Daily Mashriq


مسلم لیگ ن ،پی پی پی اور عمران خان

مسلم لیگ ن ،پی پی پی اور عمران خان

حسین حقانی ہمیشہ سے ہی متنازع شخصیت رہے ہیں۔ اپنے زمانہ طالب علمی سے سفیر بننے تک انہوںنے بہت سی سیاسی و نظریاتی قلابازیاں کھائی ہیں۔ابتدا میں جماعت کے ساتھ پائے گئے پھر میاں نواز شریف کے ساتھ اس کے بعد غالباً غلام اسحاق خان اور پھر موصوف پیپلزپارٹی کے ساتھ اور اب سب سے علیحدہ ہوکر امریکی سامراج سے ہاتھ جا ملایا ہے تاکہ اپنے مستقبل کو بہتر سے بہترین کیا جاسکے۔ چاہے اس کی وجہ سے پاکستان کے مفادات اور سا لمیت کو ہی نقصان کیوں نہ پہنچے ۔ اس متنازعہ شخص کا حالیہ انکشاف اس قدر خطرناک ہے کہ پہلے پہل تو مجھے لگا کہ شاید اب ملکی سیاست میں ایک بھونچال ضرور پیدا ہوگا اداروں میں اس شخص کے ساتھ پیپلزپارٹی کے رہنمائوں سے بھی پوچھ گچھ ہوگی مگر ہم نے دیکھا کہ ایسا کچھ بھی نہ ہوا،اس معاملے میں بھی بات آئی گئی ہوگئی اور موجودہ اور سابقہ حکمرانوں نے گٹھ جوڑ کرلیا کیونکہ پانامہ لیکس کی لٹکتی تلوار اورنزدیک آتے انتخابات نے تمام کرپٹ سیاستدانوں کو مل بیٹھ جانے کا اشارہ دیا ۔ان لوگوں کا آپس میں مل بیٹھنا کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے۔ ظاہر ہے پیپلزپارٹی کی سندھ میں جو کارکردگی ہے وہ اندھے کو بھی دکھائی دے رہاہے اور پھر نواز لیگ کی گڈ گورننس تو ہی ناکامی کی داستان ،اب ظاہر ہے یہ دونوں جماعتیں پہلے ماضی میں بھی ایک دوسرے کا سہارا لیکر حکومتیں بناتی چلی آئی ہیں اور وہ بھی باری باری ! لیکن اس بار جو ان لوگوں کا مل بیٹھنا اور ایکا ہوا ہے وہ صرف تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو سائیڈ لائن کرنے کے لیے کیونکہ وہ یقیناً ان کرپٹ لوگوں کے لیے ایک سیاسی خطرہ بن چکے ہیں۔اس کا ثبوت یہ ہے۔ احتساب چل رہاتھا اورجنہیں پھانسی گھاٹ تک پہنچانے کے دعوے نواز حکومت کی جانب سے کیئے جاتے رہے ہیں اچانک ہم نے دیکھا کہ وہ سب کے سب رہا کردیئے گئے۔ ابھی قوم حسین حقانی کے حالیہ ڈرامے سے سنبھلی ہی نہ تھی کہ اوپر نیچے تین ضمانتوں نے پوری قوم کو اچنبھے میں ڈال دیا مگر جو لوگ سیاست کی ذرا سی بھی سوجھ بوجھ رکھتے ہیں وہ یقیناً سمجھ گئے ہونگے کہ جہاں پیپلزپارٹی کی تنقید نے اپنا رنگ دکھایاہے وہاں(ن) لیگ کو بھی اس وقت پیپلزپارٹی کے سہارے کی اشد ضرورت تھی، ہماری ملکی سیاست میں تنقید کی سیاست زیادہ تر اپنا الو سیدھا کرنے کے لیے ہی کی جاتی ہے ،یہ نواز حکومت کی جانب سے بھرپور تعاون کی یقین دہانی ہی تھی کہ سندھ حکومت کے ایک سابق