ہاتھوں فنڈز میسر نہ آسکے۔ اوپر سے بھارت جیسا ازلی دشمن پاکستان کے دریائوں پر بند باندھ کر ہمیں بوند بوند کے لئے ترسانے کی منصوبہ بندی میں مشغول ہے۔

اللہ کا نام لے کر چیف جسٹس نے بھاشا و مہمند ڈیموں کے لئے قوم سے چندے اور تعاون کی اپیل کی تو عام اور بالخصوص سمندر پار پاکستانیوں کی طرف سے بھرپور پذیرائی کے باوجود یار لوگوں نے طعنے دینے شروع کئے کہ ڈیم چندوں سے نہیںبنتے۔ اور کل بڑی دانش سامنے آئی ہے کہ ’’معیشت چندوں‘ سیاست گالی اور ملک جادو سے نہیں چلتے۔‘‘ اب کوئی پوچھے کہ بندہ پرور! جب آپ جیسے سیاستدانوں کے طفیل ملکی خزانے کا یہی حال ہو کہ ڈیم کے لئے بجٹ میں فنڈ کا تعین ممکن نہ ہو تو پھر چندے کے سوا کیا کیا جاسکتا ہے۔ حالانکہ چاہئے تو یہ تھا کہ ہمارے یہ ارب پتی سیاستدان اپنی لمبی چوڑی جاگیروں‘ کارخانوں اور بیرون ملک اثاثوں میں سے اگر دس بیس فیصد وطن عزیز کے لئے اس تنگ وقت میں نثار کرلیتے تو ان کی رہبری کابھرم قائم رہنے کے علاوہ ملک کے وسائل میں اضافہ ہوتا اور مشکل حالات سے نکلتا اور پھر بعد میں یہی سیاستدان ان ہی وسائل سے کما لیتے۔ لیکن مجال ہے کہ عمران خان اور چیف جسٹس کے بغض میں ڈیموں کے لئے ایک دھیلہ بھی دیا ہو۔ چلو نہ دیتے لیکن کم از کم تنقید تو نہ کریں۔جہاں تک بجلی چوری کا تعلق ہے تو آئمہ مساجد سے کردار ادا کرنے سے پہلے ان لوگوں پرہاتھ ڈالیں جن کے کارخانے ‘ صنعتیں اور حویلی نما گھر اور بنگلے اور لاکھوں ہزاروں ایکڑ زمینوں کو چوری کی بجلی سے آباد اور روشن رکھا جا رہا ہے۔ مساجد کے ارد گرد یہاتی اور شہری آبادیوں میں 90فیصد غریب غربا رہتے ہیں جو بجلی مہنگی ہونے اور آمدن کم ہونے کے سبب بجلی چوری پر مجبور ہیں۔ اگرچہ یہ بھی کسی صورت جائز نہیں ہے۔ دیہاتوں اور شہروں میں بجلی چوری روکنے میں آئمہ کرام کی وعظ و نصیحت زیادہ کار گر اس لئے ثابت نہیں ہوسکتی کہ بہت سارے لوگ بجلی چوری کو چوری سمجھتے ہی نہیں۔ ہمارے گائوں میں ایک بیوہ تھی جس کے شوہر پاک آرمی میں تھے اور 1971ء کی جنگ میں بھارت میں تین برس قید گزار کرواپس آئے تو چند سال بعد وفات پاگئے۔ ان کی بیوہ بہت سگھڑ اور پنج وقتہ نمازی خاتون تھیں لیکن سردیوں میں کنڈا ڈال کر نمازوں کے لئے پانی گرم کرتی تھیں۔ میں نے توجہ دلائی کہ اس گرم پانی کے وضو سے نماز میں نقص اور خلل پیدا ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کمال ترت جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے خاوند نے تیس برس جان ہتھیلی پر رکھ کر ملک کی خدمت کی ہے کیا میرا اس ملک کے وسائل پر اتنا حق بھی نہیں کہ کنڈے کے ذریعے ایک بالٹی پانی گرم کروں۔ اس قسم کے جواز شاید دیگر لوگوں کے پاس بھی ہوں۔ لیکن بجلی چوری میں سب سے بڑا کردار خود واپڈا کے ملازمین کا ہے ۔ ایک تو یہ کہ ان کے لئے بجلی مفت ہے اگر چہ اس کے متعین یونٹس ہوں گے لیکن میں نے تو گریڈ پانچ سے 16تک کے واپڈا ملازمین کے گھروں میں ائیر کنڈیشن دن رات چلتے دیکھے ہیں۔ اس کے علاوہ بجلی چوری کرنے والوں سے ملے بھی ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ جب بعض دیانتدار لائن مین اور سپر وائزر وغیرہ علاقے کی چیکنگ کے لئے جاتے ہیں تو پیچھے سے ان کے محکمے کے خاص لوگ اپنے دیگرخاص لوگوں کو موبائل پر اطلاع دیتے ہیں کہ کنڈے اتارو آج تمہارے علاقے میں چیکنگ ہوگی۔

اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ پہلے تو واپڈا اپنے گھر سے اصلاح شروع کرتے ہوئے ’’ مفت لنچ‘‘ ختم کرے اور پھر لائن لاسز پر نظر رکھ کر بے لاگ و بے خوف چھاپے مارے۔آئمہ کرام کوشش ضرور کریں لیکن حکومت کی طرف سے ان کو پانچ سو یونٹ مفت کی پیشکش بھی تو ایک قسم کی کک بیک کے زمرے میں آتی ہے۔ مساجد ے بل تو مقامی آبادی ادا کرت ہے اور یہ سلسلہ اسی طرح رہنا چاہئے کہ یہ صدقہ جاریہ کا کام ہے۔ آئمہ کرام پر تو ویسے بھی فرض عاید ہوتا ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی تلقین جاری رکھیں۔

لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ کچھ دانے گیلے اور کچھ جرندہ (چکی) خراب نتیجہ خرابی معاشرہ کی صورت میں سامنے ہے۔ ہر جمعہ کا خطبہ ہی عوام کی نصیحت کے لئے کافی تھا۔ اگر لوگ اس پر عمل کرتے اور آئمہ کرام کی بات میں اثر ہوتا۔ لیکن کہاں۔۔۔ دونوں طرف سے معاملہ کمزور ہے اور اللہ پاکستان پر رحم فرمائے۔ بقول اقبال

پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر

مرد ناداں پر کلام نرم و نازک بے اثر

متعلقہ خبریں