Daily Mashriq

انسداد پولیو مہم کی ناکامی

انسداد پولیو مہم کی ناکامی

صوبے میں طمطراق سے پولیو مہم چلانے اور تمام وسائل بروئے کار لانے کے باوجود خیبرپختونخوا میں پولیو مہم غیر مئوثر اور ناکام ثابت ہورہی ہے۔ہمارے نیوز رپورٹر کے مطابق چالیس فیصد بچے کسی نہ کسی وجہ سے پولیو کے قطرے پینے سے محروم رہتے ہیں بچوں کی اتنی بڑی تعداد صرف والدین کے انکار کی وجہ سے محروم نہیں رہی ہوگی بلکہ اس میں جعلی پولیو مہم چلانے سے لیکر ارتکاب غفلت تک کے عوامل کی پوری گنجائش اور امکان موجود ہے یہی وجہ ہے کہ بار بارپولیو مہم چلانے کے باوجود پولیو وائرس کا خاتمہ تو درکنار تواتر کے ساتھ بچوں کے پولیو سے متاثر ہونے کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں نظامت صحت کے ذرائع کے مطابق جتنے بھی بچے پولیو زدہ پائے گئے ان تمام بچوں کو ایک بھی حفاظتی ٹیکہ نہیں لگایا گیا یعنی وہ جتنی بار بھی پولیو مہم چلی ہر بار محرومی ہی ان کے حصے میں آئی اور وہ اپنے والدین اور پولیو ٹیموں کی مشترکہ غفلت کے باعث پولیو کا شکار ہو کر زندگی بھر کیلئے معذور ہوگئے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ پولیو مہم کی نگرانی کیلئے اب پہلی والی ٹیموں اور حکام پر اعتماد کرنے کی بجائے پولیو مہم کو مئوثر اور بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کو یقینی بنانے کیلئے مئوثر اقدامات کئے جائیں ناکامیوں کی وجوہات کا ایک مرتبہ پھر جائزہ لیا جائے خامیاں دور اور ارتکاب غفلت کی گنجائش باقی نہ رہنے دی جائے تاکہ اس موذی مرض کے خاتمے کی راہ ہموار ہو اور معصوم بچے محفوظ رہیں۔

طلبہ اور والدین کو ریلیف میں توسیع

نجی سکولوں کو موسم گرما کی تعطیلات،ٹرانسپورٹ اور سالانہ فیسوں کی وصولی سے متعلق حکم امتناعی میں توسیع والدین کیلئے بڑی خوشخبری سے کم نہیں،حکم امتناعی کے باوجود بعض سکولوں کی جانب سے فیسوں کی وصولی کی شکایات ہیں جبکہ بعض سکول بچوں کو ہر اساں کررہے ہیں اور آئے روز والدین کو نوٹس بھیج رہے ہیں اس حوالے سے ریگولیٹری اتھارٹی کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنے اور عدالتی حکمنامے کو اس کی روح کے مطابق مئوثر بنانے کیلئے متحرک ہونے کی ضرورت ہے ریگولیٹری اتھارٹی کے حکام کو چاہیئے کہ وہ اپنے ذرائع اور سکولوں کے دورے ومعائینہ کے ذریعے صورتحال سے از خود آگاہی حاصل کریں علاوہ ازیں واٹس ایپ نمبر کا اجراء کیا جائے جس پر والدین فیس وصولی سلپ کا عکس بطور ثبوت بھجوا سکیں۔نجی سکولزمالکان کو عدالتی احکامات کی پابندی اور توہین عدالت کے ارتکاب سے اجتناب کرنا چاہیئے اور جب تک حتمی فیصلہ نہیں آتا اس وقت تک ممنوعہ فیس اور رقم وصول کرنے کیلئے حربوں اور ہتھکنڈوں کے استعمال سے اجتناب کرنا چاہیئے۔

طبی آلات سے عدم استفادے

خیبر پختونخوا کی قائمہ کمیٹی کی طرف سے ہسپتالوں میں پڑے قیمتی طبی آلات کا استعمال نہ کرنے اور آلات کو چلانے کیلئے عملے کی کمی اور عملے کے نہ ہونے کا نوٹس احسن اقدام ضرور ہے لیکن یہ پہلا اقدام اورنوٹس نہیں ہے اس طرح کے نوٹس مختلف اوقات میں مختلف حلقوں کی جانب سے پہلے بھی لئے جا چکے ہیں لیکن یہ بیل منڈھے نہیں چڑھتی قائمہ کمیٹی کو اس ضمن میں مزید غور اور لائحہ عمل وضع کر کے پیش کرنے کی بھی حکومت کو سفارش کرنی چاہیئے تاکہ برسہا برس سے موجود اس شکایت کا کوئی ٹھوس حل نکالا جاسکے۔عملے کی کمی اور عملہ نہ ہونے سے قیمتی تشخیصی طبی آلات سے عدم استفادہ ایک عام شکایت و مسئلہ ہے اور اس قسم کا مسئلہ سالوں میں حل نہیں ہوتا جسے دور کرنے کیلئے فوری ضروری طبی عملے کی بھرتی کی جائے۔

متعلقہ خبریں