دہشت گردی کے خلاف جنگ اور عوام

دہشت گردی کے خلاف جنگ اور عوام

ایک اور خود کش بم دھماکہ۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اچانک جان سے گزر جانے والے ساٹھ ہزار شہیدوں میں مزید سات شہیدوں کا اضافہ ہو گیا۔ یہ زندہ جیتے جاگتے انسان تھے۔ محبتوں اور رشتوں کے محور ' شفقتوں اور دوستیوں کے مرکز۔ ان کے شہید ہو جانے سے کتنے رشتے ٹوٹے' کتنے دل اندوہ و یاس میں ڈوبے' کتنے بیویاں بچے بے آسرا ہوئے۔ یہ دھماکہ کے بعد علاقے کو سیکورٹی پر مامور اہل کاروں نے گھیرے میں لے لیا۔ شواہدا کٹھے کیے' انسانی اعضاء کی باقیات کو ٹیسٹ کے لیے لیبارٹری میں بھجوایا گیا۔ مشتبہ لوگوں کی ایک تعداد کو حراست میں لے لیا گیا۔ پھر ریاست ' حکومت' سیاست کے اکابرین اور نامور لوگوں کے مذمتی بیانات' شہیدوں کے ورثاء کے لیے زرِاشک شوئی کے اعلانات۔ کیا ہم جو ابھی تک دہشت گردی کا شکار نہیں ہوئے محض اعداد و شمار سننے کے لیے رہ گئے ہیں۔ کیا یہ سب ساری زندگی کا معمول بن گیا ہے۔ کئی سال سے یہی کچھ ہو رہا ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ آپریشن ضرب عضب کے بعد ایسے واقعات کے تواتر میں کمی آئی ہے۔اور آپریشن کے بعد کچھ عرصے تک خاموشی بھی تو رہی تھی۔ اس کے بعد دوبارہ سلسلہ شروع ہوا ہے۔ یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ ایسے واقعات کے تواتر میں کمی کے بعد اس میں اضافہ نہیں ہو گا۔ 

