جنگ ستمبر۔ قومی تاریخ کا روشن باب

06 ستمبر 2018

آج6ستمبر ہے ، اب کی بار افواج پاکستان نے قوم کے ساتھ مل کر شہدائے قوم کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے اس دن کو نئے اور اچھوتے انداز سے منانے کا اہتمام کر رکھا ہے جو یقیناً پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ آج کی نوجوان نسل اور خصوصاً سکول اور کالج جانے والے بچوں اور بچیوں کو اس دن کی اہمیت سے آگاہ رکھنا لازمی ہے کیونکہ انہیں اگر کچھ معلومات حاصل ہوں گی بھی تو صرف وہی جو سرحدی اور مختصرہیں ، جبکہ اصل بات تو وہ جذبہ یہ ہے جس نے 6ستمبر کے دن کو ہماری قومی زندگی میں خاص اہمیت دلائی ہے ۔ اور حقیقت بھی یہ ہے کہ یہ وہ جذبہ تھا جو ہماری رگ و پے میں خون بن کر دوڑا اور ہمیںدنیا کی عظیم قوموں کی صف قابل فخر مقام دلانے میں مدد گار ہوا تھا ، قوموں کی زندگی میں ایسے مواقع بہت کم آئے ہیں جب ان پر کوئی افتاد پڑتی ہے اور وہ ایک مٹھی کی طرح سے مضبوط اور متحد ہو کر اس مشکل کا مقابلہ کرنے پر آمادہ ہوتی ہیں ۔ آج سے 53برس پہلے یعنی 1965ء کے ستمبر کا مہینہ بھی ہمارے لئے امتحان کے وہ دن رات اپنی جلومیں لیکر آیا تھا ، یہ وہ وقت تھا جب قوم سیاسی طور پر منقسم تھی، اس دور کے حکمران جنرل ایوب خان کے خلاف سیاسی محاذ خاصا گرم تھا اور ہرطرف حکومت کے خلاف احتجاج کی سی صورتحال تھی اور شاید یہی وجہ تھی جب ہمارے دشمن کو یہ غلط فہمی لاحق ہوئی کہ یہی موقع ہے کہ پاکستان کو (خدانخواستہ) صفحہ ہستی سے مٹانا آسان ہے ، کیونکہ جب قوم اندرونی طور پر تقسیم ہو تو اس پر وار کرنا آسان ہوتا ہے ، تاہم دشمن نے ایسا سوچتے ہوئے مسلمانوں کی تاریخ کا غور سے مطالعہ کیا تھا نہ ہی ماضی میں مسلمانوں کی عظمت پر نظر دوڑا کر اس سے سبق حاصل کرنے کی زحمت کی اور پاکستان کی مقدس سرزمین پر رات کی تاریکی میں بزدلانہ حملہ کرنے کی جرأت کی ، بزدل دشمن کو یہ احساس ہی نہیں تھا کہ مسلمان کہیں بھی ہوں وہ ایک امت ہونے کے ناتے ایک جسم کی مانند ہوتے ہیں اور جسم کا ایک عضو اگر دکھتا ے تو درد پورے بدن کو اپنی لپٹ میں لے لیتا ہے اور پھر میڈیکل کے اصولوں کے تحت پورے بدن کا مدافعتی نظام متحرک ہو کر اس درد چھٹکارا پانے میں مدد گار ہوتا ہے ،6ستمبر ء کی جنگ نے بھی ، جو بھارت نے لاہور بارڈر پر شب کون مارتے ہوئے اچانک حملہ کر کے چھیڑ ی تھی ، یک لخت پوری قوم کو اپنے اندرونی اختلافات بھول کر ایک مٹھی کر دیا اور قوم نے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند ہر محاذ پر خواہ وہ جنگی محاذ ہو ، فکری محاذ ہو ، سماجی اور ثقافتی ، ایک ایسے اتحاد میں پرودیا کہ دنیا اش اش کراٹھی۔