تاریخی منظر

تاریخی منظر

نہ صرف خطہ ایشیا بلکہ دنیا کے لیے رواں ماہ اپر یل تاریخ کے ایک نئے باب کو وا کر ے گا جس کے پو ری دنیا پر اثرا ت مرتب ہو ں گے جو ایشیا کے عوام کے لیے ایک اہم نوید بھی لا سکتا ہے ، مگر اس کا دارومد ار بھارت اور افغانستان کے رویو ں پر بھی منحصر ہے ، کیو ں کہ ان کا کر دار نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔چودہ اپر یل کو روس نے افغانستان میںقیا م کی غر ض سے ایک اہم ترین کانفرنس کی مہما ن نو از ی کابیڑہ اٹھایا ہے جس میں روس ، چین ، پا کستان کے علا وہ بھا رت ، افغانستان ، ایر ان کے ساتھ ساتھ امر یکا کو بھی مد عو کیا گیا تھا ، مگر امریکا نے اس کا نفرنس میں شر کت سے انکا ر کر دیا جس کا عالمی سطح ُپر امن کی خواہش مند قوت کو قلق ہو ا ہے ۔ افغانستان میں اس وقت تک پائید ار امن قائم نہیں ہوسکتا جب تک اس قضیہ میں ملوث قوتیں اپنا کر دار ادا نہ کر یں اور اس وقت امریکا افغان قضیہ کا اہم حصہ ہے۔جبکہ امر یکا کو شکست کھا جانے کے بعد افغانستان سے انخلا ء کے لیے محفو ظ راستے کی ضرورت بھی ہے ۔

