گر تو برانہ مانے

گر تو برانہ مانے

چہ پہ خوئی ساری' د ھغوئی یاری وی' پشتو کی ایک مثل ہے آسان الفاظ میں جس کا ترجمہ یہی کیا جاسکتا ہے کہ عادتیں ایک جیسی ہوں تو یہی دوستی کی بنیاد بنتی ہے۔ اس عاجز نے جلد موج میں آنے والی عادت پائی ہے۔ کسی کے ساتھ پہلی ہی ملاقات میں اپنا دل کھول کر ان کے سامنے رکھ دیتے ہیں۔ ہماری اس من موجی طبیعت کا بعد میں خمیازہ بھی بھگتنا پڑتا ہے اور ہمارے مزاج کا یہ پہلو ہمارے لئے دشواریوں کا باعث بن جاتا ہے بلکہ بعض اوقات تو ہمیں منہ کی بھی کھانا پڑتی ہے۔ لیکن وہ جو فراز صاحب نے کہا کہ ''دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا''۔اب ہر کوئی ہماری طرح من موجی تو نہیں ہوتا' لوگ تعلق میں بھی ایک تکلف برقرار رکھتے ہیں' کھل کر سامنے نہیں آتے' دل کی بات نہیں کہتے اور دوستی میں بھی پٹ پٹونڑے کرتے رہتے ہیں۔ 

