افغانستان سے کشمیر تک

افغانستان سے کشمیر تک

جمعہ خان صوفی اپنی کتاب فریب ناتمام کے دیبا چے میں لکھتے ہیں کہ '' اس خطے میں کشمیر اور ڈیورنڈلائن دو سرطانی پھوڑے ہیں جن کا علاج از حد ضروری ہے ۔ جو امن ، اچھی ہمسائیگی اور باہمی اعتماد کی راہ میں رکاوٹ ہیں ۔ افغانستان اور پاکستان کے بیچ میں جو عدم اعتماد ہے اس کا سرچشمہ ڈیورنڈ لائن ہے ۔ دنیا کے ممالک حتیٰ کہ پڑوس تب آشتی اور امن سے رہ سکتے ہیں جب وہ ایک دوسرے کی قومی خو مختاری اور علاقائی سا لمیت کا احترام کریں ۔ یہ اس اہم مسئلہ کی جانب شاید ایک بہت لطیف اشارہ ہے ۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا ڈیورنڈ لائن یا کشمیر کا مسئلہ واقعی مسئلے ہیں یا کسی کی ایماء پر ان علاقوں کے لوگوں کی جانوں اور نفسیات سے کھیلتے ہوئے انہیں مسئلہ بنایا جا رہا ہے ۔ ان معاملات کی تاریخی کیفیت سے تو ہم بخوبی آگاہ ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان مسائل کا تعلق صرف تاریخی بنیاد سے ہی ہے ۔ یہ در اصل تاریخ کے وہ جبر ہیں جنہوں نے دلوں میں کھٹک پیدا کر رکھی ہے ۔ شاید ایسا نہیں ہے ۔ تاریخ میں موجود حقیقتیں محض اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ ان علاقوں کی بہت اہمیت رہی ہے ۔ کشمیر میں افغان مسلمانوں کی حکومت ختم کرنا پنجاب کے سکھ مہا راجوں کی خواہش بھی تھی اور انگریزوں کی بھی ۔ تبھی تو مہارا جہ رنجیت سنگھ نے کشمیر پر حملہ کر تے ہوئے انگریز سے اجازت طلب کی ۔ پھر کشمیر کے پنڈتوں کی مدد سے کشمیر پر قابض ہوا کشمیر ی افغان حاکموں سے بھی کچھ ایسے خوش نہ تھے کیونکہ مسلمان حاکم ہوتے ہوئے بھی وادی کے مسلمانوں کو کوئی خصوصی درجہ حاصل نہ تھا ۔ سکھ راج کے دوران تو کشمیر کو بہت لوٹا گیا ۔ مہاراجہ گلاب سنگھ نے 1846میں اس وادی کو 75لاکھ روپے میں انگریز سے خریدا ۔ اس مہاراجہ کے بعد اس کا بیٹا رنبیر سنگھ وادیٔ جموں وکشمیر کے تخت پر براجمان ہوا ۔ اسکے دور میں گلگت ، ہنزہ اور نگر کو کشمیر کا حصہ بنالیا گیا ۔ اب بھارت کے کشمیر کے دعوئوں میں جب ان علاقوں کا ذکر آتا ہے تو اسکی تاریخی بنیاد دراصل یہ ہے لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ تاریخ میں بھی اس دور کے پہلے یا اسکے بعد یہ علاقے کبھی کشمیر کا حصہ نہیں رہے ۔ یہاں ایک بہت اہم حقیقت سمجھ لینا ضروری ہے ۔ جو علاقے کشمیر کی ریاستی حکومت کا حصہ رہے ان میں بہت تفاوت تھا ۔ مختلف علاقے مختلف قومیتوںکے اکثریتی علاقے تھے ۔ ان کا اکٹھا رہنا یوں بھی ممکن تھا ۔ لداخ میں بنیادی طور پر تبتی لوگ رہتے تھے ۔ جموں میں ہندو مسلم اور سکھ تینوں ہی موجود تھے ۔ کشمیر میں سُنی مسلمانوں کی اکثریت توتھی لیکن یہاں ہندو پنڈتوں کی اقلیت موجود تھی اور وہ اپنی دولت کے باعث حکومت میں اثر و رسوخ رکھتے تھے ۔ بلتستان میں شیعہ آبادی تھی جبکہ یہی حال ، گلگت اور پونچھ کا بھی تھا ۔ اس وقت انگریز وں کی پالیسیوں کی بنیادانکی اپنی حکومت کو مضبوط کرنے پر تھی ۔ تبھی تو افغانستان اور کشمیر دونوں ہی میں ایسے فیصلے کیے گئے جن سے یہ بات بالکل واضح طور پر عیاں تھی ۔ پنجاب یونیورسٹی کے ایک ماہر کشمیر یات ، ڈاکٹر خواجہ زاہد عزیز کا لکھا ہوا ایک آرٹیکل میں پڑھ رہی تھی ۔ اس میں انہوں نے اس جانب اشارہ بھی کیا ہے ۔ وہ لکھتے ہیں ۔ ''شاہ شجاع کی کابل میں بحالی اور رنجیت سنگھ کاکشمیر پر قبضہ ، انگریز کی بنیادی پالیسی کا نتیجہ تھے ۔ دونوں کا ہی مقصد یہ تھا کہ افغان کشمیر کی مسلمان حکومت کی مدد نہ کر سکیں ۔ یہ ساری باتیں اپنی جگہ اور ان کی تاریخی اہمیت سے بھی انکار ممکن نہیں لیکن جب یہ بات ثابت ہو گئی تو یہ سمجھنا بھی آسان ہو جاتا ہے کہ آج کے کشمیر اور افغانستان میں کیا مماثلتیں ہیں ۔ کل یہ دونوں ہی علاقے ایک بیرونی طاقت اور اس علاقے کے حکمرانوں کے مقاصد کے لیے استعمال کیے گئے اورآج بھی انہیں اس سب کے لیے استعمال کیا جارہا ہے ۔ بھارت کے عزائم سے کون واقف نہیں ۔ اس علاقے میں آنے والے وقت کی تیسری جنگ عظیم شروع ہو چکی ہے ۔ اب دنیا کبھی بھی اس جنگ کی جانب نہ جائے گی جو پھیل کر کئی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے ، انسان بہت کچھ اپنی ہی غلطیوں سے سیکھ چکا ہے ۔ یہ دنیا کی حکومت کی جنگ ہے جو ان علاقوں میں مسلسل لڑی جارہی ہے ۔ امریکہ دنیا کی واحد سپر پاور کے طور پر رہنا چاہتا ہے اور بھارت علاقے کی چودھراہٹ میں دلچسپی رکھتا ہے ۔ اس خطے میں روس ،چین اور ترکی ، تین بڑی طاقتیں موجود ہیں ۔ جو مل کر امریکہ کو گرانے کی طاقت بن سکتی ہیں ۔امریکہ کے ساتھ اس وقت اپنے اتحاد سے اپنے مقاصد کی جانب گامزن ہے ۔ افغانستان میں بھارتی مفادات کو امریکہ نے پیدا ہو جانے دیا ہے ۔ اس پیدائش اور بڑھوتری نے اب دیو قامت جسامت اختیار کر لی ہے ۔ بھارت کی معیشت کا اس وقت کا حجم قریباً 1.8ٹریلین ڈالر ہے ۔ افغانستان میں لیتھیم، پٹرول ، گیس اور نادر پتھروں کے بے شمار ذخائر موجو د ہیں ۔ یہ بات بھی سمجھ لینی ضروری ہے ۔ اس وقت بھارت نے صرف افغانستان میں جو امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں ان کی مالیت تین ٹریلین ڈالر کے درمیان ہو سکتی ہے یعنی بھارت اپنی ہی جتنی ایک اور معیشت کی امید لگائے بیٹھا ہے ۔ بات صرف اتنی ہی نہیں بھارت چین کی برابری کا بھی خواہشمند ہے ۔ اور انہی مقاصد کے لیے وہ ایران سے بھی اچھے تعلقات استوار کیے ہوئے ہے ۔تاجکستان میں بھارت کی ایک ائیر بیس موجود ہے ۔ مزید ایرانی علاقے چابہار اور افغانستان کے علاقے حاجی گاک کے درمیان بھارت نے ایک ریلوے بچھا نے کا بھی منصوبہ بنا رکھا ہے ۔ بھارت چین کے مقابلے میں اپنی طاقت مجتمع کر رہا ہے ۔ چین نے ریل کے راستے پوری دنیا کو آپس میں جوڑنے کا عزم کر رکھا ہے ۔ امریکہ اسی بات سے خوفزدہ ہے اور بھارت اس راہ پر گامزن ہے ۔ یہ بڑی پیچیدہ کہانی ہے ۔ اس حوالے سے کچھ باتیں اگلے کالم میں ہونگی ۔

اداریہ