Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

عیسیٰ بن موسیٰ اپنی اہلیہ سے بے پناہ محبت کرتا تھا۔ ایک دن اس نے جذبات کی رو میں بہہ کر اپنی بیوی سے یہ کہہ دیا: ’’اگر توچاند سے زیادہ حسین نہ ہوتی تو تجھے طلاق!‘‘

وہ فوراً وہاں سے اٹھی اور یہ کہہ کر اس سے پردہ کر لیا کہ ’’بلاشبہ تو نے مجھے طلاق دے دی‘‘۔

قرآن کریم آپؐکا وہ معجزہ ہے جو قیامت تک باقی رہے گا۔ اس کے سیکھنے سکھانے کے بڑے فضائل ہیں۔ حدیث شریف میں ہے: ترجمہ: ’’تم میں سے بہتر وہ شخص ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے‘‘۔

(صحیح البخاری فضائل القرآن)

وہ رات عیسیٰ نے بڑے کرب کیساتھ گزاری۔ صبح سویرے وہ خلیفہ منصور کے پاس حاضر ہوا اور اسے پورا واقعہ بتایا اور کہنے لگا: ’’امیرالمومنین! اگر واقعی طلاق ہوگئی تو میں ہلاک اور بردباد ہوجاؤں گا اور پھر زندہ رہنے کا کوئی فائدہ نہ ہوگا بلکہ موت زیادہ بہتر رہے گی‘‘۔

غرض جب اس نے منصور کے سامنے بے پناہ بے چینی کا مظاہرہ کیا تو منصور نے فقہاء اور علماء کو اپنے دربار میں بلایا اور ان سے فتویٰ طلب کیا۔ تمام علماء اور فقہاء نے متفقہ طور پر فرمایا کہ بظاہر طلاق واقع ہونے میں کوئی امر مانع نہیں ہے۔

وہاں امام اعظم ابوحنیفہؒ کے اصحاب میں سے ایک بزرگ بھی موجود تھے۔ وہ بالکل خاموشی اختیار کئے ہوئے تھے۔ منصور نے اس سے کہا: ’’آپ بھی تو اس مسئلے کے بارے کچھ فرمائیں!‘‘۔ انہوں نے ’’سورۃالتین‘‘ کی اس آیت کی تلاوت شروع کر دی، جس میں حق تعالیٰ نے فرمایا ہے: ترجمہ: ’’ہم نے انسان کو انتہائی بہترین سانچے میں ڈھال کر پیدا کیا ہے‘‘۔ (سورۃالتین:4)

اس آیت سے استدلال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کوئی بھی چیز انسان سے زیادہ خوبصورت نہیں ہوسکتی۔ لہٰذا وہ خاتون چاند سے زیادہ خوبصورت ہے اور عیسیٰ کی قسم پوری ہونے کی وجہ سے طلاق واقع نہیں ہوئی۔خلیفہ نے عیسیٰ سے کہا: ’’حق تعالیٰ نے معاملہ آسان فرما دیا، جا اُٹھ! اپنی بیوی کے پاس جا!‘‘ ادھر اس کی بیوی کو حکم بھیجا: ’’اپنے خاوند کی اطاعت کر! اس لئے کہ طلاق نہیں ہوئی‘‘۔

خباب عبدالواحد طوسیؒ امام بخاریؒ کے ہم عصر تھے اور اپنے زمانے کے اکابر اولیاء میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ ایک شب انہوں نے خواب میں دیکھا کہ جناب رسول اقدسؐ اپنے اصحابؓ کیساتھ سرراہ کسی کے منتظر کھڑے ہیں۔ انہوں نے سلام کے بعد عرض کیا: حضورؐ! کس کا انتظار ہے؟

آپؐنے فرمایا: ’’محمد بن اسماعیل بخاری کا انتظار کر رہا ہوں‘‘۔عبدالواحد طوسیؒ فرماتے ہیں کہ اس خواب کے چند ہی روز بعد امام بخاریؒکی وفات کی خبر ملی تو میں نے تحقیق کی تب مجھے معلوم ہوا کہ جس وقت میں نے خواب دیکھا تھا، ٹھیک اسی وقت امام بخاریؒ کا انتقال ہوا تھا۔

(سیارہ ڈائجسٹ،ص428)

متعلقہ خبریں