پاکستان کی مسلح افواج کیلئے یہ وہ پہلا بڑا امتحان تھا جس نے اسے دنیا کی اعلیٰ ترین افواج کی صف میں ایک ممتاز مقام دلوادیا ، اگرچہ اس سے پہلے رن آف کچھ میں نہایت ہی محدود پیمانے پر پاک افواج کے درمیان جنگ ہو چکی تھی مگر اس سے کوئی خاص نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا تھا کہ جلد ہی جنگ بندی ہوگئی تھی ، البتہ انتا ضرور ہوا تھا کہ اس کے بعد پاکستان نے اپنے محدود وسائل میں رہتے ہوئے جنگی تیاریاں جاری رکھی تھیں لیکن اسے اندازہ نہیں تھا کہ بیمار دشمن بزدل بھی ہے اور مکار بھی اور کسی بھی وقت للکارے بغیر ہم پر حملہ آور ہو سکتا ہے ، اور دشمن تو صدیوں سے اپنے جدا مجد چانکیہ کے فلسفے ، بغل میں چھری منہ میں رام رام پر عمل پیرا تھا مگر ہم تو بہ حیثیت مسلمان اپنے اجداد کی روایت سینے سے لگائے ہوئے تھے جو دشمن پر پیچھے سے وار کرنے کے بجائے سامنے آکر اور للکار کر جنگ کے عادی تھے ، دشمن نے جب رات کی تاریکی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے لاہور پر قبضے کا خواب آنکھوں میں سجائے اچانک حملہ کیا تو اس وقت محاذ پر جنگی کیفیت نہ ہونے کی وجہ سے معمول کی ایک کمپنی ہی موجود تھی جو میجر عزیز بھٹی شہید نشان حیدر کی قیادت میں معمول کی ڈیوٹی دے رہی تھی ، مگر یہ اسلام کا وہ لازوال جذبہ تھا جس نے بھارت کے ایک بہت بڑے حملے کو نہایت بہادری سے روکا۔ ادھر زمینی افواج نے بھارتی حملے کو بی آر بی نہر پر روک کر مزید کمک منگوائی اور اگلی صبح لاہور کی فضائوں نے دنیا میں ایک ناممکن جنگ کو لڑتے دیکھا جب سکوارڈن لیڈر ایم ایم عالم نے بھارتی حملہ آوروں کو یکے بعد دیگرے نہایت سرعات سے گراکر دنیا کو حیرت میں مبتلا کر دیا ، ادھر جنگ کا بگل چونکہ بچ چکا تھا اس لئے پوری قوم نے اختلافات بھلا کر متحد ہونے میں ایک لمحے کی تاخیر نہیں کی ، صدر ایوب نے اس موقع پر ریڈیو اور ٹی وی پر جو تقریر کی وہ بھی تاریخ پر انمٹ نقوش چھوڑ گیا ، اس نے دشمن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ دشمن کو یہ نہیں معلوم کہ اس نے کس قوم کو للکارا ہے ، اور قوم سے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر اس جارحیت کا مقابلہ کرنے کی بات کی ، اس کے بعد مختلف محازوں پر افواج پاکستان نے جو داستانیں رقم کیں وہ جنگوں کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی جائیں گی ،خصوصاً سیالکوٹ کے محاذ پر ٹینکوں کی جو جنگ لڑی گئی اور دشمن نے سو ٹینکوں کے ساتھ ایک بڑا حملہ کر کے پاکستان کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی جو کوشش کی اس یلغار کو روکنے کیلئے ہماری افواج نے جسموں سے بم باندھ کر اس یلغار کو نہ صرف روکا بلکہ جنگ کا پانسہ پلت دیا ۔ آج ہم سب مل کر ایک بار پھر اگر اسی یک جہتی کا مظاہرہ کریں جو جنگ ستمبر 1965ء میں کیا تھا تو دنیا کی کوئی طاقت بھی ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکے گی ، نئی نسل کو اس جنگ کی تفصیل سے باخبر ہونے کیلئے اس کے ہر پہلو کا جائزہ لینا چاہیئے تاکہ وہ اپنے اسلاف کے کارناموں پر فخر کر سکیں ۔

مزیدخبریں