Daily Mashriq


ادھوری بات سے بجلی کا مسئلہ حل نہ ہوگا

ادھوری بات سے بجلی کا مسئلہ حل نہ ہوگا

خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ محمودخان نے کہا ہے کہ صوبے میں بجلی کی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کی بڑی وجہ خراب مشینری اور پرانی ٹرانسمیشن لائن ہے جس کی تبدیلی اور مرمت پر 40سے50ارب روپے لاگت آئے گی۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا لوڈشیڈنگ کی بنیادی وجہ کی نشاندہی مسئلے کے ادراک کا مظہر ہے۔ صوبے میں ٹرانسمیشن لائنز اور خراب مشینری کے مسائل کے ہوتے ہوئے بجلی کی اچانک بندش اور خرابی پیدا ہونے کیساتھ ساتھ بجلی کی ترسیل بھی متاثر ہوتی ہے اس پر لاگت کا بھی وزیراعلیٰ نے بتا دیا جو ظاہر ہے وفاقی حکومت کی اعانت کے بغیر ممکن نہیں لیکن اگر وفاقی حکومت کی مشکلات اور ان کے نقطہ نظر سے جائزہ لیا جائے تو پھر ان کے نقطہ نظر اور ان کی مشکلات سے بھی انکار ممکن نہیں ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر ایسا کیا راستہ اختیار کیا جائے جو معقولیت کے پلڑے پر پورا اترے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ وفاق صوبے کو بجلی کے مسائل سے نمٹنے کیلئے اتنے وسائل دینے کی پوزیشن میں نہیں جبکہ اس قدر وسائل سے کم میں صوبے کے بجلی کا مسئلہ حل نہیں ہو پائے گا۔ ایسے میں خیبر پختونخوا حکومت کے پاس وفاق کے ذمے بجلی کے خالص منافع کی رقم کا مطالبہ ہی بچتا ہے جو اخلاقی‘ قانونی اور آئینی ہر لحاظ سے مناسب مطالبہ ہے۔ وزیراعظم عمران خان بطور وزیراعظم اگر خیبر پختونخوا سے ماضی میں کئے گئے بجلی کے خالص منافع کے بقایاجات کی ادائیگی کے وعدوں کو عملی جامہ پہنا سکیں تو یہ اس صوبے کی حکومت اور یہاں کے عوام کیساتھ بھلائی ہوگی۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو اس موقع پر یہ مطالبہ کرنا چاہئے کہ صوبے میں بجلی کے مسائل پر قابو پانے کیلئے وفاق صوبے کے بقایاجات کی ادائیگی یقینی بنائے۔ اس مطالبے سے کترانے کی جو صورت اختیار ہوتی دکھائی دے رہی ہے اسے دیکھ کر اس امر کا اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ صوبے کے عوام ایک اور دور حکومت میں بھی اپنے حق سے محروم رہیں گے اور صوبے میں بجلی کے مسائل کم ہونے کی بجائے خدانخواستہ زیادہ بدتر صورت اختیار کرجائیں گے۔

خلاف فطرت عمل کے سنگین نتائج

رات کو دیر سے سوتے اور صبح دیر سے اٹھنے والوں کے حوالے سے جو تحقیق سامنے آئی وہ ہم سب والدین کیلئے اسلئے چشم کشا ہے کہ ہماری نئی نسل کا بس چلے تو وہ یہ غیر صحت مندانہ طرز عمل اختیارکرے اس کے باوجود چھٹی کے دنوں میں وہ اپنا مضر صحت شوق ضرور پورا کر لیتی ہے۔ دیر سے اٹھنے والے مرد وزن کئی قسم کے دماغی اور جسمانی امراض میں زیادہ آسانی سے مبتلا ہو جاتے ہیں۔ عمر، جنس، قومیت، تمباکو نوشی کی عادت، وزن اور معاشی حالت جیسے عناصر مدِنظر رکھتے ہوئے سائنسدانوں نے معلوم کیا کہ سحر خیزوں میں قبل ازوقت موت کے امکانات سب سے کم تھے اور وہ جتنی دیر سے جاگتے تھے، ان کے مرنے کا خطرہ بھی اسی تناسب سے بڑھ جاتا تھا۔ دوسری طرف رات کو تادیر جاگنے والوں میں نفسیاتی مسائل کا شکار ہونے کے امکانات بھی نوے فیصد زیادہ تھے جبکہ ذیابیطس چمٹنے کا امکان تیس فیصد زیادہ تھا۔ اس کے علاوہ ان میں کئی اور قسم کے امراض کا خطرہ بھی زیادہ تھا۔ امریکا کی نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی میں نیورولوجی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر کرسٹن نوسٹن کے مطابق اس کی وجوہ میں نفسیاتی دباؤ، جسم کے لحاظ سے غلط وقت پر کھانا کھانا، مناسب ورزش نہ کرنا، نیند پوری نہ کر پانا، رات اکیلے جاگتے رہنا اور منشیات یا شراب کا استعمال شامل ہو سکتی ہیں۔ رات کے اندھیرے میں تادیر جاگتے رہنے سے متعدد قسم کے غیر صحت مندانہ رویئے جنم لیتے ہیں۔ جدید تحقیق اپنی جگہ بطور مسلمان ہمیں اس امر کا عملی درس فجر کی نماز فرض کرکے دیا گیا ہے لیکن افسوس کہ ہم میں سے بہت تھوڑے افراد اس کی پابندی کر پاتے ہیں۔ ہم دفتر اور سکول جانے کیلئے تو اٹھتے ہیں مگر نماز فجر کیلئے نہیں۔ دین اسلام میں اپنے ماننے والوں کی طرف اخروی کامیابی ہی کا خیال نہیں ملتا بلکہ اسلام کی تعلیمات پر جتنی بھی جدید تحقیق ہوئی ہے اس میں انسانوں ہی کا بھلا ثابت ہوا ہے۔ ہماری تو گزارش ہوگی کہ والدین اپنے بچوں کی دیر سے سونے کی عادت پر ابتداء ہی میں قابو پالیں اور ان کو سحر خیز بنائیں تاکہ یہ عادت پختہ نہ ہو۔ بطور مسلمان نماز فجر کی ادائیگی کی انوار وبرکات ہمیں معلوم ہیں ہی نماز فجر کی پابندی کرنے پر سحرخیزی کی نعمت ویسے ہی مل جائے گی۔ معاشرے میں جتنی بیماریاں جدید طرز زندگی اور خطرات سے اغماض برتنے کے باعث ہیں اگر اس کا ہمیں احساس ہو تو ہم فطرت سے بغاوت کے اس فعل کا ارتکاب نہ کریں۔ فطرت کی پابندی آسان اور قدرت کے نظام سے ہم آہنگی ہے جس کی مخالفت کی سزا بھی ہم ہی کو بھگتنا ہوتی ہے۔ بہتر ہوگا کہ ہم بطور انسان اپنے مفاد میں اور بطور مسلمان اپنے دین کی تعلیمات کی پیروی کرکے نت نئی بیماریوں اور تکالیف سے اپنے آپ کو بچائیں۔

متعلقہ خبریں