Daily Mashriq

مونچھ کی اونچ نیچ،نٹورلال اور ابھی نندن

مونچھ کی اونچ نیچ،نٹورلال اور ابھی نندن

مونچھیں ہوں تو نٹور(نٹ ور) لال جیسی ورنہ بالکل نہ ہوں،یہ ایک بھارتی فلم(غالباًشرابی)کا ایک ڈائیلاگ ہے جو امیتابھ بچن اپنی کمپنی کے ایک کارندے کی مونچھیں دیکھ کر ادا کرتا ہے،اور یہ ڈائیلاگ مجھے بھارتی فضائیہ کی جانب سے اس کے پائلٹ ابھی نندن کی بڑی بڑی مونچھیں چھوٹی کروانے کی خبر پڑھ کر یاد آیا،دراصل یہ کم بخت مونچھ چیز ہی ایسی ہے کہ جو بھی اس کا شوق پالتا ہے وہ مشکل میں رہتا ہے،ریڈ پاکستان کے ہمارے ایک بزرگ ساتھی مرحوم خلیل خان کی مونچھیں بھی بڑی بڑی تھیں،تاہم جس دورمیں انہیں میں نے دیکھا اور ایک مدت تک ہم ایک ساتھ رہے تب ان کی مونچھیں بڑی تو ضرورتھیں مگر خود وہ اپنی بڑی بڑی مونچھوں کا تذکرہ کرتے تھے،وہ قیام پاکستان سے پہلے کے دور کا قصہ ہے،خلیل خان کا تعلق پشاور کے علاقے چمکنی سے تھا،وہ تھیٹر کے شوق میں ایک طویل عرصے تک بمبئی(موجودہ ممبئی)مدراس،کلکتہ وغیرہ میںمقیم رہے تھے،آواز میں کھرج اور بلند آہنگی،جبکہ لمبہ چوڑا جثہ اور بڑی بڑی مونچھوں کی وجہ سے وہاں کی تھیٹر یکل دنیا کی ضرورت بن چکے تھے،کئی تھیٹر کمپنیوں کے ساتھ وابستہ رہے اور آغاحشر کی کمپنی کے ساتھ تو طویل عرصہ گزارا،جبکہ خاموش فلموں کے دور سے لیکر ابتدائی دور کے ناطق فلموں میں بھی یاد گار کردار کئے مگر بعض خاندانی مجبوریوں کی وجہ سے واپس آئے تو واپس نہ جاسکے اور قیام پاکستان کے بعد ریڈیو پاکستان پشاور سے مستقل وابستگی اختیار کی،وہ اکثر یہ قصہ سنایا کرتے تھے کہ ایک بار جب وہ بمبئی سے چند روز کیلئے واپس اپنے گائوں آئے تو ایک روز قصہ خوانی بازار کی سیر کیلئے شہر کا رخ کیا،بازار کے بڑے فٹ پاتھ پر ٹہلتے افغان بلڈنگ کے قریب اچانک کسی نے رش میں انہیں کندھا اتنی زور سے مارا کہ وہ گھوم کر رہ گئے ،انہوں نے سمجھا کہ شاید رش کی وجہ سے کسی نے غلطی سے انہیں ٹکر لگائی ہے،وہ آگے بڑھ کر کابلی تھانے تک جا کر واپس مڑے تو اسی فٹ پاتھ پر ایک بار پھر انہیں ویسی ہی ٹکر پڑی اور ساتھ ہی ایک گرجدار آواز سنائی دی''مچھاں نیویاں کر''یعنی مونچھیں نیچی کرو،خلیل خان نے دیکھاکہ ایک اور مچھل غضبناک نظروں سے انہیں گھورتے ہوئے اپنی مونچھیں نیچی کرنے کو کہہ رہا ہے خلیل خان نے بتایا کہ میں نے اپنی مونچھوں کا رخ جو اوپر کی جانب اٹھا ہوا تھا،نیچے کرتے ہوئے کہا''اے لو جی''ہور کوئی حکم؟''۔وہ شخص بڑا حیران ہوا اور اس کے لہجے میں بھی فرق آگیا،پتہ چلا کہ وہ پشاور کا مشہور بدمعاش''کپو کاں'' (اصل نام نہ جانے کیا تھا) ہے،اور یہ اس کا علاقہ ہے جہاں اس نے ایک اور اونچی مونچھوں والے کو دیکھا کہ شاید یہ بھی کوئی بد معاش ہے جو نیا نیا آیا ہے اور اس کو چیلنج دے رہا ہے،مگر خلیل خان نے جب اسے بتایا کہ وہ تو ایکٹر ہے اور مدت بعد اپنے شہر آیا ہے سیر کرنے کیلئے تو وہ بہت ہنسا اور یوں غلط فہمی دور ہوگئی۔

