Daily Mashriq

دشمن یہ چاہتے ہیں کہ آپس میں جنگ ہو

دشمن یہ چاہتے ہیں کہ آپس میں جنگ ہو

آج یوم دفاع پاکستان ہے جو6ستمبر1965کو شروع ہونے والی سترہ روزہ پاک بھارت جنگ کی یاد میں منایا جارہاہے ،5اور6ستمبر1965ء کی درمیانی رات کے اندھیرے میں بھارت نے پاکستان کی سرحدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے باٹا پور لاہور پر فضائی حملہ کردیا اور بھارتی فوج کے ٹڈی دل لشکر نے دفاعی لائن بی آربی کو عبور کرکے لاہور میں داخل ہو نے کی مذموم کوشش کی ، لیکن میجر عزیز بھٹی شہید کی بٹالین کے ہاتھوں ان کو منہ کی کھانی پڑی اور یوں6 ستمبر 1965کو پاکستان اور بھارت کے درمیان سترہ روزہ جنگ چھڑ گئی ،6ستمبر 1965 کو شروع ہونے والی سترہ روزہ پاک بھارت جنگ کے دوران دشمن کو ہر میدان پر سخت مزاحمت اور ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ، ان دنوں راقم السطور آٹھویں جماعت کا طالب علم تھا، اس جنگ کے شروع ہوتے ہی وہ اسکول کے دیگر طلباء کے ہمراہ افواج پاکستان کا ساتھ دینے کے لئے میدان عمل میں کود پڑا ، ہم افواج پاکستان اور جنگ کے متاثرین کے لئے گلی گلی پھر کر چندہ اکٹھا کرنے لگے ، نہ صرف اپنے محلہ میں ٹینٹ لگا کر اور لاؤڈ سپیکر لیکر بیٹھ گئے اور اس پر ریکارڈ پلئیر کے ذریعے جنگی ترانے بجانے لگے ، اور لوگوں سے چندہ اکٹھا کرنے کی اپیل کرنے لگے اس کے علاوہ ہم گھر گھر جاکر پشاور کے شہریوں کو پاکستان کے دفاع کے لئے اپنی جان اور مال میں سے مقدور بھر حصہ قربان کرنے کی درخواست کرنے لگے ، یہ کام ہمارے اسکول کے اساتذہ نے بھی ہمارے حوالہ کیا تھا اور محلہ کی اصلاحی کمیٹی والے بھی ایسا کام ہم سے لیکر افواج پاکستان کے ہمراہ دشمن کے عزائم کو خاک میں ملانے کا کردارر ادا کررہے تھے ، راقم السطور نے اپنے کلاس فیلو حاجی جاوید کے ساتھ گھر گھر پھر کی جنگ کے متاثرین کے لئے چندہ اکٹھا کیا جسے لاکر اسکول انتظامیہ کی جانب سے منعقد کی جانے والی ایک تقریب میں تالیوں کی گونج میں وہ چندہ ہم نے اس کام کے لئے مقرر اسکول سٹاف کے حوالہ کیا تھا ، چندہ اکٹھا کرنے کی یہ مہم صرف ہمارے اسکول تک محدود نہیں تھی بلکہ پشاور کی ہر گلی اور بازار میں کم و بیش ہر دکان کے سامنے ایک صندوق ، ڈبہ یا بکسہ رکھ دیا گیا تھا جس پر لکھا ہوا تھا کہ اس میں کم از کم ایک ٹیڈی پیسہ ڈال کر آپ ہر روز افواج پاکستان کو ایک ٹینک خرید کر دے سکتے ہیں ، ٹیڈی پیسہ ان دنوں نیا نیا متعارف ہوا تھا، اس سے پہلے ایک روپے میں 64 پیسے ، سولہ آنے ، آٹھ دونیاں ، چار چونیاں ، یا دو اٹھنیاں ہوا کرتی تھیں ، لیکن ناپ تول اور ریگزاری کا اعشاری نظام متعارف ہوتے ہی ٹیڈی پیسہ متعارف ہوا ، اور سو ٹیڈی پیسے مل کر ایک روپیہ کہلانے لگے ، کوئی وقعت یا حیثیت نہیں تھی ٹیڈی پیسے کی ، اس وقت پاکستان کی آبادی اتنی تھی کہ اگر ساری آبادی مل کر ایک ایک ٹیڈی پیسہ جمع کرتی تو اتنی رقم بن جانے کا امکان تھا کہ اس سے ایک ٹینک خرید کر جنگی محاذ پر لڑتے افواج پاکستان کے غازیوں کے حوالہ کیا جاسکتا تھا ، یہ ایک مفروضہ تھا جس پر عمل کرنے والے نہ صرف ہر بازار کے دکان داروں نے اپنی دکان کے سامنے ''ایک ٹیڈی پیسے میں ایک جنگی ٹینک خرید کر افواج پاکستان کے حوالہ کرو ''لکھا ڈبہ رکھ دیا جس میں ٹیڈی پیسہ کیا پاکستانیوں نے اپنی روایتی حب الوطنی کا ثبوت پیش کرتے ہوئے وطن کے نام سب کچھ نچھاور کرنا شروع کردیا ، افواج پاکستان اور پاکستانی قوم دشمن کے خلاف للکار بن کر سیسہ پلائی ہوئی دیوار کا روپ اختیار کر گئے اور یوں بھارت کو اپنے کئے پر پشیمانی کا سامنا کرنا پڑا ، 'میریا ڈھول سپاہیا تینوں رب دیاں رکھاں ، ایہ پتر ہٹاں تے نی وکدے ، تو لبدی پھریں بازار کڑے ، میرا ماہی چھیل چھبیلا جرنیل نی کرنیل نی' جیسے کتنے دل پذیر اور خون کو گرمانے والے جنگی نغمے تھے جو ملکہ ترنم نورجہاں کے علاوہ اس دور کے گرانقدر مغنیوں یا صدا کاروں کی آواز میں گھر گھر اورگلی گلی رکھے گئے ہر ریڈیو سیٹ میں گونجتے ، فوج اور قوم کے حب الوطنی کے جذبوں کو جلا بخشنے لگے ، ان دنوں اگر ہم دن کے وقت افواج پاکستان اور جنگی متاثرین کے لئے چندہ اکٹھا کرتے تو رات کے وقت سول ڈیفنس کے سپاہیوں کی وردی پہن کر اپنے محلے کی گلیوں میں نکل آتے اور رات بھر گلی گلی گھوم کر پشاور کے شہریوں سے بلیک آؤٹ کی پابندی کرواتے ، ہمارے بہت سے محلہ دار ہاتھوں میں پستول ، ریوالور ، بندوقیں اور ڈنڈے لیکر اپنے گھروں سے نکل کر رات بھر پہرہ دیتے رہتے ، کسی چڑیا کو بھی پر مارنے کی جرأت نہ ہوتی ، جیسے ہی دشمن کے جہاز حملہ آور ہوتے شہر بھر میںقریہ قریہ نصب سائرن بج اٹھتے ، لوگ اپنے گھروں کے تہہ خانوں یا گھر کے سامنے بنائے گئے بنکرز یا خندقوں میں پناہ لے لیتے ، لیکن بہت سے آتشیں اسلحہ بردار من چلے ایسا کرنے کی بجائے اپنی بندوقوں کو آسمان کی طرف کرکے فائر داغنے لگتے ، اتنی فائرنگ ہوتی کہ دشمن کے جہاز دم دبا کر بھاگ جاتے ، اور جب رات کی چادر ہٹتی اور دن کا اجالا پھیلتا تومعلوم ہوتا کہ دشمن کا کونسا جہاز کہاں پر گرا، 1965کی سترہ روزہ جنگ روس کے شہر شملہ میں بھارت اور پاکستان کے درمیان ہونے والے شملہ معاہدے پر ختم ہوئی ، جانے وہ کیسا معاہدہ تھا جو بھارت کے وزیر اعظم شاستری کو بھی نگل گیا ، لیکن افسوس کہ جنگی جنون میں مبتلا ء نریندر مودی نے بھارت کی اس تاریخی اور عبرت ناک ہزیمت سے کوئی بھی سبق حاصل نہیں کیا،

جو دوست ہیں مانگتے ہیں صلح کی دعا

دشمن یہ چاہتے ہیں کہ آپس میں جنگ ہو

متعلقہ خبریں