Daily Mashriq


اس کا اپنا مجبورا تھا میری اپنی مجبوری تھی

اس کا اپنا مجبورا تھا میری اپنی مجبوری تھی

گوکہ صدارتی انتخاب میں کامیابی پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار ڈاکٹر عارف علوی ہی کے مقدر میں ٹھہر چکا تھا صدارتی انتخاب میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی مل کر بھی حکمران جماعت کے امیدوار کو شکست دینے کی پوزیشن میں نہ تھی لیکن بہرحال سیاسی طور پر حزب اختلاف کا مشترکہ امیدوار لا کرپوری قوت کے ساتھ حکومتی امیدوار کا بھرپور مقابلہ کرنا اور ان کو کم سے کم ووٹوں سے کامیابی پر مجبور کرنا نا ممکن نہ تھا۔ اس انتخاب میں مسلم لیگ(ن) کی حکمت عملی پیپلز پارٹی سے زیادہ بہتر اس لئے ٹھہرتی ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے اپنا امیدوار براہ راست ہارنے کیلئے میدان میں نہیں اتارا ہارنے کے باوجود دونوں جماعتوں کیلئے صورتحال کسی خجالت کا باعث اس لئے نہیں کہ جمہوری مقابلے میں ہار جیت ہوتی ہے البتہ یہ صدارتی انتخاب میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ کیلئے اس لئے خوشگوار نہیں تھا کہ وہ اس ایوان میں سرے سے آمد ہی کے مخالف تھے جن کا پی پی پی اور نون دونوں نے ساتھ نہ دیا وگرنہ وہ آج سڑکوں پر ہوتے اپنے موقف کی لاج رکھتے ہوئے جغادری سیاستدان اگر پہلے اپنے صاحبزادے ہی کو ڈپٹی سپیکر کا انتخاب نہ لڑواتے یا پھر کم از کم خود صدارتی امیدوار نہ بنتے تو ان کے لئے گنجائش تھی کہ وہ کسی نئے ایشو پر ایک سیاسی جماعت کے قائد کے طور پر حکومت کے خلاف سڑکوں پر آتے۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی مجبوریوں کو سمجھنا مشکل نہیں اس کے باوجود انہوں نے وزیر اعظم اور صدر کے انتخاب کے موقع پر کم ازکم ملفوف کردار ادا کرکے عزت سادات بچا گئے جبکہ جے یو آئی (ف) کے قائد نے بغیرکسی مجبوری کے وکیل کاکردار ادا کرتے کرتے دلہا بن کر تنقید مول لی۔ اس موقع پر مسلم لیگ( ن) اور پی پی پی کا ایک دوسرے پر نمائشی تنقید کے پیچھے چھپنا فطری امر تھا۔ ایسا لگتا ہے کہ دونوں جماعتیں حزب اختلاف کاکردار دا کرنے کیلئے ابھی حالات کے سازگار ہونے کاانتظار کر رہی ہیں مگر آئندہ کا منظر نامہ ساز گار نہیں ناسازگار ہی دکھائی دیتا ہے الایہ کہ وزیر اعظم عمران خان کسی مصلحت کاشکار نہ ہو جائیں۔ بہر حال صدارتی انتخاب میں شکست کے بعد اپوزیشن جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) نے اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کرنے کے بجائے ایک دوسرے پر تنقید کے نشتر چلانے شروع کر دیئے۔معروف معاصر کی رپورٹ کے مطابق صدارتی انتخاب کے موقع پر ایک دوسرے پر الزامات کا سلسلہ ووٹ دینے کیلئے اراکین کی پارلیمان میں آمد سے شروع ہوا اور الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کی جانب سے غیر سرکاری نتائج کے بعد بھی جاری رہا۔اس موقع پر مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے طنزیہ طور پر پی پی پی پر ان الفاظ میں تنقید کی کہ آصف علی زرداری اور اسٹیبلشمنٹ کے رومان کا آغاز بلوچستان کے پتھریلے اور بنجر پہاڑوں سے اس وقت ہوا جب انہوں نے سینیٹ انتخابات سے قبل صوبے میں ہماری حکومت گرانے میں اہم کردار ادا کیا اور یہ اب اسلام آباد کی زرخیز اور سرسبز وشاداب پہاڑیوں تک جاپہنچا ہے۔ایک اور لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے ایوانِ صدر پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا کنٹرول یقینی بنانے کیلئے تاریخی کردار ادا کیا، ساتھ ہی تحریک انصاف کو تجویز دی کہ پی پی پی نے اپنا کردار ادا کر دیا اب پی ٹی آئی کو بھی چاہیے کہ جذبہ خیر سگالی کے تحت پیپلز پارٹی کو فائدہ پہنچانے کے اقدامات کرے۔اس بارے میں جب ایک صحافی نے آصف علی زرداری سے سوال کیا تو انہوں نے اپنی روایتی مسکراہٹ کیساتھ جواب دیا کہ وہ کہہ رہے ہیں کہ زرداری نے اپوزیشن کو تقسیم کیا، ہمیں یہ کیوں نہیں کہنا چاہیے کہ میاں شہباز شریف کبھی اپوزیشن میں تھے ہی نہیں۔ادھر مسلم لیگ (ن) کے ایک سینئر رہنما نے صدارتی انتخاب میں شکست پر نہ صرف پیپلز پارٹی بلکہ خود اپنی جماعت کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک ناکارہ مزدور ہمیشہ اپنے اوزاروں کو ذمہ دار قرار دیتا ہے، نتائج پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم جتنا قریب تھے اتنے ہی دور ہیں۔ہمارے تئیں موخر الذکر شخصیت نے زیادہ حق گوئی کا مظاہرہ کیا۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) حقیقی اپوزیشن کے کردار میں تو دکھائی نہیں دیتے لیکن ان کیلئے فرینڈلی اپوزیشن کا کردار بھی ممکن نہیں جس کی بناء پر ان کو تاویلات کا سہارا لینا پڑا ہے اور نجانے کب تک اس کی ضرورت باقی رہے گی۔ حکومت سازی کی تکمیل اور یکسوئی ملنے کے بعد اب حکومت کس قسم کی کارکردگی کا مظاہرہ کرتی ہے یہ اس کا امتحان ہے فی الوقت حزب اختلاف اپنے ہی جھگڑوں میں پڑی ہے جس سے حکومت کو کوئی خطرہ نہیں سوائے اس کے کہ سینٹ میں وہ اپنی اہمیت کا احساس دلائے۔ بہرحال جو بھی ہوا ملک میں جمہوری حکومت اور جمہوری عہدیداروں کے انتخاب کے مراحل خوش اسلوبی کیساتھ مکمل ہوگئے ہیں جس کے بعد مفاد عامہ کا تقاضا یہ ہے کہ منتخب حکومت اور اعلیٰ عہدیداران اور حزب اختلاف اپنا جمہوری کردار اور فرائض خوش اسلوبی کے ساتھ نبھائیں۔

متعلقہ خبریں