Daily Mashriq


وزیراعظم کا غلط فیصلہ

وزیراعظم کا غلط فیصلہ

وزیراعظم پاکستان عمران خان نے مرزا مسرور احمد قادیانی کے داماد عاطف میاں کو اقتصادی مشاورتی کمیٹی میں ایک ممبر کے طور پر لیا۔ عمران خان نے یہ جاننے کے باوجود کہ وہ قادیانی ہے پھر بھی اس کو اکنامک مشاورتی کمیٹی میں لیا۔ عمران خان قادیانی عاطف میاں کی قابلیت سے بہت متاثر ہیں حالانکہ پاکستان میں بہت ماہر اقتصادیات ہیں جو دنیا کے ماہر اقتصادیات میں شمار ہوتے ہیں اور ان کو بین الاقوامی طور پر کئی ایوارڈ بھی ملے ہیں، ان کو شامل کرنا چاہئے مگر بدقسمتی سے عمران خان عاطف میاں کو مشاورتی کمیٹی میں شامل کر رہے ہیں۔ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ سوشل میڈیا پر بعض لوگ اس قادیانی کی حمایت میں لمبی لمبی تقریریں اور پوسٹ تحریر فرماتے ہیں مگر ان کو یہ پتہ نہیں کہ قادیانی جو کافر ہیں اسلام کی شکل میں لوگوں کو ورغلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے قانون اور آئین میں اقلیتوں کے حقوق ہیں۔ مثلاً بڑے بڑے عہدوں پر سکھ، ہندو، عیسائی موجود ہیں مگر وہ اپنی عیسائیت، ہندومت اور سکھ ازم سے انکاری نہیں جبکہ قادیانیوں کو قومی اسمبلی میں کئی دن تک بحث مباحثے کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کے دور 1974 میں کافر ڈیکلیئر کیا گیا مگر وہ اس کے باوجود بھی اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں جو غلط ہے۔ جو انسان ختم نبوؐت پر اللہ کی وحدانیت پر ایمان نہ رکھتا ہو اس کو زندیق کہا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ قُرآن مجید فُرقان حمید میں فرماتے ہیں محمدﷺ تم مردوں میں کسی کے باپ نہیں لیکن وہ اللہ کا رسولؐ اور تمام انبیاء پر مُہر ہے۔ حضورﷺ فرماتے ہیں میں خاتم النبیینؐ ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ اللہ کریم جل جلالہ نے سو آیات مبارکہ میں، نبی کریمﷺ نے دو سو احادیث مبارکہ اور عملی اقدامات سے، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اجماع اور جہاد سے اور امت نے اتباع سے اسلام کے اسی عقیدہ ختم نبوتؐ کی حفاظت فرمائی ہے۔ 7ستمبر1974 کو مملکت خداداد پاکستان کی قومی اسمبلی نے متفقہ طور مرزا غلام احمد قادیانی اور اس وقت اس کے ماننے والوں کو غیرمسلم اقلیت قرار دے کر تمام امت کے عقیدہ ختم نبوتؐ کی حفاظت فرمائی۔ قادیانیت برطانوی سامراج کا پیدا کردہ اسلام دشمن سیاسی وسازشی فتنہ ہے جس کو مرزا غلام احمد قادیانی نے مذہبی روپ دیکر مسلمانوں کے دلوں سے جذبہ جہاد کو مٹانے کی خطرناک سازش دور فرنگی میں تیار کی تھی جس کا اعتراف خود غلام احمد قادیانی کرتا ہے کہ قادیانیت انگریزکا پودا ہے۔ قادیانی عالمی صیہونی تحریک کے آلہ کار یورپ کے تربیت یافتہ اور اسرائیل کے ایجنٹ ہیں۔