پاک افغان اعتماد سازی کے تقاضے

پاک افغان اعتماد سازی کے تقاضے

افغانستان کے سفیر اور مشیر قومی سلامتی لیفٹیننٹ جنرل (ر) ناصر جنجوعہ میں ملاقات میں دونوں ملکوں کے درمیان بد اعتمادی کی فضا ختم کرنے پر اتفاق' وزیر اعظم کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز کا افغان سرحد کے متنازعہ حصوں پر باڑ لگانے سے انکار اور افغان طالبان کی امدادی اداروں کو اپنے یعنی طالبان کے زیر کنٹرول علاقوں میں کام کرانے کی دعوت سے افغانستان میں امن کی امید برآنے کی توقعات وابستہ کرنا غلط نہ ہوگا۔ امر واقع یہ ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بد اعتمادی اور عدم اعتماد کی فضا ہی بنیادی مسائل کا باعث ہے۔ د ونوں ملکوں کو ایک دوسرے سے اپنے معاملات میں دخل در معقولات کی شکایات رہتی ہیں۔ سرحد کے دونوں پار دہشت گردی کے کسی بڑے واقعے کا الزام بلا سوچے سمجھے ایک دوسرے پر لگا دیا جاتا ہے۔ سرحد کی بندش کے حالات پیدا ہو جاتے ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ افغانستان کے بھارت کے ہاتھوں کھیلنے کے باعث رہی سہی کسر پوری ہو جاتی ہے۔ اس امر کو تسلیم کیاجانا چاہئے کہ عدم اعتماد کے معاملات کی ذمہ داری طرفین پر عائد ہوتی ہے لیکن افغانستان کا بھارت کو پاکستان پر ترجیح اور پاکستانی مفادات کا خیال رکھنے کی بجائے را کو کھل کھیلنے کا موقع دینا نا قابل برداشت امر ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ افغان حکام کو اب اس امر کو سمجھ لینا چاہئے کہ بھارت کے ساتھ دونوں ممالک کے اچھے تعلقات کی حد تک ضرور تعلق رکھیں لیکن یہ پاکستان کی مخالفت کی قیمت پر نہ ہو بلکہ پاکستان کو اس کی اہمیت کے حساب سے فوقیت دی جائے اور خاص طور پر را کی سرگرمیوں کے حوالے سے پاکستان کے تحفظات دور کئے جائیں۔ پاکستانی حکومت کو بھی اپنے رویے اور اقدامات میں افغانستان کے مفادات کا خیال رکھنے میں تامل کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے۔ افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحدی تنازعہ یکطرفہ طور پر نہیں بلکہ دو طرفہ مذاکرات اور مفاہمت کی فضا میں طے کرنے کی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں تاریخ اور دستاویزات کا احترام کیاجائے تو دونوں ملکوں کے درمیان تنازعے کی شدت میں کمی آسکتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ افغان طالبان کی جانب سے اپنے زیر اثر علاقوں میں فلاحی و ترقیاتی کام کرنے کی دعوت کا واضح مقصد قومی دھارے میں واپسی بین الاقوامی طور پر خود کو منوانے اور جمہوری تعلقات کے قیام کا واضح عندیہ ہے جس کا افغان حکومت اور اقوام عالم کو خیر مقدم کرنے کی ضرورت ہے اور یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر افغانستان میں طالبان اور حکومت کے درمیان معاملات طے پا سکتے ہیں۔ اس ضمن میں افغانستان کی حکومت دیگر ممالک کے ساتھ ساتھ پاکستان کی خصوصی مدد اور تعاون حاصل کرکے طالبان کو اعتماد دلا سکتی ہے جبکہ چین کی بطور ضامن اور ثالث امریکہ اور روس کو بھی مناسب جگہ دی جائے تو افغانستان میں قیام امن کی راہ تیزی سے ہموار ہوسکے گی۔ توقع کی جانی چاہئے کہ محولہ پیشرفت کے تناظر میں خطے کے حالات میں تبدیلی نظر آئے گی اور اعتماد کی فضا میں مسائل و معاملات نمٹانے کی راہ ہموار ہوگی۔
شادی ہالوں کی بھرمار سے مسائل
پشاور میں گلی گلی کھلنے والے شادی ہالوں کی بھر مار کے باعث شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہونا فطری امر ہے۔ ان شادی ہالوں میں رات گئے تک گانوں کی آوازیں آنے اور شور و غل کے باعث قرب و جوار کے رہائشی مکینوں کی پریشانی اچنبھے کی بات نہیں جس کے باعث طالب علموں کو پڑھائی پر دھیان دینے میں دشواری ہوتی ہے۔ مریض آرام نہیں کر پاتے۔ شادی میں شرکت کرنے والے حضرات اپنی گاڑیاں سڑک پر اس طرح کھڑی کرتے ہیں کہ گزرنے کا راستہ نہیں رہتا اور اس سے اطراف کی سڑکوں پر ٹریفک کی روانی متاثر ہوتی ہے۔ ٹریفک ہیڈ کوارٹر کے مد مقابل شادی ہالوں کے سامنے گاڑیوں کو مین جی ٹی روڈ کی فٹ پاتھ پر چڑھا کر کھڑا کرنے سے ٹریفک وارڈنز کی چشم پوشی ناقابل یقین اور قابل مذمت ہے جس کا ڈی آئی جی ٹریفک کو فوری نوٹس لینے کی ضرورت ہے۔بہتر ہوتا کہ شادی ہال رہائشی علاقوں میں ہونے کے بجائے کمرشل علاقوں میں قائم کئے جاتے۔جہاں پارکنگ کی باقاعدہ سہولت ہوتی اور شادی ہالوں کے قیام کی اجازت ہی پارکنگ ایریا دیکھ کر دی جاتی مگر یہاں بلا سوچے سمجھے اورکسی اجازت نامے کے بغیر جگہ جگہ شادی ہال قائم کردئیے گئے ہیں جس کی وجہ سے شہر کا حلیہ ہی بگڑ چکا ہے۔حکومت کو چاہئے کہ ایسی پالیسی اور قوانین بنائے کہ شادی ہالز عوام کے لئے سہولت کا باعث بن جائیں زحمت اور تکلیف کا باعث نہ ہوں۔ شادی ہالز کے کھلنے اور بند ہونے کے اوقات مقرر کئے جائیں اور مقررہ وقت پر پروگرام ختم کرنے کی پابندی کرائی جائے۔توقع کی جانی چاہئے کہ گلی گلی ' محلہ محلہ کھلنے بلا اجازت کھلنے والے شادی ہالوں کے خلاف کارروائی کرکے عوام کو مشکلات سے نجات دلائی جائے گی اور رہائشی علاقوں کا تشخص بحال کیا جائے گا۔ٹریفک وارڈنز کو پابند بنایا جائے گا کہ وہ غیر قانونی شادی ہالوں کے ارد گرد کی سڑکوں کو پارکنگ بنانے کی کسی طور اجازت نہ دے۔

اداریہ