صوبائی وزیر شرجیل میمن اس ملک میں دو سال بعد اس طرح وارد ہوئے کہ جیسے وہ ایک طویل عمرے کی ادائیگی کے بعد وطن واپس لوٹا ہو،اسقدر بڑی کرپشن اور یہ شان وشوکت مجھے عمران خان کے اس بیان پر بہت ہنسی آئی جو فرمارہے تھے کہ اربوں روپے کی کرپشن میں ملوث یہ شخص اس ملک میں اس طرح واپس آیاہے کہ جیسے ورلڈ کپ جیت کر وطن واپس لوٹا ہے ، اس وقت پیپلزپارٹی والے چاہے جس قدر بھی نواز لیگ پر تنقید کررہے ہیں مگر اندر سے خاموش اتحاد کرکے عمران خان کی کامیابی کا راستہ روکنے کی پلاننگ شروع ہوچکی ہے کیونکہ عمران ان دونوں ہی بڑی پارٹیوں کے لیے سیاسی خطرہ بن چکے ہیں ،۔عمران خان نے جب سے آصف زرداری کے سرے محل کی کہانی کومنطقی انجام تک پہنچانے کی بات کی ہے اس دن سے پیپلزپارٹی کے حلقوںمیں ایک بے چینی سی پھیل گئی ہے کیونکہ یہ بات تو پوری قوم ہی جانتی ہے کہ عمران خان جس چیز کے پیچھے پڑ جائے تو اس کا شیرازہ بکھیر کر ہی دم لیتے ہیں ، مگر اب عمران خان کو زیادہ مشکلات کا سامان ہوگا کیونکہ بد عنوانوں کا اتحادان کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہوگا ،مگر پھر بھی اس بار اس اتحاد کے خلاف لڑنے یا نمٹنے کا معاملہ نہیں ہے بلکہ اس قوم کے ضمیر کو جگانے کا معاملہ ہے۔ اس قوم کی بے حسی کو ختم کرنے کا معاملہ ہے ظاہر ہے۔ کہاں چند کرپٹ حکمران اور کہاں 20کروڑ عوام کاساتھ ! بس بات صرف اس قوم کو اپنے حقوق کے لیے اٹھ کھڑے ہونے کی باقی رہ جاتی ہے۔ الیکشن کا کوئی پتہ نہیں کہ اسی سال ہوجائیں ،پانامہ لیکس کے معاملے میںاگر قدرت مہربان ہوجائے اور اپنے انجام کو پہنچ جائے تو یقیناً حالات کسی بھی اندازسے کروٹ لے سکتے ہیں۔ بات پھر یہی ہے کہ عدالت کا فیصلہ ہی کافی نہیں ہے قوم کو بھی ہوش کے ناخن لینا ہونگے جاگنا ہوگا اس قوم کو، تبھی جاکر وہ اپنے اچھے اور برے حکمران کا انتخاب کرسکیں گے۔ حکومت کے ناقص پلوں اورسڑکوں کا دکھاوا سب کے سامنے ہے مگر یہ سب کچھ قوم کو بھوکا مارکر بنایا گیا ہے لوگ بھوک سے بے حال چولہے بجھے ہوئے اور سڑکیں تعمیر ہورہی ہیں ؟مقصد یہ کہ اس ملک کی غریب عوام جگمگ جگمگ کرتی بتیاں اور ان پلوں کو ہی ملک کی ترقی سمجھیں ناکہ مہنگائی بے روزگاری خود کش حملوں دہشتگردانہ کے واقعات کو ذہن میں لائیں ۔ قومی خزانے کو اپنے بچوں کے لیے وقف کرلیا جائے اور قوم پر ٹیکسوں کا وزن ڈال کر سڑکوں کو بنادیا جائے انہیں بے روزگار کردیا جائے یہ کیسی پالیسی ہے ۔ اس قوم کو اپنا حق لینا اپنے اچھے برے کی تمیز کرنا ہوگی ورنہ اسی طرح روتے رہے گی ۔

متعلقہ خبریں