کشمیر سے واپسی پر جب بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح سے سوال پوچھا گیا کہ آپ کی قادیانیوں کے بارے میں کیا رائے ہے تو آپ نے فرمایا کہ میری وہ رائے ہے جو علمائے کرام اور پوری اُمت کی ہے۔ شاعر مشرق علامہ اقبال جواہرلال نہرو کے نام خط میں لکھتے ہیں قادیانی اسلام اور ملک کے غدار ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو نے کہا کہ مسلمان وہ ہے جو ختم نبوتؐ کا قائل ہے جو ختم نبوتؐ کا قائل نہیں وہ مسلمان نہیں۔ بھٹو کہتے ہیں کہ قادیانی کتنے خطرناک ہیں اس کا احساس مجھے دو دنوں میں ہوا، میں نے کبھی سوچا نہیں تھا کہ قادیانی مذہب کے لوگ اس قدر خوفناک ارادے رکھتے ہیں۔ جنرل ضیاء الحق نے قادیانیوں کے بارے میں کہا تھا کہ ہمیں اصل خطرہ انہی منافقوں (قادیانیوں) سے ہے جو مسلمانوں کا لبادہ اوڑھ کر ہماری صفوں میں گھسے ہوئے ہیں۔ محمد خان جونیجو کہتے ہیں ختم نبوتؐ کے منکرین (قادیانیوں) کیخلاف پوری قوت سے کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔ توہین نبوتؐ برداشت نہیں کی جائے گی۔ بینظیر بھٹو نے ایک سوال کے جواب میں کہا قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے سے قبل قومی اسمبلی میں بلا کر موقع دیا گیا تھاکہ وہ ثابت کر سکیںکہ وہ ختم نبوتؐ پر ایمان رکھتے ہیں لیکن قادیانی سربراہ نے قومی اسمبلی میں آکر جو مؤقف بیان کیا وہ ختم نبوتؐ سے مکمل انکار تھا لہٰذا ملک کی منتخب اسمبلی میں اتفاق رائے سے قادیانیوں کو آئینی ترمیم کے ذریعے غیرمسلم اقلیت قرار دیا گیا۔ اسلئے وہ ترمیم درست ہے، اسے ختم نہیں کیا جائے گا۔ سردار عبدالقیوم خان کہتے ہیں اب قادیانیت کے سکڑنے بلکہ ختم ہونے کا وقت آگیا۔ یہ ہندوؤں اور یہودیوں کی طرح ترغیبات دے کر مسلمانوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ ہم آزاد کشمیر میں اپنی سرزمیں کو قادیا نیت کے فتنہ سے محفوظ رکھیں گے۔ ختم نبوتؐ کا منکر قادیانی مرتد زندیق اور کافر ہے۔ گر ہم مزید غور کریں تو یہودیوں، عیسائیوں، ہندوؤں، سکھوں اور بدھ مت کے پیروکاروں کیساتھ مسلمانوں کا کوئی جھگڑا نہیں کیونکہ وہ دوسرے مذاہب کو چھیڑنے کے بجائے اپنے مذاہب کی وعظ اور تبلیغ کرتے ہیں اور وہ کسی کے مذہب میں مداخلت نہیں کرتے جبکہ اس کے برعکس قادیانی اور احمدی جو اسلام کی اصلی شکل کو بگاڑنے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔ انگریزوں کے ہاتھ کے لگائے ہوئے اس بوٹے قادیانیوں کی پوری کوشش ہے کہ اسلام کی اصل شکل کو بگاڑا جائے۔ اگر ہم مزید غور کر لیں تو دنیا میں اسلام سب سے زیادہ تیزی سے پھیلنے والا دین ہے اور ان کی یہ بھی کوشش ہے کہ نومسلم مسلمانوں کو گمراہ کرکے اسلام کی شکل میں قادیانی بنایا جائے۔ قادیانی اور ان کی مصنوعات کا بائیکاٹ ہر مسلمان پر لازم ہے کیونکہ ہر قادیانی کمپنی تقریباً 10فیصد تک چندہ اپنی آمدنی سے قادیانیت کی تبلیغ اور محمد عربیﷺ کے ناموس کیخلاف استعمال کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں