چیف جسٹس کا دو ٹوک اعلان

چیف جسٹس کا دو ٹوک اعلان

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے دو ٹوک انداز میں ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ الیکشن مقررہ وقت پر ہوں گے۔ عدالتی مارشل لاء یا ٹیک اوور کی باتیں لغو سوچ ہیں کچھ لوگ منصوبہ بندی کے تحت بد گمانیاں پھیلا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت‘ جمہوریت اور صرف جمہوریت ہی ہمارا حال اور مستقبل ہے۔ آئین کے ایک لفظ پر بھی آنچ نہیں آنے دیں گے۔ مارشل لاء کی حمایت کروں گا نہ توثیق۔ ملک کی سب سے بڑی عدالت کے سربراہ کو ان وضاحتوں کی ضرورت غالباً اس لئے پڑی کہ احتساب کے قانون اور نظام انصاف کا سامنا کرنے والی بعض شخصیات کے حامی اور تنخواہ دار ملازمین اٹھتے بیٹھتے بے یقینی کی پھلجڑیاں چھوڑنے اور افواہوں کو پر لگانے میں مصروف ہیں۔ ہمارے مروجہ سیاسی نظام کا باوا آدم ہی نرالا ہے دوسروں کے خلاف انتقامی کارروائیوں کو بھی قانون کی حاکمیت قرار دینے والوں کو خود جب بعض امور پر جوابدہی کے عمل سے گزرنا پڑے تو وہ بد گمانیوں کو ہوا دینے لگتے ہیں۔ مثال کے طور پر وزیر اعظم نے جمعرات کو اپنی پریس کانفرنس میں دیگر بہت ساری باتوں کے ساتھ یہ بھی کہا کہ ’’انتشار عدالتوں کے ذریعے آئے یا سڑکوں سے معیشت پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے‘‘ وزیر اعظم کے منصب پر فائز شخص جب نظام انصاف کو انتشار کا ذریعہ قرار دینے لگے تو پھر کس کس کا منہ بند کیا جائے اور کسے کہا جائے کہ ملک و قوم پر رحم کیجئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عدالتوں کے ذریعے انتشار‘ عدالتی مارشل لاء‘ متوازی نظام وغیرہ کی باتیں کرنے والے اسی جماعت کے رہنما حامی اور میڈیا منیجر ہیں جو وفاق و پنجاب کے علاوہ دو دوسرے یونٹوں میں آج بھی بر سر اقتدار ہے۔ ہماری دانست میں بے لگام الزام تراشی اور افواہ سازی سے ملک اور جمہوریت کی کوئی خدمت نہیں کی جا رہی اداروں کو متنازعہ بنانے اور ان پر جملے کسنے کی بجائے اہل اقتدار اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور نظام عدل کو اپنا کام کرنے دیں تاکہ جمہوری عمل بتدریج آگے بڑھ سکے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ طرفین اپنی ذمہ داریوں پر توجہ دیں گے۔
ایمنسٹی سکیم کا اعلان
جمعرات کو ایک پریس کانفرنس میں وفاقی حکومت کی طرف سے باضابطہ طور پر ٹیکس نہ دینے والوں کے لئے ایمنسٹی سکیم کا اعلان کرتے ہوئے بیرون ملک اثاثوں پر2فیصد جرمانہ ادا کرکے چھوٹ حاصل کرنے‘ جائیدادوں کو قانونی قرار دلوانے کے لئے 5فیصد‘ اکائونٹس پر3فیصد اور مقامی افراد کو 5فیصد جرمانہ ادا کرکے سکیم سے فائدہ اٹھانے کی پیشکش کی گئی ہے۔ ایمنسٹی کے مطابق بے نامی جائیداد ایک فیصد جرمانہ سے اپنے نام کروائی جاسکے گی۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر اعظم نے کہا کہ سیاستدان اس سکیم سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے۔ زیادہ بہتر یہ ہوتا کہ وہ یہ کہتے کہ سیاستدانوں کے خاندان کے افراد سکیم کے دائرے میں نہیں آئیں گے۔ بعض تحفظات کے باوجود اس طرح کی سکیمیں چونکہ دنیا بھر میں سامنے آتی رہتی ہیں اس لئے محض تنقید برائے تنقید کے فیشن میں پڑنے کی بجائے توقع کی جانی چاہئے کہ ٹیکس نا دہندگان اور دوسرے لوگ اس سکیم سے فائدہ اٹھا کر مالیات کے قانونی عمل کا حصہ بنیں گے۔ حکومت کے اعلان کے مطابق ایمنسٹی سکیم کا اطلاق 30 جون تک ہوگا۔ ہمیں امید ہے کہ حکومت اپنے وعدے کے مطابق کرپشن کے الزامات اور مقدمات کا سامنا کرتے سیاستدانوں اور ان کے خاندانوں کو اس سکیم سے فائدہ نہیں اٹھانے دے گی اس طرح یہ امر خوش آئند ہے کہ ٹیکس نا دہندگان کے40 لاکھ سے زیادہ مالیت کی جائیدادیں خریدنے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مالیاتی نظام کو بہتر بنانے اور ٹیکس نیٹ ورک کادائرہ وسیع کرنے کے لئے ایسے موثر اقدامات کئے جائیں جن سے کرپشن ‘ کمیشن اور چور بازاری کے دروازے ہمیشہ کے لئے بند ہو سکیں۔

اداریہ