Daily Mashriq


یہ نہ تھی ہماری قسمت۔۔۔

یہ نہ تھی ہماری قسمت۔۔۔

ملک میں صدارتی انتخاب کا ہنگامہ پایۂ تکمیل تک پہنچ گیا اور تحریک انصاف کے امیدوار ڈاکٹر عارف علوی پاکستان کے تیرھویں صدر منتخب ہوگئے۔ ایک اچھی روایت یہ مستحکم ہوتی جا رہی ہے کہ گزشتہ کئی سالوں سے منتخب صدور کا سلسلہ چل پڑا ہے ورنہ یہاں تو خود کو صدر بنا کر قوم کا مسیحا بننے کی کوشش بھی ہوتی رہی ہے ۔ موجودہ صدارتی انتخاب میں تین امیدوار تھے۔ تینوں کی عددی طاقت روز اول سے عیاں تھی۔ مولانا فضل الرحمن خود کو اپوزیشن کا متحدہ امیدوار قرار دے رہے تھے لیکن اپوزیشن کی دوسری بڑی پارٹی پاکستان پیپلزپارٹی اعتزاز احسن کو علیحدہ امیدوار کے طور پر سامنے لاچکی تھی۔ آج کے دور کی اپوزیشن کی ذہانت اور معاملہ فہمی کا مقابلہ اگر ماضی کی اپوزیشن سے کیا جائے تو ان کے رویئے پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہے۔ بھٹو مرحوم کے زمانے کا پاکستان قومی اتحاد ہو یا ضیاء الحق کے عہد کا ایم آر ڈی۔ حزب اختلاف کے ہدف بھی واضح اور ان کا طرز عمل بھی مقاصد کے حصول کیلئے ہمہ وقت متحرک۔ یہاں تو عجیب ڈارمہ کھیلا گیا۔ آج کل جو پارٹیاں حزب اختلاف میں ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں ان کے اپنے مؤقف میں بھی کافی تضاد پایا جاتا ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ مسلم لیگ نواز اور پیپلزپارٹی اور دیگر چھوٹی جماعتیں فہم وفراست کا مظاہرہ کرتیں اور طویل غور وخوض کے بعد صدارتی امیدوار کو میدان میں اتارتیں اور پھر زرداری کے تجربے کو بروئے کار لاکر یہ انتخاب جیتنا ان کیلئے کوئی مشکل مرحلہ نہ تھا لیکن ستم ظریفی ملاخط ہو کہ جو ہوم ورک صدارتی امیدوار کو نامزد کرنے سے پہلے درکار تھا وہ کاغذات نامزدگی جمع کرنے کے بعد شروع کیا گیا جس سے ہماری موجودہ حزب اختلاف کی دانش کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ حزب اختلاف میں نواز لیگ کی موجودگی پر تو سابق صدر آصف علی زرداری کی یہ پھبتی بھی اب ریکارڈ کا حصہ ہے کہ نواز لیگ کب اپوزیشن میں رہی ہے؟ ایک طرف ڈاکٹر عارف علوی پورے اعتماد اور یقین کیساتھ صوبائی دارالحکومت کے دورے کر رہے تھے جبکہ دوسری جانب مولانا فضل الرحمن، آصف زرداری ہاؤس میں اعتزاز احسن کی دستبرداری کیلئے تگ ودو میں مصروف نظر آئے، شہباز شریف کی بلاوجہ اناپرستی اور آصف زرداری کا اپنے امیدوار پر ڈٹ جانا نہ بھی ہوتا پھر بھی عارف علوی کی جیت یقینی نظر آرہی تھی کیونکہ انتخاب عددی طاقت کا نام ہے اور اس میں کوئی جادو یا ٹونہ کام نہیں کر سکتا ہے۔