جہا ںتک افغانستان کا تعلق ہے تو اس نے اس سے قبل ہو نے والی کا نفرنس میں مدعو نہ کرنے پر اعتراض کیا تھا جو درست تھا کیو ں کہ حالات کا سب سے زیا دہ متاثر تو خود افغانستان ہی ہے ۔ افغانستان کے حوالے سے بھارت کی حالت ایسی ہے کہ وہ امریکا کا چونچال لا ڈلا بے بی بنا ہو ا ہے اس لیے رو س ، چین کو افغانستان میں امن کے عمل کے لیے علا قائی ممالک کے کر دار کو بھی مد نظر رکھنا ہو گا ، امریکا اس وقت بھارت کو اس کی چاہت کے مطابق ہر قسم کا اسلحہ دے رہا ہے جس طرح اسرائیل ، آسڑیلیا ، وغیر ہ کو فراہم کرتا ہے ، اس طرح اس نے ان ممالک کو اپنے اپنے خطے میں بالا دست بنا رکھا ہے۔ چنا نچہ بھارت کو بھی خطے میں بالا دست بنا نے کی مساعی میں ہے جس کے اثرات اس خطے میں برے پڑیں گے کیو ں کہ طا قت کا توازن بگڑ کر رہ جا ئے گا ۔ ظاہر ہے ایسی صورت حال میں افغانستان اور بھارت کا رویہ امریکی مفاد ات سے ہٹ کر کیسے ہو سکتا ہے ، جب امریکا نے مجوزہ کا نفر نس کی دعوت کو رد کر دیا تھا اس وقت رو س کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔ روس کے خصوصی ایلچی نے روسی ردعمل کا اظہا ر کرتے ہو ئے کہا تھا کہ افغانستان کے امور پر کسی سے روس یا علا قے کے ممالک امریکا سے ڈکٹیشن نہیں لیں گے اس کے ساتھ ہی جو اہم ترین کا یا پلٹی وہ یہ تھی کہ افغان طالبان کے جن کی کا نفرنس میںشرکت متوقع ہے بارے میں کہا گیا کہ وہ حق بجانب ہیں اپنے مطالبہ میں کہ افغانستان سے تما م غیر ملکی فوجیں نکل جائیں۔ یہ روس کی طر ف سے طالبان کی اہم ترین حمایت ہے ، بات بھی درست ہے کہ جب تک افغانستان میںغیر ملکی فو جیں مو جو د ہیں وہا ں امن قائم نہیں ہو سکتا ۔ روس نے ایک الزام امریکا پر یہ بھی لگا یا کہ وہ کانفرنس کو سبوتاژکر نے کی ساز ش کر رہا ہے۔ ایک ایسے مو قع پر جب روس میں دنیا کے لیے ایک اہم کانفر نس منعقد ہو نے کو ہے ایسے میں بھا رت کی جانب سے چین کے ساتھ کشید گی بڑھانے کا اور کیا سبب ہو سکتا ہے ، تبت کے فرار رہنما دلا ئی لا مہ کو بھارت کے متنا زعہ علا قہ ارونا چل پر دیش کا دورہ انہی تاریخو ں میں کر ایا جا رہا ہے جن ایّا م میں افغانستان کے لیے امن کا نفرنس ہو رہی ہے ، ارونا چل پر دیش کا علا قہ جس کا اصلی نا م شمال مشرقی سرحد ہے ، چین کا موقف ہے کہ یہ علا قہ چین کا خطہ ہے ، دلا ئی لا مہ 1959ء میں تبت سے فرار ہوکر اسی خطے میں پنا ہ گزین ہو ئے تھے اور بھارت ان کے لیے ہر قسم کا سہولت کا ر بنا ، جہا ں سے انہوں نے تبت کے لیے تحریک چلائی اورکہا جا تا ہے کہ اب بھی چلا تے ہیں۔ یہ بات قابل غور ہے کہ بھارت جس نے ہنو ز ماسکو امن کا نفرنس میں شرکت کے بارے میں کوئی عندیہ نہیں دیا ہے اور وہ انہی تاریخو ں میں ایک متنا زعہ شخصیت کو ایک متنا زعہ علا قہ کا دور ہ کر ارہا ہے جس کی وجہ سے بھارت اور چین کے درمیا ن کشید گی مزید بڑھ گئی ہے ، چین نے بھی دلائی لا مہ کے دورہ ارونا چل پردیش پر کڑی تنقید کی ہے ، جس سے صاف لگ رہا ہے کہ دونو ں ملکو ں کے درمیا ن سبھا ؤ کی بجا ے مزید الجھن کو فر وغ دیا جا رہا ہے ۔ بہر حال حالا ت واقعات کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ کشید گی کے رجحا نا ت خطر نا ک ہیں جبکہ عالمی نظام میں تبدیلی آرہی ہے ، ون ورلڈ آرڈر کا خوا ب چکنا چو رہو نے والا ہے ، سابق امریکی صدر رچرڈنکسن نے امریکا کو ایک نئی فلسفیا نہ سوچ وفکر دی تھی ،ان کا کہنا تھا کہ امن قائم کر نے کے لیے خود کو اقتصادی اور فوجی لحا ظ سے بالا دست ہونا چاہیے اور اب تک امر یکا اسی ڈاکٹرائن پر عمل پیر ا تھا ، مگر اب مزید بالا دستی کے لیے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ پالیسی دی ہے کہ امریکا کو عظیم تر ہو نا چاہیے اور اس کے لیے امریکا کو اپنی عسکر ی قوت کو نا قابل تسخیر بنا نا ہوگا۔ امریکاکو حقائق کی طر ف پلٹنا ہوگا کہ جنگ عظیم دوم کے بعد ہی سے اس خواب کو پورا کرنے کی غرض سے اس نے دنیا میں ستر سے زیا دہ فوجی اڈے قائم کر کے بالا دستی حاصل کرنا چاہی ہے مگر افغانستان اور عراق میں شکست کے باوجود اب بھی اسی خواب غفلت میںمبتلا ہے ، اب روس اور چین کی قیا دت کی سوچ کے مطا بق دنیا آگے قدم بڑھا رہی ہے ، روسی قیا دت کا موقف ہے کہ دنیا سے تصادم کی منظق کو مٹا دیا جا ئے گا جبکہ چینی قیا د ت یو ں قدم بڑھارہی ہے کہ دنیا عالمی معاشرے کو باہمی روابط اور ترقی وخوشحالی کے ذریعے ایک دوسرے کو قریب لا ئیں گے ۔ایران بھی اس سو چ کی طر ف قدم بڑھا رہا ہے ۔اور ترکی نے عملاً یہ راستہ اختیا ر ہی نہیں کیا بلکہ دنیا کو دکھابھی دیا ہے ۔

اداریہ