آخر کہیں کوئی کمی ہے تبھی تو یہ سلسلہ جاری ہے۔ ایسا نہیں کہ اس پہلو پر غور نہیں کیا گیا۔ ہمارے اکابرین نے اس پر غور کیا اور ایک بیس نکاتی منصوبہ عمل تشکیل دیا اور کہا کہ اس پر عمل کرنے سے دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہے۔ یہ نیشنل ایکشن پلان ان کاموں کی فہرست ہے جو ہمارے اپنے کرنے کے کام ہیں۔ اس کے بعد دشمن کیا کرتا ہے وہ بعد کی بات ہے۔ لیکن ہم نے اپنے ذمے جو کام لیے تھے وہی نہیں کیے۔
دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں عام لوگ مارے جا رہے ہیں۔ چاہے وہ سرکاری اہل کار ہوں یا سڑکوں پر دھماکے کے وقت موجود شہری۔ لیکن حکومت اور سیکورٹی پر مامور لوگوں کی طرف سے یہی تاثر ملتا ہے کہ حکومت مستعد ہے ۔ سیکورٹی پر مامور ادارے مجرموں کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں۔ قائدین کہتے ہیں کہ ہم دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔ عام آدمی کو یہی تاثر ملتا ہے کہ حکومت اور ادارے پوری طرح متوجہ ہیں اور جلد یا پھر بدیر دہشت گردی کا خاتمہ ہو جائے گا۔ عوام مطمئن رہیں ۔ان کے کرنے کا کوئی کام نہیں۔ یہ جنگ ملک کے گلی محلوں میں لڑی جا رہی ہے۔ عام آدمی اس میں قتل ہو رہے ہیں۔ اس جنگ میں عوام کا کوئی کردار ہونا چاہیے کیونکہ یہ جنگ ان کی جنگ ہے' دشمن ان کے ملک کو کمزور کرنے پر آمادہ ہے۔ دشمن کے کارندے ان کے گلی محلوں میں چلتے پھرتے ہیں ۔ عوام اگر نگران ہوں تو کیا دشمن کے کارندے ان کی نظر سے بچ سکتے ہیں؟ دشمن بھی اس بات سے واقف ہو چکا ہے ۔ پہلے بم دھماکے بھرے بازاروں میں کیے جاتے تھے تاکہ لوگوں میں خوف و ہراس پھیلے پھر جب عام لوگوں میں نگرانی کے لیے منظم ہونے کے رجحانات نظر آئے تودشمن نے فوجیوں کے کارروانوں اور سیکورٹی کے ذمہ دار اداروں پر حملے کرنا شروع کر دیے تاکہ یہ تاثر دیا جائے کہ یہ جنگ ملک کے سیکورٹی پر مامور اداروں کے خلاف ہے۔ دشمن کی اس چال کو اسی پرالٹا جا سکتا ہے اگر جہاں سیکورٹی اہل کار مامور ہوں اس علاقے کے لوگوں اور خفیہ کار اداروں کے اہل کار اجنبیوں اور مشتبہ نظر آنے والے لوگوں پر خصوصی توجہ دینے لگ جائیں۔ یہ مقصود نہیں کہ سیکورٹی اہلکاروں کی سیکورٹی پر مزید اہل کارمامور کیے جائیں یہ سلسلہ تو کبھی ختم نہیں ہوگا۔
وہ جو بیس نکاتی ایکشن پلان ہے اسے پارلیمنٹ کی متفقہ منظوری تو حاصل ہے لیکن اس میں ایسی کوئی شق شامل نہیں کہ اس پر عمل درآمد نہ کرنے کے ذمہ داروں کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔ (جنگ میں دفاعی فرائض انجام نہ دینے والوں کی کیا سزا ہوتی ہے)اور عمل درآمد کے مراحل کی رپورٹ کہاں مرتب ہو گی۔ کون اس عمل درآمد کی نگرانی کرے گا۔ اس کی ایک شق یہ ہے کہ عام عدالتی نظام کو بہتر بنایا جائے گا تاکہ مجرم موجودہ عدالتی نظام کی گنجائشوں سے فائدہ نہ اُٹھا سکیں یعنی پولیس کی نگرانی' تفتیش' مقدمات کی پیروی اور عدالتی کارروائی کے حوالے سے اصلاحات کی جائیں گی۔ ایسی کوئی سرگرمی نظر نہیں آئی۔ ایک نکتہ دہشت گردوں کے مالی وسائل بند کرنے سے متعلق ہے۔ دہشت گردی چندے سے نہیں چلتی۔ بلیک میلنگ اور کرپشن کے پیسے اور ممالک غیر کے دشمنوں کی فنڈنگ سے چلتی ہے۔ کرپشن کے خلاف ' بڑے جرائم کے خلاف اور غیر ملکی فنڈنگ روکنے کے لیے کوئی قابل ِ ذکر فعالیت نظر نہیں آئی۔ نفرت انگیز تقریروں اور مواد کی اشاعت کے حوالے سے کہیں کہیں اقدامات نظرآتے ہیں لیکن یہ علاقہ سوئچ آن اور سوئچ آف کا علاقہ نہیں ۔ نفرت انگیز تقریر اور مواد ایک سوچ پیدا کرتے ہیں۔ یہ سوچ اس مواد اور تقریر پرپابندی کے باوجود جاری رہتی ہے۔ اس کے مقابلے میں محبت اور رواداری پیدا کرنے والی سوچ کہاں سے آئے گی ۔ یہ بھی سوئچ آن اور سوئچ آف کا علاقہ نہیں۔ یہ سوچ شرفِ انسانیت ' باہمی احترام ' عدل ' دیانت اور امانت کے پاسدار معاشرے میں پیدا ہوتی ہے۔ اس کے لیے ہم کیا کر رہے ہیں۔ سالہا سال تک محبت ' رواداری کی سوچ مربوط معاشروں میں ہوتی ہے۔دہشت گردی کے خلاف عوام اور حکومت فعال تعاون ضروری ہے۔ رائے عامہ کے قائدین یونین کونسل سے لے کر ارکان اسمبلی تک عوام کو دہشت گردی کے خلاف منظم کر سکتے ہیں۔ کیوں کہ عوام جانتے ہیں کہ ان کے درمیان کون اجنبی ہے۔ کس کی سوچ کس طرف راغب ہو رہی ہے۔ کس کا ذریعہ آمدنی کیا ہے۔ کس کے پاس کہاں سے مہمان آتے ہیں۔ اپنے قائدین پر اعتماد کے ذریعے وہ سیکورٹی پر مامور اداروں کو قیمتی معلومات فراہم کر سکتے ہیں۔ لیکن پھر عوام کے نمائندوں کو نمائندگی کا حق بھی ادا کرنا ہوگا۔ اپنے افعال و کردار میں عوام کے اعتماد پر پورا اترنا ہوگا۔

اداریہ