Daily Mashriq


دہشت گردی کے خلاف قربانیاں ضائع نہ ہونے دیجئے

دہشت گردی کے خلاف قربانیاں ضائع نہ ہونے دیجئے

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ ہم نے اپنی سر زمین پر دہشت گردوں کو شکست دی جسے دنیا تسلیم کرے۔ اس جنگ میں ہزاروں جانیں قربان ہوئیں۔ فوج ‘ پولیس ‘ سیاسی جماعتیں اور عوام کی کوششوں سے ملک آج پرامن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی بار 1800 علماء نے جہاد کے معنی اور خود کش حملوں پر فتویٰ دیا۔ ہم انتہا پسندی کا مقابلہ کر رہے ہیں بہت سارے چیلنجز اب بھی درپیش ہیں۔ لیکن ہمیں آدھے بھرے گلاس کی طرف دیکھنا چاہئے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں امن کا خواہش مند ہے ہم سے زیادہ افغانستان میں امن اور کس کو عزیز ہوسکتا ہے۔ انہوں نے انتہا پسندی کا سبب بننے والی وجوہات کے سد باب کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ جمعرات کو اسلام آباد میں بین الاقوامی انسداد دہشت گردی فورم سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے جن خیالات کا اظہار کیا ان کے حوالے سے یہ عرض کرنا بجا طورپر درست ہوگا کہ دہشت گردی کے خلاف بے مثال قربانیوں اور اقدامات اپنی جگہ مسلمہ ہیں مگر متاثرہ علاقوں کی بحالی اور بے سرو سامان شہریوں کو ان کے قدموں پر کھڑا کرنے کے لئے جن فوری اقدامات کی ضرورت تھی ان سے صرف نظر کیاگیا۔ اصولی طور پر یہ حکومت کی ذمہ داری تھی کہ وہ متاثرین کی دلجوئی و بحالی کو اولین فریضہ سمجھ کر انقلابی خطوط پر اقدامات کرتی تاکہ بعض سوالات اور شکایات میں تلخی در نہ آتی۔ امر واقعہ یہ ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے آپریشنوں سے ہٹ کر جس حکمت عملی کی ضرورت تھی وہ وضع نہ کی جاسکی۔ پاکستانی سماج میں انتہا پسندی کو فروغ دینے والے عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف ڈھیلی ڈھالی کارروائیاں تو ہوئیں مگر جس طرح کی حکمت عملی اپنائی جانی چاہئے تھی اس سے صرف نظر کیاگیا۔ لاریب کچھ ممالک کے بعض الزامات محض تعصب پر مبنی ہیں لیکن بہر طور یہ دیکھنے کی ضرورت تھی اور ہے کہ امریکہ اور اس کے چند حواریوں نے اس حوالے سے جو سستی الزام تراشی کی اس کا پس منظر کیا تھا؟ 80ہزار جانوں کی قربانیوںاربوں ڈالر کے معاشی نقصان اور دیگر مسائل کسی سے مخفی نہیں البتہ یہ ضرور ہے کہ عالمی برادری اور بالخصوص اتحادیوں کو پورے سچ اور معاملات سے آگاہ کرنے کے لئے اطلاعاتی و سفارتی محاذوں پر جو کام ہونے چاہئے تھے وہ نہیں ہو پائے ۔ دوسری طرف جن علاقوں میں آپریشن ہوئے وہاں زندگی کی رونقیں واپس لانے کے لئے انقلابی خطوط پر اقدامات کی ضرورت تھی تساہل پسندی کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک مخصوص طبقہ منفی پروپیگنڈے کے ذریعے عوام الناس میں مایوسیاں پھیلانے میں مصروف ہے۔ ستم یہ ہے کہ ارباب اختیار اس معاملے کو سنجیدگی کے ساتھ دیکھنے اور بہتری کے لئے ٹھوس اقدامات کرنے سے گریزاں ہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جس کی بدولت کبھی کبھی یہ خطرہ منڈلانے لگتا ہے کہ بے پناہ جانی و مالی نقصان سے حاصل کی گئی کامیابیوں کے ثمرات حقیقی لوگوں تک نہ پہنچ پانے کی صورت میں منفی پروپیگنڈے اور بد اعتمادی کی خلیج بڑھانے والی قوتیں اپنے مقاصد کے حصول میں کامیاب نہ ہو جائیں۔ اس امر پر دو آرا نہیں کہ دہشت گردی کے خلاف فورسز کے ساتھ لوگوں کے مختلف طبقات کی قربانیاں بھی بے مثال ہیں لیکن یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ شدت پسند عناصر اب بھی نہ صرف سر گرم عمل ہیں بلکہ ان کے سہولت کاروں کے نیٹ ورک بھی چل رہے ہیں۔ چند دن قبل ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے میں دہشت گردوں کے خلاف ایک کامیاب آپریشن کے بعد ڈی پی او ڈیرہ کے کانوائے پر حملہ اور اس میں تین پولیس اہلکاروں کی شہادت لمحہ فکریہ ہے۔ یہ افسوسناک واقعہ ریاست اور دیگر طبقات کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ شدت پسند ابھی پوری طرح ختم نہیں ہوئے بلکہ وہ اس پوزیشن میں ہیں کہ پلٹ کر وارکر سکیں۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ حکومت‘ متعلقہ اداروں اور سماج کے مختلف طبقات کو باہم متحد ہو کر اصلاح احوال کے لئے جدوجہد کرنا ہوگی۔ افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے وزیر اعظم کی بات بجا طور پر درست ہے۔ افغانستان میں پائیدار امن کا قیام نہ صرف دونوں ممالک کے بلکہ خطے اور عالمی امن کے لئے بھی اہمیت کا حامل ہے۔ بد قسمتی سے انسداد دہشت گردی کی جس مشترکہ مہم کی ضرورت ہے افغان حکومت کو اس سے دلچسپی نہیں۔ افغانستان کے اندر موجود اتحادی افواج کی ترجیحات کیا ہیں اور کیا وہ دہشت گردی کا مکمل خاتمہ چاہتی ہیں یا سلگتی آگ کے سلسلے کو کسی نہ کسی طرح برقرار دیکھنے کی خواہش مند ہیں کہ موجودگی کا جواز رہے ۔ یہ وہ سوال ہے جس پر دونوں پڑوسی ممالک کے بعض اہل دانش اکثر ارباب حکومت و پالیسی سازوں کو متوجہ کرتے رہتے ہیں۔ ہماری دانست میں پاکستان اور افغانستان کی حکومتوں کو دنیا کی طرف دیکھنے کی بجائے اپنے مشترکہ مفادات‘ رشتوں اور سماجی و معاشی پہلوئوں کو مد نظر رکھتے ہوئے سرحد کے دونوں طرف شدت پسندی کے خاتمے اور حقیقی امن کی بحالی کے لئے مربوط اقدامات اٹھانا ہوں گے۔ یہ مگر اسی صورت میں ممکن ہے جب شدت پسندوں ‘ ان کے سہولت کاروں اور ٹھکانوں کے حوالے سے دونوں ممالک معلومات کے تبادلے کو انا کا مسئلہ بنانے کی بجائے اسے ملکوں کے عوام کے وسیع تر مفاد اور محفوظ مستقبل کے تناظر میں دیکھیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ چھوٹی موٹی شکر رنجیوں کو فوری طور پر ختم کرکے ہر سطح پر باہمی تعاون کو فروغ دیا جائے۔ ہمیں (دونوں ممالک کو) یہ سمجھنا ہوگا کہ جیسے افغانستان میں امن پاکستان کے مفاد میں ہے اسی طرح پاکستان کا استحکام اور ترقی خود افغانستان کے مفاد میں ہے۔ یہاں ہم وزیر اعظم سے یہ توقع کریں گے کہ کسی تاخیر کے بغیر آپریشنوں کے ذریعے دہشت گردوں سے خالی کروائے گئے علاقوں میں زندگی کے معمولات کی بحالی کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کو یقینی بنائیں گے تاکہ متاثرہ علاقوں کے لوگ آبرو مندانہ طور پر اپنے گھروں کو واپس جاسکیں اور سماجی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔ یہ بہر طور اسی صورت ممکن ہے جب حکومت متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لئے اپنے اعلانات پر عمل درآمد کو یقینی بنائے۔

متعلقہ خبریں