چراغوں کو غلط فہمی ہوئی ہے

ہوا ساکت نہیں سہمی ہوئی ہے

بات ہورہی تھی ابھی نندن کی مونچھوں کی جو بھارتی فضائیہ کے کسی''کپوںکاں'' نے یہ کہہ کر چھوٹی کروادی ہیں کہ اتنی بڑی مونچھوں کے ساتھ تم کیا کارنامہ کر کے آئے ہو،ایک قیمتی طیارہ بھی قربان کردیا پاک فضائیہ کے شیر جوانوں کے ایک ہی ضرب سے ،پھر پاکستانیوں سے مارکھا کر اپنا منہ بھی لال کروایا اور آنکھ بھی سرخ کروالی،اوپر سے اتنی لمبی چوڑی تین تین میل کی مونچھیں جن کی وجہ سے بھارتی فضائیہ کی ساری دنیا میں بھد اڑ رہی ہے اور بھارتی فضائیہ کی کرکری ہورہی ہے،یعنی بقول شخصے،تو درون درچہ کردی کہ بیرون خانہ آئی، اس لیئے کچھ شرم کرو،چھوٹی کرویہ مونچھیں،تم نے تو ساری بھارتی فضائیہ کی مونچھیں نیچی کروادی ہیں بلکہ پاک فضائیہ کے ہاتھوں ہماری ناک ہی کٹوادی ہے،یہ تو پھر بھی بھارتی فضائیہ نے ابھی نند کے ساتھ بہت رعایت کر ڈالی ہے ،وگرنہ اس کے افسران بالا اسے یہ حکم بھی دے سکتے تھے کہ وہ صرف ایک طرف کی مونچھ صاف کروادے تاکہ دیگر بھارتی پائلٹوں کیلئے نشان عبرت بن سکے ،تاہم اب جو بھی بھارتی پائلٹ پاکستان کی فضائی حدود میں آنے کی غلطی کرے گا تو وہ یا تو پہلے ہی اپنی مونچھیں مکمل طور پر صاف کروائے گا یا پھر جیسے کہ ان دنوں سوشل میڈیا پر ایک لطیفہ بڑا وائرل ہورہا ہے کہ حال ہی میں کچھ پاکستانی پائلٹوں نے بھارتی فضائی حدود میں جاکر ٹارگٹ کو اڑا دیا اور واپس آئے جبکہ بھارتی طیاروں نے ان کا پیچھا کیا لیکن جیسے ہی بھارتی طیارے پاکستانی حدود کے قریب پہنچے تو یوٹرن لیتے ہوئے واپس اپنے اڈے پر اتر گئے،افسر نے پوچھا تم نے پاکستانی طیاروں کا پیچھا کیوں نہیں کیا؟ بھارتی پائلٹوں نے کہا جناب پاکستان نے اپنی فضائی حدود میں جانے کی ہم پر پابندی عائد کر رکھی ہے دراصل بھارتی پائلٹوں کو اپنی فضائی حدود کی حفاظت سے زیادہ اپنی مونچھوں کی فکر دامنگیر ہے اور وہ نہیں چاہتے کہ انہیں اپنی مونچھیں نیچی کرنے یا ان کی شکل تبدیل کر کے کم کرنے کے امتحان سے گزرنا پڑے۔ایسا لگتا ہے کہ ابھی نندن کو پاکستانی چائے راس نہیں آئی اور بھارتی فضائیہ کے افسران نے انہیں دراصل نشان عبرت ہی بنا کر رکھ دیا ہے کہ وہ جب بھی کسی جگہ عوام کا سامنا کریں گے تو انہیں امیتابھ بچن والے ڈائیلاگ کا سامنا کرنا پڑے گا کہ''مونچھیں ہوں تو ابھی نندن والی ورنہ بالکل نہ ہوں''۔

متعلقہ خبریں