Daily Mashriq


لاہور میں پھر دہشت گردی

لاہور میں پھر دہشت گردی

لاہور میں مردم شماری ٹیم پر خود کش حملے کا واقعہ دہشت گردوں کی طرف سے ایک آسان ہدف کو نشانہ بنانا ضرور ہے لیکن ان کا حساس ذمہ داری نبھانے پر مامور فوجیوں اور سول ملازمین کو ہدف بنا کر ان تک رسائی اور حملہ کرنے میں کامیابی سے ان کی منصوبہ بندی اور حملہ کی صلاحیت اور پورے صوبے میں سخت حفاظتی اقدامات کے باوجود حملے کو نہ روکا جاسکنا قابل توجہ امر ضرور ہے۔ ایک ماہ بائیس دن بعد دہشت گردوں نے ایک مرتبہ پھر لاہور شہر ہی کو کیوں چنا اس کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ حکمران جماعت کے مرکز میں دہشت گردی کی وارداتوں سے محفوظ سمجھے جانے والے صوبہ پنجاب کو غیر محفوظ ثابت کرنا اوراپنے حملے کی صلاحیت کا اعادہ ہے جس کے بعد حکومت اور دیگر اداروں کی توجہ پنجاب میں دہشت گردوں کے خفتہ مراکز' ان کے سہولت کاروں کے خلاف بڑی کارروائی ضروری ہوگئی ہے۔ لاہور کے واقعے کے بعد ملٹری اور سول حکام میں غیر معمولی رابطے ہوئے ہیں۔لاہور کے بیدیاں روڈ پر مردم شماری ٹیم پر ہونے والے خودکش دھماکے کے بعد چیف آف جنرل سٹاف لیفٹیننٹ جنرل بلال اکبر نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سول ملٹری تعاون میں اضافے کے لیے وفاقی وزیر داخلہ چوہدی نثار اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے رابطہ کیا۔ذرائع کے مطابق سول اور عسکری قیادت کے درمیان ہونے والی اس ٹیلی فونک گفتگو میں چیف آف جنرل اسٹاف، جو ڈی جی رینجرز کی حیثیت سے کراچی آپریشن کی نگرانی بھی کر چکے ہیں، نے سول قیادت سے دہشت گردی کے اس واقعے کے مختلف پہلوئو ں پر تبادلہ خیال کیا۔لیفٹیننٹ جنرل بلال اکبر نے آپریشن ردالفساد کے تحت ہونے والی کارروائیوں کے نتائج بہتر بنانے کے لیے پاک فوج اور سول قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔ذرائع کے مطابق وزیر داخلہ نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ خفیہ اداروں کی رپورٹ پہلے سے موجود ہونے کے باوجود لاہور میں بیدیاں روڈ پر یہ افسوس ناک واقعہ پیش آیا۔اسی رابطے کی روشنی میں آئی جی پنجاب نے مردم شماری کی ٹیموں کی سیکورٹی پر نظرثانی کی ہدایت دی اور مستقبل میں ایسے کسی ناخوشگوار واقعے کو ناکام بنانے کے لیے اہم مقامات پر سادہ لباس میں ملبوس اہلکاروں کی تعیناتی پر غور کیا۔اس سرسری معروضی جائزے سے قطع نظر اس امر کا عدم اعتراف کسی طور بھی حقیقت پسندانہ امر نہ ہوگا کہ اس طرح کے دہشت گردانہ حملوں کی ممکن روک تھام اور شافی علاج ممکن ہے۔ ایسا ہر گز نہیں بلکہ دہشت گردانہ حملوں میں نمایاں کمی تو ممکن ہے جس میں ہمیں پوری طرح کامیابی ملی ہے لیکن اکا دکا حملوں کے واقعات کی بھی مکمل روک تھام میں کئی سال لگیں گے۔ بہر حال اس طرح کے حملوں کی مکمل روک تھام کیوں ممکن نہیںیہ ایک الگ سوال ہے مختصراً یہ کہ ملک بھر میں صرف وہ دہشت گرد عناصر جن کو ہم عرف عام میں دہشت گرد گردانتے اور سمجھتے ہیں صرف انہی کا نیٹ ورک کام نہیں کر رہا ہے ان کے مراکز کو تہ و بالا کرنے کے بعد ان کی صلاحیت و منصوبہ بندی بارے تیقن سے یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ ان کی کوئی صلاحیت باقی بھی رہ گئی ہے یا نہیں۔ البتہ غیر ملکی ایجنٹوں اور ان کی منصوبہ بندی سے اس طرح کے حملوں کے امکانات سے صرف نظر کی گنجائش نہیں۔ معروضی حالات کے تناظر میں اس قسم کے حساس نوعیت کے منصوبہ بند حملوں سے غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں اور ان کے سہولت کاروں ہی کی بو آتی ہے۔ دوسری جانب دہشت گرد اور غارت گرد دہشت گرد و غارت گر ہی ہوتے ہیں ان کی تفریق و امتیاز صرف صورتحال کو سمجھنے کی حد تک ہی ہونی چاہئے۔ ان عناصر کا مقصد ایک ہی ہے کہ کسی طرح سے پاکستان کو غیر مستحکم کیا جاسکے۔ دہشت پھیلاکر عوام کو عدم تشدد کاشکار اور سرمایہ کاروں کو خوف و ہراس میں مبتلا کیا جاسکے۔دہشت گردی کے ہر چھوٹے بڑے واقعے کے بعد اس کی روک تھام کے ذمہ دار اداروں اور پولیس کے فول پروف انتظامات کی ناکامی پر سوال اٹھنا فطری امر ہے۔ دہشت گردی کے خلاف آپریشنل معاملات پر ایشوز ہیں جن کا سیاسی و عسکری قیادت کو مل بیٹھ کر حل نکالنا ہوگا۔ بلا شبہ پاکستان کی انٹیلی جنس پہلے کے مقابلے میں بہتر ہوچکی ہے لیکن اب بھی آپریشنز کے لئے سول و ملٹری تعاون و مشاورت کے بعد کارروائی کی ضرورت باقی ہے۔ کوئی تو ایسی خامی باقی رہ جاتی ہے جو دہشت گرد عناصر کے ریکی کرنے والے عناصر کو نظر آتی ہے جس کی اطلاع منصوبہ سازوں کو ملتی ہوگی اور وہ حملے کے امکانات کا جائزہ لے کر مذموم حملے کی منصوبہ بندی کرتے ہوں گے۔ اس سارے عمل اور نظام میں کہیں نہ کہیں گراری کا ایک دندانہ ٹوٹا ہوگا۔ اگر ایسا نہیں تو کم از کم متعلقہ مشینری پوری طرح سے فعالیت کے زمرے میں نہیں آتی ہوگی۔ہر بار ایک طرح کے مذمتی بیانات اور دہشت گردوں کو کچل دینے کے عزائم سامنے آتے ہیں لیکن ایسا مکمل طور پر ممکن نہیں ہو پاتا اس کی وجوہات کاجائزہ لے کر لا ئحہ عمل اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں