Daily Mashriq

وزیراعظم کا تاجر دوست انقلابی حکم

وزیراعظم کا تاجر دوست انقلابی حکم

وزیر اعظم عمران خان نے تجارتی سامان کی ترسیل کی چیکنگ کیلئے جگہ جگہ قائم چیک پوسٹ پر پولیس، ایکسائز اور ایف سی کی جانب سے بھتہ وصول کرنے کا نوٹس لیکرسرکاری مشینری ادارہ جاتی بدعنوانی کی روک تھام کی جو ہدایت کی ہے اس پر عملدرآمد کی صورت میں ملک میں بڑے پیمانے پر سمگلنگ کی روک تھام ممکن ہوگی۔وزیر اعظم کے دفتر نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ چیک پوسٹ پر اس طرح اقدامات سے یہ تاثر دیکھنے کو مل رہا ہے کہ چیک پوسٹ پر غیر قانونی طور پر وصول کی جانے والی رقم میںمتعلقہ وزارتوں اور اداروں کی اہم شخصیات کا حصہ بھی شامل ہے وزیر اعظم دفتر سے سیکرٹری داخلہ، سیکرٹری نارکاٹکس، تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریز، چیئرمین ایف بی آر، چیف کمشنرز، تمام صوبوں کے انسپکٹر جنرل آف پولیس، انسپکٹر جنرل فرنٹیئر کور کے نام مراسلہ کا اجراء اس حکمنامے پر سختی سے عملدرآمد کے عزم کا واضح اظہار ہے جسے غیر معمولی قرار دیا جا سکتا ہے کیونکہ عموماً اس درجے کی سخت ہدایت اور واضح الفاظ میں ذمہ دار عناصر کو تنبیہہ کم ہی کی جاتی ہے۔ مراسلہ کے مطابق وزیر اعظم دفتر کو بعض ذرائع سے شکایات موصول ہوئی تھیں کہ بیشتر محکموں نے مختلف تجارتی شاہراہوں پر چیک پوسٹیں قائم کی ہیںخاص طور پر طورخم اور چمن بارڈر پر تجارتی سامان کی ترسیل کو چیک کرنے کیلئے متعلقہ وزارتوں اور اداروں نے جو چیک پوسٹیں قائم کی ہیں ان چیک پوسٹوں پر گاڑیوں سے بھاری رشوت وصول کی جاتی ہے جو تجارت کے فروغ کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے متعلقہ اداروں کے اس طرح کے اقدامات سے نہ صرف ملک کی بدنامی ہوتی ہے بلکہ تجارت پیشہ افراد اور ٹرانسپورٹرز کیلئے کرائے بڑھانے کا سبب بھی بن رہے ہیں۔ مراسلہ میں سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ اگر5اکتوبر کے بعد کسی وزارت یا ادارے کی قائم چیک پوسٹ نے گاڑی سے غیر قانونی بھتہ وصول کیا اور اس کی شکایت وزیر اعظم دفتر موصول ہوئی تو صرف چیک پوسٹ کے اہلکاروں کے خلاف نہیں بلکہ اس وزارت اور ادارے کی اعلیٰ شخصیات چیف سیکرٹریز، انسپکٹر جنرل آف پولیس اور ڈائریکٹر جنرلزکے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ہم سمجھتے ہیں کہ وزیراعظم نے ایک ایسے گھمبیر معاملے کو سلجھانے کا بیڑااٹھایا ہے جو ہر شہری کے مشاہدے اور تقریباً،ہر دوسرے کاروباری شخص کا تجربہ ہے اس کی ہر سطح پر شکایت بھی ہوتی ہی ہے میڈیا بھی کبھی دبے اور کبھی صریح الفاظ میں اس حوالے سے ادھوری اور نا مکمل رپورٹس شائع اور نشر کرنے کی سعی کرتا رہا ہے ہر حکومت وقت کو بھی اس کا بخوبی علم ضرور رہا ہوگا لیکن اس کا اس سطح پر نوٹس کبھی اس لئے نہیں لیا گیا کہ شاید اس میں حکمرانوں کا حصہ بقدر جثہ رہا ہوگااگر یہ الزام اور یہ تاثر غلط بھی ہے تو بھی کم از کم اس امر کی حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ حکمران وقت نے اس کی روک تھا م کی چنداں سنجیدہ سعی نہیں کی جس کی وجہ سے یہ مرض اتنا پھیل گیا کہ تقریباًلاعلاج ہی ہوگیا تھا۔وزیراعظم کے اس حکمنانے اور اعلیٰ ترین سطح کے عہدیداروں کو اس کا ذمہ دار گرداننے کے بعد توقع ہے کہ صورتحال میں بہتری آئے گی اور سمگلنگ کی شرح میں واضح کمی آئے گی۔اس حکمنامے کا سب سے مثبت اثر پاک افغان تجارت پر پڑھے گا۔ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے راستے افغانستان سے بڑے پیمانے پر تجارت ہوتی ہے وزیراعظم کے طور خم سرحد مسلسل کھلا رکھنے کے اقدام سے پاک افغان تجارت کا حجم بڑھے گا اور تاجروں کی حوصلہ افزائی ہوگی مستزاد جب ان کا مال تجارت پر اضافی استحصالی رقم کی وصولی کا بوجھ ہٹ جائے گا تو یہ سرحد کے دونوں طرف کے تاجروں کیلئے کسی بڑے ریلیف سے کم نہ ہوگا۔وزیراعظم نے جس سختی اور عزم کے ساتھ اور جس واضح انداز میں ذمہ داریوں کا تعین اور ناکامی پر سز اکا بھی جو واضح لائحہ عمل دیا ہے اس کے بعد اس پر عملدرآمد کا سوال نہیں اٹھے گا۔وزیراعظم کے اس حکم کو اگر موجودہ حکومت کا سب سے بڑا اقدام اور تجارت دوست قراردیا جائے تو غلط نہ ہوگا جس پر عملدرآمد میں سنجیدگی اور مسلسل اس حوالے سے حصول معلومات اور جائزہ پر توجہ درکار ہے تاکہ کچھ عرصہ عملدرآمد کے بعد صورتحال پرانی سطح پر نہ آئے۔

مقبوضہ کشمیر اور اسرائیل بارے شکوک وشبہات کا ازالہ

پاک فوج کے ترجمان کی کشمیر پر ڈیل ہماری لاشوں سے گزر کر ہوگی آخری گولی آخری سپاہی اور آخری سانس تک لڑنے کے عزم کا اعادہ کشمیریوں کیلئے کسی بھی حد تک جانے اور بوقت ضرورت پہلکاری سے عدم گریز اور اسرائیل کو تسلیم کرنے کی باتوں کو واضح الفاظ میں پراپیگنڈہ قرار دینے کے بعد جہاں بہت سارے سوالوں کا جواب مل گیا ہے وہاں بہت سارے شکوک وشبہات کاازالہ بھی ہوگیا ہے۔پاکستانی عوام کو اپنے بحروبر اور فضا میں لڑنے والے مجاہدوں کے ساتھ گمنام مجاہدوں کی صلاحیتوں پر پورا پورا اعتماد ہے مقبوضہ کشمیر میںبھارتی مظالم کی روک تھام کیلئے سفارتی سطح پر کوششیں اپنی جگہ لیکن بھارتیوں کے دل میں کوئی بات بٹھانے کیلئے عسکری لب ولہجہ کا استعمال مئوثر حکمت عملی ثابت ہوئی ہے ۔وزیراعظم کے دورہ امریکہ کے فوراً بعد مقبوضہ کشمیر کے بارے میں بھارتی پالیسی اور نریندر مودی کا اقدام اور اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حوالے سے افواہیں حقیقت کا روپ دھارنے لگی تھیں جن کے حوالے سے پاک فوج کے ترجمان کے واضح اعلان کی ضرورت تھی جواب پوری ہوچکی ہے اور قوم کو اسرائیل کو تسلیم کئے جانے کے حوالے سے اب کوئی شکوک وشبہات نہیں پاک فوج کے ترجمان نے ایک ایسے وقت میں قوم کو اعتماد میں لیا جب سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ بھی پاکستان کے دورے پر تھے یہ دنیا کوایک واضح پیغام ہے کہ اسرائیل کے حوالے سے پاکستان کی پالیسی کیا ہے؟۔پاک فوج کے ترجمان کے کشمیر کے حوالے سے بیان کے بعد اب قوم کے دلوں سے شکوک وشبہات کا ازالہ ہونا چاہیئے اور پوری قوم کو آخری گولی اور آخری سانس تک کشمیریوں کی حمایت کے بیانیہ کو آگے بڑھانا چاہیئے اور اس پرعمل پیرا رہنے کیلئے پوری قوم کو اس عزم کے اعادے اور اتحادویکجہتی کا ثبوت دینا چاہیئے۔

متعلقہ خبریں