ایسے لوگوں کے ساتھ یا تو تعلق یک لخت ختم ہو جاتا ہے اور یا پھر سرد مہری کی ایک فضاء قائم ہو جاتی ہے۔ ایک عادت ہماری یہ بھی ہے کہ دوستی کاہاتھ بڑھانے میں ہم پہل نہیں کرتے دوسری جانب سے جب ہاتھ بڑھایا جاتا ہے تو پھر ہم اسے تھامنے میں دیر نہیں کرتے۔ ہماری پھر کوشش ہوتی ہے کہ یہ سلسلہ جاری رہے۔ مگر ہمارے باب میں ایسا نہیں ہوتا' دوستی میں ایک دوسرے سے توقعات رکھنا بھی ایک فطری امر ہے۔ ہمارے ایک سابقہ دوست نے ہمیں ایک بار مشورہ دیا تھا کہ توقعات کے دامن کو ہمیشہ سمیٹ کر رکھو کیونکہ دوست سے کوئی توقع پوری نہ ہونے پر بڑی ذہنی اذیت کا سامنا ہوتا ہے۔ ہم نے ان کے اس بے بہا مشورے پر اس وقت تو کچھ زیادہ توجہ نہیں دی تھی لیکن جب ان سے دوستی کا رشتہ اچانک ختم ہوگیا تب ہمیں پتہ لگا کہ یہ سب کچھ انہوں نے پیش بندی کے طور پر کہا تھا۔ بعض دفعہ تو یہ توقع نہایت ہی معمولی نوعیت کی ہوتی ہے لیکن دوسری جانب سے غیر متوقع طور پر رد کردی جاتی ہے اور قصہ خلاص کہانی ختم۔ اختلاف رائے کی اہمیت سے ہم انکار نہیں کرتے لیکن دوست ایک صحت مند مکالمے کے ذریعے بھی اس کا حل تلاش کرسکتے ہیں۔ اب یہ ہر گز ضروری نہیں کہ میری ہر تحریر اور میرے منہ سے نکلا ہوا لفظ مزاج یاران کے عین مطابق ہو۔ دشواری مگر اس وقت پیدا ہوتی ہے کہ دوست قاری میری ہر تحریر کو اپنے ترازو میں تولنا شروع کردے۔ اگر آپ کی کوئی تحریر ان کے مزاج کے خلاف ہو یا پھر انہوں نے اپنے ذہن میں جو معیار مقرر کر رکھا ہو اس کے برعکس نکلے تو د وسرے لمحے ہی آپ پر تبرا کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور بعض لوگ تو آپ کو منافق کہنے میں بھی دیر نہیں لگاتے۔ اس ضمن میں ہمارے پاس بے شمار مثالیں ہیں۔ صرف ایک واقعہ بیان کرنے کی اجازت دیجئے۔ ہمارے ایک بزرگ دوست تھے ان کے ساتھ باہمی احترام کا ایک تعلق قائم تھا۔ ہم اپنی ہر تحریر پہلے ان کی خدمت میں روانہ کرتے۔ ان کی جانب سے مختصر الفاظ میں ایک تبصرہ ضرور ملتا۔ ان کی حوصلہ افزائی سے ہمیں بڑی خوشی ہوتی۔ عالم فاضل شخصیت ہیں ان کے برقی مراسلوں سے ہمیں اپنی تحریروں کے لئے بہت کچھ معلومات حاصل بھی ہوتیں۔ ہم نے اپنے ایک کالم میں افغان مہاجرین کے مسئلے کا ذکر کیا۔ اتفاق سے اسی موضوع پر کسی دوسرے اخبار میں بھی ایک کالم چھپا تھا۔ انہوں نے وہ کالم ہمیں بھیجا اور ساتھ یہ بھی لکھا کہ لگتا ہے کہ آپ صحافی اس مسئلے کو ایک خاص تحریک کے تحت اچھالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم نے ان کی خدمت میں عرض کیا کہ یہ عاجز عامل صحافی نہیں صحافت کو پیشے کے طور پر اختیار نہیں کیا جو دل پر گزرتی ہے اسے قلمبند کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ میں نے اپنی تحریروں کے لئے کبھی کسی ہدایت نامے کی بھی ضرورت محسوس نہیں کی چنانچہ متذکرہ کالم میری اپنی ضمیر کی آواز ہے۔
چاہئے تو یہ تھا کہ ہمارے بزرگ قاری کو اگر ہماری رائے سے اختلاف تھا تو وہ تفصیل سے اس کا ذکر فرماتے اور پھر ان کی گرانقدر رائے' ہم اپنے کالم میں پیش کرنے کے اخلاقی طور پر پابند تھے۔ لیکن انہوں نے اس کے بعد ہم سے مراسلاتی رابطہ یکلخت منقطع کردیا اور ہمارے رابطے کے باوجود مکمل طور پر خاموشی اختیار کرلی۔ حالانکہ ہمارے دل میں آج بھی ان کے لئے بے حد احترام موجود ہے۔ بہر حال ہمیں ان کے اس یکطرفہ بائیکاٹ پر افسوس رہے گا۔ اسی طرح گزشتہ ہفتہ ہم نے ذکر ایک الوداعی تقریب کے عنوان سے ایک کالم لکھا جس میں مردان یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی سبکدوشی پر یونیورسٹی کے لئے ان کی خدمات کا ذکر کیا اور ساتھ یہ بھی لکھا کہ ہمیں ان کے بعض انتظامی فیصلوں سے شدید اختلاف رہا ہے اور ان کے اپنے کالموں میں ذکر پر ہمیں قانونی نوٹسز کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ ہمارے کالم کے رد عمل کے طور پر ایک گمنام مراسلہ نگار نے نہ صرف ہمیں برا بھلا کہا بلکہ ہمیں منافق کے خطاب سے بھی نوازا اور کہا کہ ہم آئندہ کے لئے آپ کی تحریروں سے مکمل بائیکاٹ کرتے ہیں۔ ہمارے کچھ دوسرے قارئین کو بھی متذکرہ کالم میں ہماری رائے سے اختلاف تھا جس کا انہیں مکمل حق حاصل تھا۔ لیکن انہوں نے بھی تحریری طور پر اپنا اختلاف رائے ظاہر نہیں کیا تاکہ ہم انہیں کالم میں شائع کرتے۔ ہم اب بھی یہی عرض کرتے ہیں کہ ہم عامل صحافی نہیں ہماری آراء سے تمام قارئین کا متفق ہونا بھی ضروری نہیں۔ بائیکاٹ مسئلے کا حل نہیں مہذب لوگ صحت مند مکالموں کے ذریعے اختلاف رائے کا حل تلاش کرتے ہیں۔

اداریہ