صدارتی انتخاب اور اپوزیشن

06 ستمبر 2018

انتخابات کے آخری مرحلے میں پی ٹی آئی کے عارف علوی پاکستان کے تیرھویں صدر منتخب ہو گئے ہیں۔ وہ جو توقع کی جا رہی تھی کہ اپوزیشن پارٹیاں اگر متفقہ امیدوار پیش کریں تو پی ٹی آئی کو ٹف ٹائم دے سکتی ہیں صحیح ثابت نہیں ہوئی۔ غیر سرکاری نتائج کے مطابق نواز لیگ اور اتحادیوں کے امیدوار مولانا فضل الرحمان کو 185انتخابی ووٹ ملے ہیں اور پیپلز پارٹی کے امیدوار اعتزاز احسن کو 124انتخابی ووٹ ملے ہیں لیکن دونوں کے ووٹ ملا کر بھی منتخب صدر عارف علوی کے 353انتخابی ووٹوں سے 44کم ہیں۔ اس طرح پی ٹی آئی کی واضح برتری میں کسی شک کی گنجائش نہیں ہے۔انتخاب سے پہلے آخری وقت تک پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان اپوزیشن کے دونوں میں سے کسی ایک امیدوار کو دستبردار کروانے کے بارے میںمذاکرات ہوتے رہے لیکن نہ شہباز شریف مولانا فضل الرحمان کو دستبردار کروانے پررضامند ہوئے اور نہ آصف زرداری نے اعتزاز احسن کے صدارتی امیدوار ہونے پر کوئی سمجھوتا کیا۔ البتہ ن لیگ کی طرف سے یہ گلہ کیا جاتا رہا کہ پیپلز پارٹی نے اعتزاز احسن کا نام دیگر اپوزیشن پارٹیوں کے مشورے کے بغیر ہی دے دیا۔ ان مذاکرات کی ناکامی سے ایک بات یہ سامنے آتی ہے کہ ایک طرف اپوزیشن پارٹیوں میں مضبوط متحدہ اپوزیشن کے طور پر حکومت کا مقابلہ کرنے پر اتفاق نہیں ہو سکا بلکہ خود ن لیگ میں بھی اگر اتحاد ہے تو بہت کمزور ہے۔ ورنہ ن لیگ کے پاس بھی پارٹی کے کئی قدآور اور بے داغ دامن کے حامل لیڈر تھے جنہیں اعتزاز احسن کے مقابلے پر آگے لایا جا سکتا تھا۔ اس طرح ن لیگ کی اپنی شناخت واضح تر ہو جاتی اور ن لیگ کی قیادت پر یہ واضح ہوجاتا کہ ان کی پارٹی کے کتنے لوگ ان کے ساتھ جڑے کھڑے ہیں۔ لیکن ن لیگ نے مولانا فضل الرحمان کا انتخاب مشترکہ امیدوار کے طور پر کیا جن کی اپنی ایک سیاسی پارٹی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں دس پارٹیوں نے صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کے لیے منتخب کیا ہے اور اعتزاز احسن کو ایک پارٹی نے صدارتی امیدوار کے طور پر پیش کیا ہے۔ یوں ن لیگ نے اپنی عددی قوت مشترکہ امیدوار مولانا فضل الرحمان کی جھولی میں ڈال دی جہاں ن لیگ کے ووٹروں کی اپنی شناخت ان کی پارٹی کے ووٹروں کی شناخت کی بجائے مشترکہ امیدوار کے ووٹروں کی شناخت ہو گئی۔ یہاں یہ سوال اہم ہو جاتا ہے کہ آیا ن لیگ کی قیادت کو خدشہ تھا کہ خفیہ رائے شماری میں ان کچھ یا متعدد ووٹر ان کے امیدوار کو ووٹ نہیں دیں گے لیکن ن لیگ کے ارکان صدارتی انتخاب میں پارٹی کے ساتھ ہی رہے ہیں۔ ایک حلقہ کی جانب سے اگرچہ کہا جا رہا ہے کہ 16مسترد ووٹ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ن لیگ میں کسی خاموش فارورڈ بلاک کا پتہ دیتے ہیں۔ تاہم یہ اندازہ کسی مناسب تحقیق کے بغیر پیش کیا ہوا لگتا ہے۔ البتہ مسلم لیگ ن کے ارکان یکجا ہونے کے باوجود دو قسم کی رائے میں منقسم نظر آتے ہیں۔ ایک طرف ن لیگ کے صدر شہباز شریف انتخاب کے بعد پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ جو ہوا سو ہوا آئندہ اپوزیشن کو متحد رکھنے کی طرف پیش رفت کی جائے گی اور بلاول بھٹو بھی اس پیش کش کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ دوسری طرف ن لیگ کے رہنما رانا ثناء اللہ کہہ رہے ہیں کہ پیپلز پارٹی کو باہر سے پی ٹی آئی کی حمایت کا ٹاسک سونپا گیا ہے۔ یہ ٹاسک سونپنے کا اشارہ کس کی طرف ہے اس کی وضاحت کی ضرورت نہیں تاہم ن لیگ کا یہ حلقہ پارٹی کو مزاحمت کی سیاست کی طرف لے جانے پر مصر نظر آتا ہے جو سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی لائن رہی ہے۔ مسلم لیگ ن کو اپوزیشن کو مضبوط بنانے سے پہلے اپنے اندر یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ آئندہ مزاحمتی پارٹی کے طور پر آگے آتی ہے یا پی ٹی آئی کی حکومت کے سامنے پیپلز پارٹی سمیت دیگر اپوزیشن پارٹیوں کے ساتھ مل کر ایک مضبوط اپوزیشن کے کردار میں ڈھلتی ہے جو قومی ایشوز پر حکومت کو چیلنج پیش کرے۔ پیپلز پارٹی نے لگتا ہے اپوزیشن کا کردار اپنانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ بات امریکی وزیر خارجہ کے دورے سے پہلے رضا ربانی اور شیری رحمان کے بیانات سے واضح ہوتی ہے۔ ان کے مشوروں کی اصابت یا عدم اصابت سے قطع نظر پیپلز پارٹی نے قومی ایشوز پر اپنی رائے پیش کی ہے جب کہ ن لیگ کی طرف سے ایسی پیش رفت نظر نہیں آئی۔ پیپلز پارٹی کا اپوزیشن پارٹیوں سے مشاورت کے بغیر اپنا صدارتی امیدوار میدان میں اتار دینا اور اس نام (اعتزاز احسن) پر کوئی سمجھوتا نہ کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ پیپلز پارٹی کے حساب دانوں نے یہ اندازہ کر لیا تھا کہ مشترکہ امیدوار پی ٹی آئی کے عارف علوی سے زیادہ ووٹ نہیں لے سکے گا۔ پیپلز پارٹی نے صدارتی انتخاب میں اعتزاز احسن کو پارٹی کی پہچان کے طور پر پیش کیا۔ یہ کہ اعتزاز احسن کی شکست یقینی تھی اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ پیپلزپارٹی نے ابھی سے 2023ء کے انتخابات کی تیاری شروع کر دی ہے اور اس کا اولین ہدف پنجاب میں مقبولیت حاصل کرنا ہے۔ بلاول بھٹو کی انتخابی مہم بھی نعرے بازی اور الزام تراشی کی بجائے قومی ایشوز اور پارٹی کے منشور پر مبنی تھی۔ جب کہ ن لیگ کی موجودہ قیادت کارکردگی اور تعمیراتی کاموں پر متوجہ ہے اور اسی حوالے سے کریڈٹ لے رہی ہے۔ دوسری طرف پیپلز پارٹی سندھ میں طرز حکمرانی کا دفاع کرتی ہوئی نظر نہیں آ رہی۔ا س طرح پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے نقطۂ نظر میں اختلاف واضح طور پردیکھا جا سکتا ہے۔ ن لیگ اگر پیپلز پارٹی کی نئی قیادت کی طرح مستقبل کی طرف متوجہ ہونے کا فیصلہ کر لے اور قومی ایشوز پر پی ٹی آئی کی حکومت کا سامنا کرنے پر آمادہ ہو جائے تو وہ پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر مضبوط اپوزیشن کا کردار ادا کر سکے گی۔ لیکن اس سے پہلے اسے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی مزاحمتی سیاست کے سحر سے نکلنا ہو گا اور پارٹی کے قائدین اس پر فی الحال متفق نظر نہیں آتے۔

مزیدخبریں