صدر کے منصب کے حوالے سے ہماری روایات کچھ شاندار نہیں رہی جس کا تازہ مظاہرہ موجودہ وزیراعظم عمران خان کی تقریب حلف وفاداری کے دوران بھی سامنے آیا جب وزیراعظم نے حلف اٹھایا تو صدر ممنون حسین نے مبارک باد دینے اور ہاتھ ملانے سے احتراز کیا حالانکہ یہ ان کی اخلاقی ذمہ داری تھی کہ منتخب وزیراعظم کو مبارکباد بھی دیںاور گرمجوشی سے مصافحہ بھی کریں۔ البتہ یہ فریضہ نگران وزیراعظم ناصرالملک نے حسن وخوبی سے نبھایا۔ پارلیمانی طرز حکومت میں ویسے بھی صدر کی اہمیت صرف علامتی ہوتی ہے انہیں صدر کم اور وفاق کا نمائندہ زیادہ گردانا جاتا ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے ارسال کردہ سمریوں، آرڈی نینس وغیرہ جاری کرنا اور غیر ممالک کے سفیروں سے اسناد سفارت وصول کرنا صدر کی ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ آئین جو بھی فرائض صدر کیلئے تفویض کرتا ہے ان کی انجام دہی اس منصب پر فائز شخص کیلئے لازم ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر اور سیاسی لحاظ سے ہنگامہ خیز ملک میں وزیراعظم کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا چونکہ ہمارے یہاں سیاسی رواداری اور باہمی احترام کا فقدان رہا ہے اس لئے سیاسی کشمکش اور جمہوری اختلاف پر ذاتی جذبات غلبہ پالتے ہیں اور اکثر پارلیمان میں صدارتی تقریر کے دوران غل غپاڑہ اور گو گو کے نعرے ہماری روایت رہی ہے اور ہم پورے ایک سال کے دوران کسی صدر مملکت کا خطاب بھی سکون سے سننے کے روادار نہیں ہوتے۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ جب ہم بڑے فخر سے یہ کہتے ہیں کہ اسمبلیاں اپنی مدت پوری کررہی ہیں تو ہمارے سیاسی رویوں میں بھی پختگی اور استحکام نظر آنا چاہئے۔اگرچہ پاکستان تحریک انصاف اپنے سارے سیاسی اہداف اب پورے کرچکی ہے اور اب موجودہ حکومت کے پاس اپنے ایجنڈے کی تکمیل کیلئے کوئی بہانہ اور عذر بھی نہیں۔ وزیراعظم عمران خان اپنی موجودہ کامیابی کو 22سال کی جدوجہد کا ثمر قرار دے رہے ہیں اس سے اختلاف نہیں کیا جا سکتا لیکن اس میں بھی کوئی تضاد نہیں کہ عوام ہی نے ان کو سرخرو کر ڈالا۔ وہ عوم کیلئے ترقی، خوشحالی، برابری اور سہولیات کا خواب دیکھتے رہے۔ عوام نے ان خوابوں کی تکمیل کیلئے ان کی پارٹی کو ووٹ دیئے جب ملک کے اعلیٰ مناصب ان کے پاس ہیں تو اب کچلے اور غربت زدہ عوام کو مشکلات کے بھنور سے نکالنا ان کی اولین ذمہ داری بنتی ہے۔ پاکستانی قوم ایک طویل عرصے سے صبرآزما مصائب سے دوچار ہے نئے صدر کیلئے بھی اب ضروری ہے کہ وہ اب پی ٹی آئی کے ورکر نہیں رہے بلکہ منتخب صدر پاکستان ہیں اور ریاست پاکستان سے وابستہ ترجیحات کو مقدم رکھیں۔ جہاں تک اعتزاز احسن اور مولانا فضل الرحمن کا تعلق ہے انہوں نے جمہوری عمل میں حصہ لیا اور دونوں یہ کہنے میں حق بجانب ہونگے۔

یہ نہ تھی ہماری قسمت۔۔۔

متعلقہ خبریں