Daily Mashriq

کچھ علاج اس کا بھی اے چارہ گراں

کچھ علاج اس کا بھی اے چارہ گراں

پشاوراور اس کی ٹریفک ! خدا کی پناہ !جس طرف دیکھئے آپ کو رکشے، موٹر سائیکلیں، گاڑیاں ، مزدے، ٹیکسیاںاور باڑے کی بسیں جنہیں ٹرانسپورٹرز عرف عام میں راکٹ کہتے ہیں یہ تو ہمیں نہیں معلوم کہ انہیں راکٹ کیوں کہا جاتا ہے لیکن اتنا جانتے ہیں کہ یہ راکٹ سے کسی طور بھی کم نہیں ہیں (بیڈ فورڈ بیچارے کو کیا معلوم تھا کہ اس کی ڈیزائن کردہ بس کو پشاور میں باڑے کی مناسبت سے نیا نام دیا جائے گا )جب باڑے کی بس مست بیل کی طرح جھومتی جھامتی پشاور شہر کی طرف آتی ہے تو اس کے سامنے سے گاڑیاں ، رکشے یوں بھاگتے ہیں جیسے ہمارے یہاں سرکاری ملازم کام سے بھاگتا ہے ہمارے بہت سے سرکاری دفاتر میں اہل کار اپنی سیٹ چھوڑ کر اپنے ذاتی کاموں کے لیے ادھر ادھر بھاگ دوڑ کرتے رہتے ہیں ان کے ذہن میں یہی ہوتا ہے کہ دفتری اوقات میں اپنے ذاتی کام بھی نپٹا لیے جائیں تو بہتر ہے اسے کہتے ہیں ایک پنتھ دو کاج! ان کے ساتھ دوسری نشست پر براجمان بابو دفتر آنے والے ہر غرض گو سے یہی کہتا ہے کہ با بو صاحب بس آنے والے ہیں آپ تھوڑی دیر انتظار کیجیے!لیکن یہ تھوڑی دیر کا انتظار اکثر طویل انتظار میں تبدیل ہوجاتا ہے اور با بو صاحب کالے گلاب کی طرح نایاب ہوتا ہے ۔ہم بچپن سے سنتے چلے آرہے ہیں کہ خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے سرکاری بابو صاحبان کی دیکھا دیکھی اب پشاورشہر کے بہت سی نامی گرامی بینکوں کے بابو صاحبان بھی پر نکالنے لگے ہیں بینک کھلنے کا وقت صبح نو بجے ہے لیکن نو بج کر تیس منٹ تک خیر خیریت ہوتی ہے اس حوالے سے ہمارے تجربات بڑے تلخ ہیں خاکروب نو بجے جھاڑو دے رہا ہوتا ہے بینک گارڈ دروازے پر چوکس کھڑا ہوتا ہے جو غرض گو دیوانوں کو اندر جانے نہیں دیتا جب ہم نے اسے نو بج جانے کا کہا تو اس کا کہنا تھا جناب ہمیں نہیں معلوم ابھی تو صفائی ہورہی ہے ابھی تو بلوں والا بابو بھی نہیں آیا اسی طرح صفائی اور بابو صاحبان کی آمد کے شور و غل میں نو بج کر تیس منٹ ہو ہی جاتے ہیں جب ہم نے ایک دن ڈرتے ڈرتے ایک بابو صاحب سے فریاد کی تو انہوں نے بڑے فلسفیانہ انداز میں کہا جناب انسان بڑا کمزور ہے کسی پر اس طرح تنقید نہیں کرنی چاہیے آپ کو تو معلوم ہے کہ پشاور میں ٹریفک کی صورتحال کتنی خراب ہے ہم نے ان سے جان کی امان چاہتے ہوئے کہا کہ اگر بندہ بیس منٹ پہلے گھر سے نکلے تو وقت پر پہنچ سکتا ہے تو وہ ہنستے ہوئے فرمانے لگے کہ جناب سچی بات تو یہ ہے کہ ابھی تک منیجر صاحب بھی نہیں آئے وہ جب دیر سے آتے ہیں تو بابوصاحبان بھی آرام سے بینک تشریف لاتے ہیںبات تو اس کی مناسب تھی جب ادارے کا سربراہ وقت پر دفتر تشریف نہیں لاتا تو پھر سٹاف تو دیر سے ہی آئے گایہی و ہ چھوٹی چھوٹی خامیاں اور کوتاہیاں ہیں جن کی وجہ سے آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے ہم نے کالم کا آغازپشاور کی منہ زور ٹریفک کے حوالے سے کیا تھا ہماری ٹریفک کا اٹوٹ انگ سڑکوں پر دوڑنے بھاگنے والے رکشے ہیںاکثر ہمارے ذہن میں یہ خیال آتا ہے کہ رکشوں کی پشاور شہر میں حد سے زیادہ بہتات کا کیا راز ہے جسے دیکھئے وہ اپنے لیے اسی پیشے کا انتخاب کر رہا ہے یا تو اس پیشے میں بے تحاشہ آمدنی ہے اس لیے بہت سے لوگ رکشہ چلانے کو دوسرے کاموں پر ترجیح دیتے ہیں؟ دوسری سہولت یہ ہے کہ یہ کم خرچ اور بالا نشین ہے ایک سے دو لاکھ کے درمیان تک ایک رکشہ مل جاتا ہے اس کام میں کسی قسم کی پابندی بھی نہیں ہے جب جی چاہے رکشہ نکالیے سڑک پر دوڑاتے رہیے اگر اس دوران نماز کا وقت ہوجاتا ہے تو کسی بھی مسجد کے سامنے رکشہ کھڑا کرکے نماز ادا کیجیے جب مناسب سمجھیں کام سے چھٹی کرلیں کسی بھی قسم کی کوئی روک ٹوک نہیں ہے رکشہ ڈرائیور انہیں اس طرح اڑاتے ہیں جیسے موت کے کنوئیں میں چلا رہے ہیں ان رکشہ ڈرائیوروں کی دو تین اقسام پائی جاتی ہیں پہلی قسم تو مالکان کی ہے جو اپنا رکشہ کسی ڈرائیور کے حوالے کرنے کی بجائے خود چلانے کو ترجیح دیتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ دیانت دار ڈرائیور کا ملنا فی زمانہ ناممکنا ت میں سے ہے ڈرائیور پہلے اپنا گھر پورا کرتا ہے پھر مالک کے بارے میں سوچتا ہے اس کے علاوہ وہ رکشے کو بڑی بے دردی کے ساتھ بھگاتا ہے اسے اس بات کی پرواہ نہیں ہوتی کہ سامنے سپیڈ بریکر ہے بس وہ یہی سوچتا ہے کہ وقت کم ہے اور مقابلہ سخت ہے اس کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ سواریاں اٹھائے اس بھاگ دوڑ کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ رکشے میں آئے دن مرمت کا کام نکلتا رہتا ہے ظاہر ہے مستری کا خرچہ بھی مالک پر ہوتا ہے اس لیے ڈرائیور کو اس بات کی پرواہ نہیں ہوتی کہ رکشے کی مرمت پر کتنا خرچہ آرہا ہے پہلی بات تو یہ ہے کہ وہ اپنے رکشے پر دل دکھاتا ہے اس کا خیال رکھتا ہے اس کی کوشش ہوتی ہے کہ رکشے پر زیادہ بوجھ نہ ڈالے رکشوں کی بہتات اپنی جگہ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ ہماری ٹریفک پولیس کا اس حوالے سے کیا کردار ہے؟ پہلی بات تو یہ ہے کہ بغیر پرمٹ ہزاروں کی تعداد میں رکشے پشاور کی سڑکوں پر بھاگ رہے ہیں بغیر پرمٹ رکشہ چلانا جرم ہے اس کے لیے پانچ ہزار روپے جرمانہ کیا جاتا ہے اگر انہیں باقاعدہ جرمانہ کیا جاتا تو بغیر پرمٹ ایک رکشہ بھی روڈ پر نظر نہ آتا اب اس بات کا جواب ٹریفک پولیس ہی دے سکتی ہے ؟۔

متعلقہ خبریں